لبرل لاجک کا المیہ

تحریر : شمس الدین امجد
اسلام آباد میں آج ہزاروں لوگ جمع ہوئے ، کہیں توڑ پھوڑ کی کیفیت بھی پیش آئی اور اس کا الزام مظاہرین کے سر ہے اگرچہ اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصر نے کیا تاکہ مظاہرین کو بدنام کیا جائے لیکن صورت جو بھی ہو، جلائو گھیرائو یا توڑ پھوڑ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ پرامن احتجاج اصل طاقت ہے اور اپنے مطالبات منوانے کےلیے وہی مئوثر بھی، پر تشدد تحریکوں اور احتجاج کا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر ہائی جیک ہو جاتی ہیں، احتجاج کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور پھل کوئی اور کھا جاتا ہے۔
ایسے مواقع پر مگر ہمارے ہاں کے فیک لبرلز کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
آج جو کچھ اسلام آباد میں ہوا، اسے مذہب سے جوڑا جا رہا ہے، مذہب اور اہل مذہب پر پابندی اور سیکولرزم کے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے۔ اور یہ مطالبہ اس حقیقت کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ اس میں اہل مذہب کیا خود بریلوی مسلک کا سواد اعظم بھی شامل نہیں ہے اور احتجاج کرنے والے بھی تشدد سے انکاری ہیں۔
زیرنظر تصویر 27 دسمبر 2007 کی ہے جب بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد بسوں ٹرینوں کاروں اور نجی املاک کو جلا دیا گیا تھا، ریلوے پٹڑیاں اکھاڑ دی گئی تھیں، ملک میں افراتفری کا سماں تھا، پاکستان نا کھپے کے نعرے تھے اور ملک کو 10 ارب سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ نہیں معلوم کہ کسی لبرل نے اس وقت پیپلزپارٹی اور سیکولرازم پر پابندی کا مطالبہ کیا، دبے لفظوں میں اس کی مذمت ہی کی ہو۔ کئی ایک تو اسے جائز ردعمل کہہ کر اس کی وکالت کرتے پائے گئے تھے۔ ظاہر ہے ایک غلطی کو دوسری غلطی کےلیے جواز نہیں بنایا جا سکتا مگر آپ کا اپنا طرزعمل منافقت اور دوغلے پن کا شکار نہیں ہے۔
اگر آپ اپنی طرف کے شہتیر کو غائب اور اہل مذہب کے تنکے کو پہاڑ بنا کر پیش کریں گے تو کون آپ کی بات پر یقین کرے گا اور کیونکر آپ کو مخلص جانے گا۔ ایم کیو ایم تین دہائیوں سے سیکولرزم کے نام پر خون کی ہولی کھیل رہی ہے، کیا آپ کی زبانیں گنگ نہیں رہیں ، اور ایک لحاظ سے اسے آپ کی تائید نہیں رہی کہ چلیں اسلام کا نام لینے والی جماعت اسلامی کی جگہ لے رہی ہے۔
بلوچستان کے علیحدگی پسند سیکولر ہیں، را سے ملے ہوئے ہیں اور آپ ان کے وکیل صفائی ہیں۔
اگر کوئی حقیقی تبدیلی مقصود ہے، برداشت کو فروغ دینا ہے، مکالمے کی فضا پیدا کرنی ہے اور معاشرے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنا ہے تو اس دوہرے معیار کو خیرباد کہیے، مذہب اور اہل مذہب سے اپنی نفرت اور بغض و عناد کو ختم کیجیے اور آگے بڑھیے۔ ایسے کسی بھی موقع پر جب قومی اتفاق رائے کی صورت بنتی نظر آتی ہے، آپ کا یہ دوغلاپن اور مذہب سے نفرت کا اعلانیہ اظہار اس میں رخنہ ڈال دیتا ہے

1 تبصرہ
  1. 28 March, 2016
    میرا فسر امان

    یہ سب اسلام دشمنوں کا کیا دھرا ہے۔ ۔ ۔ اسلام کا جلائو گھیرائو سے کوئی تعلق نہیں۔ ۔ ۔ مضمون نگار کے مطابق منتطمین نے بھی اس کی تردید کی ہے۔ ۔ ۔ جلائو گھیرائو کی کسی صورت تاہید نہیں کی جا سکتی۔ ۔ ۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *