میں ابھی ان کے ساتھ گھر میں داخل ہی ہوئی تھی، مین گیٹ سے لاؤنج تک برتے جانے والے سلیقے سے میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی، جیسے ہر چیز پکار پکار کر متوجہ کر رہی ہو کہ گھر کے مکین ” ویل مینیجڈ ” ہیں۔
وہ بھی میری سراہتی ہوئی نگاہوں سے بڑے خوش تھے۔
ابھی ہم لاؤنج میں بیٹھے ہی تھے کہ چھ سالہ بھتیجا بھاگتا ہوا آیا اور اک دم درمیان پڑے ریگ پر رک گیا، اس کی نگاہیں اک جگہ جم گئی تھیں، میں حیران سی اس کی نگاہوں کا تعاقب کرنے لگی تو دیکھا کہ باپ نے بیٹے کے جوتوں کی جانب گھور کر دیکھا تھا، بس اسی عمل نے بچے کے چہرے سے ہنسی کھلکھلاہٹ سب چھین لیا تھا۔ وہ اک لمحے کو رکا ، واپس مڑا اور باہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد دوبارہ اندر آیا تو اب اپنے جوتوں اور موزوں کے بغیر تھا، اور ہاتھ منہ دھلا ہوا تھا ۔۔ اچانک احساس ہوا کہ یہاں صرف بے جان اشیا ہی نہیں بلکہ انسان بھی ” ویل مینیجڈ ” ہوتے ہیں ۔۔۔
مگر مجھے یہ طریقہ بھایا نہیں ، ہلکے سے انداز میں یہ جتایا بھی کہ ایسے بچوں کے احساسات کو دبانا درست نہ، اگر میں ہوتی تو یوں پیار میں ڈوبے بھاگتے ہوئے آنے والے بچے کو پہلے ڈھیر سارا پیار کرتی، پھر منہ دھونے بھیجتی ۔۔۔
اس طرف سے جواب آیا :
تمہاری بات درست ہے مگر ہم نے اپنے گھر کے لیے کچھ اصول و ضوابط بنائے ہیں اور تم گھر کی اک اک چیز میں جو ترتیب دیکھ رہی ہو، وہ ہمارے انھی اصولوں کی پابندی کی وجہ سے ہے۔ اور جب کبھی ان میں کوئی گڑبڑ ہوئی تو اس ساری ترتیب کو بے ترتیب ہونے میں کوئی دیر نہیں لگے گی ۔
میں خاموش ہوگئی کہ بحث کا کوئی موڈ نہیں تھا ۔

اگلے دن ان کا آفس دیکھنے جانا تھا، گھر سے نکلے تو وہ راستے میں اپنے دفتر اور اپنی مینجمنٹ کی تعریفیں کرتے رہے کہ کس طرح انھوں نے اتنی بڑی کمپنی کو سنبھالا ہوا ہے کہ کہیں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوتی ۔۔۔
ہم اک گیٹ کے سامنے سے گزر رہے تھے، بڑے حروف میں کمپنی کا نام لکھا تھا ۔ میں چونک کر بولی یہ دیکھیں آگئی نا آپ کی کمپنی ۔۔۔
بھائی بہت پرسکون بولے اس گیٹ سے نہیں جانا، ہم دوسرے گیٹ سے جاتے ہیں جو روڈ کی دوسری سائیڈ پر ہے۔ سال کے چھ ماہ یہ گیٹ کھلتا ہے اور چھ ماہ دوسرا کھولا جاتا ہے یہ بند کردیا جاتا ۔ میں نے کہا کیوں یہ کیوں نہیں الاؤ، اتنی دور گیٹ بنانے کی کیا ضرورت جبکہ آفس کا اکثر اسٹاف اسی کالونی میں رہتا جس میں آپ رہتے ہیں۔
وہ بولے بس یہ کمپنی کا اختیار ہے وہ جو گیٹ چاہے کھولے، ہم اس معاملے میں اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں۔
مزید بیس منٹ کے بعد وہ گیٹ آیا، ہم اندر داخل ہوئے تو مجھے ایک روم میں بٹھا دیا گیا جہاں مہمان بٹھائے جاتے کیونکہ میرا آفس جانا الاؤ نہیں ۔۔
مہمان ایریا میں بڑا سا بورڈ لگا تھا جہاں کمپنی کی جانب سے مہمانوں کے لیے واضح ہدایات تھیں جس میں
٭ نو سموکنگ ( سگریٹ نوشی منع )
٭ نو لاؤڈ سپیکنگ ( تیز آواز میں بات کرنا منع )
٭ نو فوٹو گرافی ( تصاویر لینا منع )
جیسی کئی ہدایات تھیں ۔
کافی دیر ایسے بیٹھے بیٹھے گھبراہٹ اور بوریت ہونے لگی تو میں نے انھیں کال کی، سیل بند تھا ۔۔ یاد آیا کہ سیل آفس میں جاتے ہوئے بند کر دیا جاتا ہے ۔ اب صرف ایک ہی حل تھا کہ انتظار کیا جاتا۔ دیر بعد وہ آئے تو بلکل نارمل انداز میں بولے چلو میں نے مشکل سے آج کی ہاف ٹائم لے لی ہے، باہر چلتے ہیں، تمہیں کچھ جگہیں
گھماتے ہیں سارہ ( ان کی بیوی اور میری بھابھی ) کو بھی ساتھ لے لیں گے ۔

باہر نکلے، اک سڑک سے گزررہے تھے کہ وہ بولے دیکھو وہ سارہ کا آفس ہے، اب ہم اگلی روڈ سے گھوم کر یہاں آئیں گے۔ میں نے کہا اگلی روڈ تو بہت لمبا چکر ہوگا، آپ یہاں گاڑی پارک کرکے اسے کال کردیں۔ باہر آجائے ہم اسے یہیں سے پک کرلیں گے ۔۔۔ وہ مسکرائے اور طنزیہ انداز میں بولے یہ کوئی پاکستان نہیں ہے۔ یہاں اک لمحہ کو گاڑی نہیں روکی جا سکتی۔ ہمیں واپس گھوم کر آنے میں گھنٹہ بھی لگے تو بھی ہمیں وہی فالو کرنا ہے ۔ میں جو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی بولی یہ کیسا قانون ہے؟ ان کا دل کرے تو یہ ایک گیٹ بند کردیں، دوسرے سے جائو اور ان کا دل کرے تو یہ کسی سڑک پر گاڑی تک نہ روکنے دیں
وہ بولے ۔۔۔ یہ ان کا ملک ہے اور ان کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں قانون بنائیں اور اس ملک میں رہنے والوں کو یہ قانون فالو کرنا پڑے گا اور سب سے اہم بات کہ یہ جو تم یہاں ایک پورا کا پورا معاشرہ ہی ” ویل مینجڈ ” دیکھ رہی ہو، یہ اسی کا مرہون منت ہے کہ سب اس قانون کو فالو کرتے ہیں۔ اگر یہاں ہر اک اپنی اپنی راگنی گانے لگے تو یہ سب نظام درہم برہم ہوجائے ۔۔
شام ہوچکی تھی ہم سب گھر لوٹے تو ٹی وی چینل چینج کرتے کرتے ایک پاکستانی چینل پر روک دیا جہاں اک ٹاک شو چل رہا تھا اور ایک صاحب علم سے سیکولزم پر گفتگو کرنے کا کہا گیا تھا ۔۔ وہ صاحب تو ابھی بولے بھی نہ تھے کہ ہمارے ساتھ بیٹھے بھائی صاحب نے جوش و غصہ میں آکر ٹی وی بند کردیا پہلے تو سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ۔۔۔
پھر وہ خود ہی غصہ میں بولے یہ گدھے ہیں، انسان کو پابند کرنے چلے ہیں، مذہب کون ہوتا ہے انسان کو پابند کرنے والا، انسان آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی آزادی کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔
میرے کانوں میں انہی کے جملے گونج رہے تھے کہ ” یہ جو تم میرے گھر ی اک اک چیز ” ویل منیجڈ ” دیکھ رہی ہو یہ میری ان ہی اصولوں کی پابندی کرنے کی وجہ سے ہیں اگر اس گھر میں سب اپنی اپنی کرنے لگیں تو یہ ترتیب لمحوں میں بے ترتیب ہوجائے ”
میں حیران سی دیکھنے لگی کہ
کیا یہ وہی شخص ہے جو اپنے چھ سالہ بیٹے کو اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کا پابند کرتا ہے اسکے عوض وہ اسکی معصومانہ ہنسی تک سلب کرنے سے نہیں چوکتا ۔
کیا یہ وہی ہے جو چند ڈالرز کی خاطر خود ایک کمپنی کے بنائے اصولوں کا پابند بننے پر خوش ہے ۔
اور کیا یہ وہی شخص ہے جو ایک ملک میں رہنے کے بدلے میں وہاں ہر طرح کے قوانین کو فالو کرنے پر مجبور ہے اور اپنی اس مجبوری پر اس قدر مطمئن بھی ہے ۔۔
سوالات کا جواب ہاں میں تھا
مگر یہ یہ کیسا المیہ ہے کہ جس کی بنائی ہوئی کائنات میں رہتے ہیں، اس کے بنائے ہوئے نظام حیات کے پابند ہونے سے انکاری ہیں
جو اختیار یہ صرف اک گھر کے سربراہ ہونے کے ناتے خود اپنے لیئے چاہتے ہیں
ایک کمپنی کا مالک ہونے کے ناتے اپنے باس کو دیتے ہیں
اور اک ملک کاشہری ہونے کے ناتے اس ملک کو دیتے ہوئے زرا نہیں مچلتے مگر وہی اختیارات یہ اپنے اور اس کائنات کے خالق کو دیتے ہوئے کیوں مچل مچل جاتے ۔۔۔
انسانی آزادی کے نام پر یہ کیسی منافقت ہے اور یہ کیسا دھوکہ ہے جو صرف مذہب کے نام پر جاگ اٹھتا اور ہر پابندی سے انکار کروا دیتا ہے ۔۔
خیال آیا کہ یہ دنیا اسی لیے تو ” ویل مینجڈ ” نہیں ہے کہ یہاں آپ کائنات کے اصولوں کو فالو نہیں کرتے بلکہ اس میں اپنی مرضی کے رخنے ڈالتے ہیں ، جب آپ ایسا کرتے ہیں تو دنیا ہر سو بے ترتیب اوربکھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر کیا کیجیے کہ اس کا ادراک کس کو ؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *