شیطانيت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندہ کرلوں

تحریر : اسریٰ غوری

بات تو چلی تھی نامحرم عورت سے مصافحہ کو جائز قرار دینے سے … اور غامدی صاحب کی زنبیل سے نکلنے والا یہ کوئی پہلا فتویٰ تو تھا نہیں ، نئی نسل کے لیے ان کے دیے پہلے بھی کئی تحفے موجود تھے، اور ہر تحفہ پہلے والے سے کچھ انوکھا ہی ہوتا ہے
مگر اس فتویٰ کے کیا کہنے، زمانہ سوشل میڈیا کا ہے اور ہر کوئی اپنے کہنے میں آزاد ہے تو اسے فتنے کا روپ دھارنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی۔
استاد کے تو کیا کہیے مگر شاگردان نے جس ذوق و شوق سے اس میں حصہ لیا اور سیکولر و ملحدین نے اس پر جو اودھم مچایا، الامان و الحفیظ ، شیطان بھی اپنے شاگردوں کی مجلس میں بڑا پریشان ہوگا اور اپنے شاگردوں کو کوس رہا ہوگا ، تم سے تو وہ شاگرد اچھے، ناک کٹوا دی میری استادی کی ، تمھاری نالائقی سے تو لگتا ہے جیسے اس دنیا کو اب میری ضرورت نہیں رہی.
کہیں شیطان بھی اپنی نااہلی ہر پچھتا رہا ہوگا
کہ

اب جھجکتا ہے نہ ڈرتا ہے نہ شرماتا ہے

نت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے

اب یہ ظالم میرے بہکاوے میں کب آتا ہے

میں بُرا سوچتے رہتا ہوں یہ کر جاتا ہے

کیا میں اس کی ہی مریدی کا ارادہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر

میرے شرسے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر

شیطانيت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

استاد کے اک غلط فتویٰ کی وکالت میں شاگرد اس قدر آگے بڑھ گئے کہ اپنی دیواروں پر لونڈیوں کے بازار سجا لیے… “محصنات ” اور لونڈی کے فرق کو مٹاتے اور یہ منڈیاں لگاتے انہیں زرا حیا نہ آئی کہ وہ کس دین کے پیروکار ہیں جس میں حیا کو ایمان کی شاخ قرار دیا گیا ہے ۔۔۔ مگر کیا ہی سچ کہا سرور دوعالم نے کہ “جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمہارا جی چاہے وہ کرو ”
ان شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفاداروں نے مکہ کی گلیوں ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگیوں اور فقہائے کرام کے فتووں کا وہ نقشہ کھینچا کہ مستشرقین بھی شرما کر رہ گئے، انھیں بھی افسوس ہوا ہوگا کہ ایسے نکات ہم سے چھپے کیسے رہ گئے، ہم نے سب ٹٹول ٹٹول کر کیوں نہ چیک کیا اور یہ سب لکھ کر کوئی نوبل پرائزکیوں نہ حاصل کیا کوئی ڈاکومینٹری بنا کر کوئی آسکر ایوارڈ ہی لے لیتے ۔۔۔۔
کیا کہیے کہ جدید اسلام کے علمبرداروں نے اسلام پر وہ سنگ ریزی کی کہ دشمن کی صفوں میں کئی دن جشن کا سماں رہے گا ۔۔۔ ملحدین کی خوشی اور ٹھٹھہ و مذاق سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے مکے کی ہر گلی میں بس لونڈیوں کے بازار لگے ہوتے تھے جہاں ہادی امت ﷺ کے ستارے بس لونڈیوں کے جسموں کی چھانٹ پھٹک کرتے اور ان کی سودے بازی میں مصروف رہتے یا ان کی مجالس میں موسیقی و رقص سے لطف اندوز ہوتے .. چار کتابوں کی ورق گرادنی کر ہی لی تو یہ حق کیسے مل گیا کہ پورے ذخیرے سے چند جملے نکال ان ہستیوں کے لیئے اپنے تعفن زدہ قلم سے بھبھکے اڑائیں ۔۔۔ جب آپ کو احادیث کا ذخیرہ ہی مشکوک نظر آتا ہے تو ان روایات میں شک کی رعایت کیوں نہ دی ۔ حضرت ابوہریرہ کا تو آپ کی مجالس میں مذاق اڑایا جاتا ہے، صحیح احادیث کو تو آپ رد کر دیتے ہیں، تو اس رطب و یابس کو رد کرنے میں کیا مسئلہ درپیش ہو گیا ۔

یہ روایتیں پیش کرنے والوں کی آنکھوں میں اس وقت سلائی کیوں پھر جاتی جب حدیث یہ منظر بیان کرتی ہے کہ
” (حجۃ الوداع میں ان کے بھائی) فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے کہ اسی دوران میں خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس کی طرف اور وہ فضل کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب کر دیا۔”.
اسلام پر سنگ باری کرنے والے اس وقت اپنی آنکھوں کی بینائی کو کہاں رہن رکھ آتے ہیں جب داعئ اعظم ﷺ ایک خواجہ سرا کی باتیں سننے کے بعد اپنے گھر کی خواتین سے پردہ لازم قرار دے دیتے ہیں …
ان فتووں کے ماہروں کے دیدوں کا پانی کہاں کھو جاتا ہے جب آقا فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کے ساتھـ خلوت سے اجتناب كرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھـ میں میری جان ہے، جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھـ اکیلا ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان شیطان داخل ہوجاتا ہے”
ایک اور جگہ فرمایا :
“کسی آدمی کا مٹى یا گارے سے لت پت خنزیر کے ساتھـ کھڑا ہونا بہتر ہے اس بات سے کہ کسی ایسی عورت کے شانہ بشانہ کھڑا ہو جو اس کے لیے حلال نہيں ہے۔”
اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے،
امام بخاری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ: نبی ﷺ عورتوں سے بذریعہ کلام بیعت لیا کرتے تھے اس آيت میں مذکور امور پر: ﻛﮧ ﻭﮦ ﺍللہ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻛﺴﯽ ﻛﻮ ﺷﺮﯾک ﻧﮧ ﻛﺮﯾﮟ ﮔﯽ اور کہتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھـ نے کسی عورت کے ہاتھـ کو مس نہیں کیا سوائے اس عورت کے جو آپ کی زوجیت میں ہوتی ۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی سے ماراجانا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔
اسی طرح ایک اور حدیث ہے جسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے کہ
” يقينا ہاتھـ کا زنا اس سے کسی عورت کو پکڑنا ہے”
سوچنے کی بات ہے کہ جو دین نامحرم کے لیے اگلی نگاہ کی اجازت نہیں دیتا ، خلوت کی اجازت نہیں دیتا .. وہ دین عورتوں سے مصافحے کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے …
جس دین میں عورت کو “محصنات ” کہہ کر پکارا گیا اور ان کی اور لونڈی کی سزائوں تک میں فرق رکھا گیا ہو وہاں آپ نے پورے معاشرے کی ان محصنات کو لونڈیاں بنا دیا…
خدارا اپنے گھر کی عورتوں کے لیے جو چاہیں پسند کیجیے مگر اس نئی نسل پر رحم کیجیے۔ یہ نسل گناہ گار سہی مگر اسے بے غیرت مت بنائیے۔۔۔
اس میں احساس گناہ کو زندہ رہنے دیجیے ۔۔۔۔
گناہ کو گناہ سمجھنے دیجیے،۔۔۔
ان کے لیے استغفار کے در بند مت کیجیے۔۔۔
جن کاموں کو گناہ سمجھ کرصرف اپنے نفس کے غلبے کی بناء پر کرجاتے ہیں ان گناہوں کو اپنے فتووں کی چھتری مت پہنایئے۔۔۔
وہ گناہ جو یہ چھپ کر کرتے ہیں مگر میرا یقین ہے کہ یہ کسی لمحے تنہائی میں رب سے اس پر شرمندہ بھی ہوتے ہیں اور توبہ بھی کرتے ہیں ان کے لیے توبہ کا وہ در کھلا رہنے دیجے …
کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیں اور آپ کو اپنے ساتھ پوری قوم کے گناہوں کا جوابدہ ہونا پڑے ۔۔۔۔
یاد رکھیئے ۔۔۔!!
کوئی معاشرہ یا قوم گناہوں سے پاک نہیں ہوتی مگر یہ گناہوں کا احساس اور توبہ کی تڑپ ہی ہے جو عذاب صادر ہوجانے کے بعد بھی قوم یونس پیدا کرتی ہے جو اپنی توبہ سے اور رجوع سے رب کی رحمت کو پا لیتی ہے ۔۔۔۔
جب قومیں اور معاشرے اپنے گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ کبھی قوم عاد اور ثمود کی طرح اٹھا کر پھینک دیے جاتے ہیں اور کبھی قوم لوط بنا کر رہتی دنیا تک لیے باعث عبرت بنا دیے جاتے ہیں ۔

2 تبصرے
  1. 27 April, 2016
    فیاض

    مغرب کے لیے قابل قبول بننے کے چکر میں ان کی تہزیب سے مرعوب جدیدیت پسند مفکرین اسلام کو موم کی ایسی ناک بنا رہے ہیں جس کو جب چاہیا جس صورت میں چاہا ڈھال لیا،

    Reply
  2. 27 April, 2016
    حسن تیمور جکھڑ

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔۔۔ اس میں اخلاقیات کے وہ اصول بیان کردئیے گئےہیں جو تاقیامت کسی صدی کےبھی معاشرے کوترقی یافتہ /تہذیب یافتہ بنانے کےلیے بنیادی اصولوں کی حیثیت رکھتےہیں ۔۔۔
    آپ خود سوچیئے کہ وہ کسی ایسے اقدام کی اجازت دیگا جو برائی پھیلانے کی وجہ بن سکے ؟؟؟ یا جس کےباعث شرپھیلنے کاخدشہ ہو؟؟؟ اتنا جواب ہی کافی ہے میرے خیال میں ان لوگوں کےلیے جو من گھڑت تاویلیں گھڑرہےہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *