غامدی صاحب کے افکار پر تنقید اور شاگرد – اصل مسئلہ کیا ہے؟ حصہ دوم

تحریر : شمس الدین امجد

اصلا تو یہ بات ہے ہی نہیں کہ غامدی صاحب نے کوئی نئی بات کہی ہے تو قابل گردن زدنی ہیں اور انھیں دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہیے، ابھی تک تو اس ساری بحث میں کوئی ایسی کوئی بات نظر سے نہیں گزری ۔ نہ کسی نے یہ کہا ہے کہ فقہا نے کسی معاملے میں رائے پیش کی ہے تو وہ حرف آخر ہے، ان سے اختلاف نہیں ہو سکتا اور ایسی جسارت کرنے والا کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔

فقہ ارتقا اور تسلسل کا نام ہے اور ہے ہی اس لیے کہ ہر زمانے میں پیش آنے والے نئے سے نئے مسائل کو سامنے رکھے اور قرآن و سنت کی روشنی میں تطبیق پیدا کرتے ہوئے اس کا جواب دے۔ آپ چاہیں جس فقیہ پر تنقید کریں ، جس کی رائے سے اختلاف کریں، چاہیں تو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیں، کس نے اس کا برا منایا ہے یا منع کیا ہے جو بار بار یہ دلیل بطور دفاع استعمال ہو رہی ہے۔ اختلاف کوئی ایسی بری چیز ہوتی تو انھی فقہا میں استاد اور شاگرد کا اختلاف تو بالکل نہ ہوتا۔ شاید ہی کوئی شاگرد ایسا ہو جس نے تمام مسائل میں اپنے استاد کی رائے سے اتفاق کیا ہو۔ کسی نہ کسی مسئلے میں رائے سے اختلاف ہو جاتا ہے اور ہوا ہے۔ اور پھر یہ تو کوئی ایمان و عقیدے کا مسئلہ ہے بھی نہیں کہ اس پر کفر و ایمان کا معرکہ لڑا جائے، اسے گھمسان سے تشبیہ دی جائے اور تاک تاک کر نشانے بازی کی جائے اور اس پر داد کا طالب ہوا جائے۔ یاد آیا کہ ہمارے وہ سیکولر دوست اور ملحدین بھی اس بحث سے خاص قسم کا مزا کشید کر رہے ہیں یا کہیے کہ چس لے رہے ہیں جو بالعموم ایمان و عقیدے کے مباحث پر بھی یہ کہہ کر تنقید کرتے ہیں کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور مولویوں کو دیکھو کس مسئلے پر بحث کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی محل نظر ہے کہ غامدی صاحب کے جواب میں فقہا و محدثین کو اکابر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گاہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم کو بھی اس میں شامل کر لیا جاتا ہے جیسے وہ غامدی صاحب کے ہم عصر اور فی زمانہ موجود ہیں، ان کے مقابلے میں افکار پیش کر رہے ہیں، ان کے چاہنے والے غامدی صاحب پر تنقید کر رہے ہیں اور ان پر لگی چوٹ سے ان کو تکلیف ہوگی۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، وہ کسی فرقے یا مکتب فکر کے نہیں امت کے اکابر ہیں، ان کی اکابریت بھی مگر اب کتابوں تک رہ گئی ہے، عام لوگ تو ان کے نام بھی نہیں جانتے، ان کے افکار سے بھی واقف نہیں۔ ان پر تنقید سے کیا مشتعل ہوں گے۔ اکابر کے نام پر غصہ دلانا ہے تو غامدی صاحب کے ہم عصروں پر چوٹ کیجیے۔ جنھیں آپ دوسروں کے اکابر کہہ رہے ہیں، وہ تو آپ کے بھی اکابر اور علم و تحقیق کا منبع ہیں، اگلے لفظوں میں آپ بھی انھیں اپنا اکابر کہہ کر اس کا اعتراف کرتے ہیں۔

اس بحث میں اصل نکتہ یہ ہے کہ فقہا و محدثین کو ایک طرف رکھیے صحابہ کرام کو بھی اپنے جیسا انسان قرار دے کر جب آپ تنقیدی آرا پیش کرتے ہیں اور اس پر برداشت کی تلقین بھی کرتے ہیں تو غامدی صاحب کے افکار پر تنقید سے آپ کی برداشت کیوں جواب دے جاتی ہے۔ جب صحابہ کرام کے الفاظ و معاملات پر اخیر کر دتی جے یا فقہا کو اس لذیذ موضوع کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا تھا، جیسے کمنٹس دیکھنے کو ملیں ، اس سے حظ اٹھایا جانے لگے، ملحدین اس پر چسکے لیں اور ایک لحاظ سے اس پر لڈیاں ڈالیں اور زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ فقہا کو تو چھوڑیے، دیکھیے ان کے صحابہ بھی کس قماش کے لوگ تھے، تو لوگ اس کا جواب کیوں نہ دیں گے۔

استاذ کے معاملے میں آپ کے برف جیسے ذہن اشتعال کا شکار ہو کر پگھلنے لگتے ہیں اور ردعمل سے ایسے لگتا ہے جیسے ان کی تقدیس حرمت کے درجے میں چلی گئی ہے تو دوسروں پر اعتراض کیوںکر کیا جا سکتا ہے۔ فقہا و محدثین اور صحابہ کرام بھی ہمارے جیسے انسان ہیں اور تنقید سے مبرا نہیں ہیں تو استاذ کب سے فرشتہ ہو گئے کہ ان کے افکار پر تنقید نہ کی جا سکے یا یہ کہا جائے کہ تنقید اور اختلاف کرنے کےلیے ان کے شاگرد کافی ہیں ، دوسروں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا (شاگردوں کی پوسٹس اور کمنٹس سے یہ احساس ہوا ہے)۔ استاذ کو بھی انسان سمجھیے اور تنقید برداشت کیجیے۔ یہ دھمکی نما دعوی کہ استاذ پر تنقید ہوئی تو اکابر یعنی کہ فقہا اور ایک درجے میں صحابہ کرام کو بھی بیچ چوراہے کھڑا کر دیں گے اور ایسے بیان کریں گے کہ منہ چھپانا مشکل ہو جائے گا (بار بار کے دعوے اور پوسٹس سے تو یہی سمجھ میں آتا ہے) بذات خود کمزوری کی دلیل ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ غلطی تو تسلیم کر رہے ہیں مگر اس پر تنقید کا حق نہیں دے رہے اور جواز یہ ہے کہ فلاں محدث اور فلاں فقیہ سے بھی تو اسی طرح کی غلطی ہوئی ہے اور اس نے فلاں صحابی کے واقعے سے استنباط کیا ہے تو اصلا غلطی کے مرتکب تو وہ صحابی بھی ہیں، پہلے ان سے نمٹ لو یا برات کا اظہار کر دو پھر اس طرف آنا ۔ فقہا نے اپنے زمانے، وقت اور حالات کے اعتبار سے استنباط کیا ، فتوے دیے، بعض قابل قبول ہوئے، بعض نہیں ہوئے اور ایک رائے کے طور پر رہ گئے، بعد کے زمانے میں کسی نے انھیں دلیل نہیں بنایا۔ مگر کیا یہ بات درست نہیں کہ خود انھی کے زمانے میں اگر کسی کو فتوی غلط محسوس ہوا تو اس سے اختلاف کیا گیا اور مقابلتا فتاوی جاری کیے گئے۔ جس کے دلائل مضبوط تھے وہ آج تک مقبول ہے جس میں کمزوری تھی، اسے خود اس زمانے میں قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔

غامدی صاحب کی آرا میں بھی قوت ہوئی تو جلد یا بدیر قبولیت عامہ حاصل ہو جائے گی (میڈیائی قوت کے بےتحاشا استعمال کے باوجود اب تک تو نہیں ہو سکی ہے) اور نہ ہوئی تو تاریخ میں ایک رائے کے طور پر پڑی رہ جائیں گی مگر ذرا حوصلہ کیجیے، انھیں بھی ہمارے جیسا انسان سمجھیے اور ان کے افکار پر تقنید کا کا حق دیجیے اور برداشت کیجیے۔ جواب دینا ہے تو دلیل اور ٹھنڈے دماغ سے دیجیے (جواب جو کہ اب تک نہیں آیا)، سیاستدانوں جیسا لب و لہجہ نہ اپنائیے کہ پہلے اپنی کرپشن کا حساب دو، پھر ہم سے بھی لے لینا۔ ہمارے سکینڈل پر بات کرو گے تو تمھارے بھی میڈیا میں اچھالیں گے۔ یہ رویہ سیاستدانوں کو زیبا ہے، علم و تحقیق سے شغف رکھنے والے حضرات علمائے کرام کو نہیں۔

لونڈیوں کے معاملے میں فقہا سے جہاں غلطی ہوئی ہے یا اسلام ان کے ساتھ سلوک میں جس زیادتی کا مرتکب ہوا ہے، یا شرع نے جہاں نا انصافی کی ہے تو تحقیق کیجیے اور اسے واضح کر دیجیے، ایک کتاب اگر اسی موضوع پر ہو جائے تو سارا معاملہ الم نشرح ہو جائے، اس میں کوئی رکاوٹ ہے نہ کسی نے فقہا کی کمزوریوں کو اجاگر کرنے سے منع کیا ہے بلکہ اسے آپ کی علمی خدمت کے طور پر یاد رکھا جائے گا، مگر استاذ کے دفاع میں اسے دلیل بنائیں گے تو اسے اشتعال پر مبنی ردعمل سمجھا جائے گا، جواب نہیں۔ اس پر تحقیق کے موتی رولنے کا موقع تو ہر وقت کھلا ہے، پہلے بھی بعد میں بھی، خاص موقع پر بالخصوص دھمکی دے کر کیوں اس کا استعمال کیا جائے اور اپنے تئیں گرد اڑا کر اصل مدعے پر بات کرنے سے کیوں پہلوتہی کی جائے۔ آپ کے نزدیک ان کی بات درست ہے تو اپنے دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیجیے۔

یہ بات درست ہے کہ غامدی صاحب پر تنقید میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا چاہیے نہ فتوے کی زبان میں بات کی جانی چاہیے مگر جب تسلسل سے تفردات سامنے آئیں گے (جو کہ ان کا حق ہے) تو جواب بھی اسی تسلسل سے آئے گا۔ شاذ رائے کے مقابلے میں زیادہ آرا کا سامنے آنا فطری ہے، ایسے میں شدت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے مگر اس سے گھبرائیے نہیں نہ وہ رویہ اختیار کیجیے جو بوکھلاہٹ محسوس ہوتا ہے۔ جواب دینے والے بھی انسان ہیں، علم و جذبات میں یکساں نہیں ہیں، زبان و بیان میں اونچ نیچ ، شدت یا سختی ہوگی، اپنے اصول کے تحت اسے برداشت کجیے۔

2 تبصرے
  1. 26 April, 2016
    میرا فسر امان

    جزاکاللہ

    Reply
  2. 4 May, 2016
    sadaf

    brilliant post…answers every aspect of the vile and vulgar attitudes adopted by some so called students of so called progressive scholars…and that too in the most civilised manner.May Allah increase in the gift of writing. amen

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *