اسلام اور غیر مسلم کی تعزیت

تحریر :  فضل ہادی حسن

کیا اسلام مسلمانوں کو غیر مسلموں کی خوشی و غمی کے موقع پر شرکت اور ہمدردی کے اظہار سے روکتا ہے؟؟؟

ایک ایسا سوال جو لاعلمی کی وجہ سے ایک الجھن و اشکال کی صورت اختیار کرچکا ہے اور جواب طلب بھی ہے۔ بلکہ چند روز پہلے میرے آبائی ضلع ’بونیر سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی آنجہانی سردار سورن سنگھ کی مظلومانہ موت کے موقع پر لوگوں کی تعزیت پر کچھ سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔

اس معاملے میں میرے خیالات درج ذیل ہیں:
1- اسلام مسلمانوں کو کسی غیر مسلم سماجی تعلقات رکھنے اور ان کے ساتھ لین دین سے نہیں روکتا… اسی طرح خوشی و غمی کے اظہار کے لیے مذہب یا رنگ و نسل کی بھی کوئی تفریق نہیں کرتا ہے۔اسلام انسانیت کے احترام کادرس دیتا ہے اور بحیثیت انسان ہر فرداحترام کا حقدار اور مستحق ہے چاہے وہ جس مذہب ، رنگ ونسل سے تعلق رکھتا ہو۔ حدیث وسیرت کی کتابوں میں یہودی کے جنازے کا واقعہ موجود ہےکہ ایک دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو وہ کھڑے ہوگئے ،صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَلَيْسَتْ نَفْسًا ، کیاوہ انسان نہیں تھا؟

2- اسلام یا آئمہ کرام سے کوئی ایسی دلیل کم از کم میرے علم میں نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ مسلمان غیرمسلموں سے تعزیت نہ کریں۔ ائمہ کرام تو اس حوالے سے دو ٹوک موقف رکھتے ہیں کہ غیر مسلموں کی خوشی اور غمی میں انسانی سماجی رشتہ سے شریک ہونا درست ہے۔ بلکہ بہتر ہے کہ اظہار ہمدری اور تعزیت کیساتھ ساتھ ممکنہ تعاون کی پیشکش بھی کریں۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنے پڑوسیوں اور متعلقین کیساتھ حسن سلوک سے پیش آئے ہیں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتب رد المختار اور فتاویٰ ہندیہ میں بھی یہ اجازت موجود ہے ۔لہذا غیرمسلموں کی تعزیت کی جاسکتی ہے البتہ تعزیت کے موقع پر کیا کہا جائے؟ اس کےلیے الفاظ کا چناؤ مختلف ہوسکتا ہے بعض علماء نے أَصْلَحَ اللہُ بِالَکَ وَأَخْلَفَکَ ( اللہ تمھیں اس کا نعم البدل عنایت فرمائیں اور تمھارے احوال کو درست فرمائیں) لکھا ہے ۔

3- لیکن یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے ؛ اور وہ یہ کہ تعزیت، اظہارِ ہمدردی اور دعاے مغفرت میں بڑا فرق ہے۔ دعائے مغفرت صرف اہل ایما ن کے لیے کی جاسکتی ہے اور انہی کے ساتھ مخصوص ہے ،چونکہ اس کے پیچھے قیامت اور زندگی بعد الموت کا وہ عقیدہ ہے جو اہل ایمان کو باقی غیرمسلوں سے الگ کرتا ہے۔ جبکہ غیر مسلم کی وفات پر اظہارِ ہمدردی کی جاسکتی ہے ، ان کے خاندان اور پسماندگان کے غم میں شریک ہونا، تسلی دینا اور مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ رہنا بسا اوقات زیادہ ضروری ہوتا ہے تاکہ انہیں حوصلہ ملے اور اپنے آپ کو اکیلا واجنبی محسوس نہ کریں۔

4- غیر مسلم کے لئے دعا ئےمغفرت کے سلسلے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ دعا کس کے حضور مانگی جائے؟ الله تعالیٰ کے حضور یا بھگوان’ جیسس کرائسٹ یا کسی اور کے حضور؟؟ ظاہر ہے مسلمان الله کے علاوہ کسی اور کے آگے دست دعا نہیں پھیلا سکتا، لہذا پھر الله ہی باقی رہ جاتا ہے، تو کیا الله کے حضور کسی ایسے شخص کی مغفرت کی دعا مانگنا درست ہو سکتا ہے جس نے دنیا جہاں کا علم و عقل ہونے کے باوجود اسی الله کا انکار کیا یہاں تک کہ وہ موت کی آغوش میں چلا گیا؟؟؟ اگر ہاں تو پھر الله کا محبوب محمد ﷺ اپنے چچا کی موت بلا ایمان پر اتنے رنجیدہ کیوں تھے؟؟؟؟ کیا ان کے لئے دعا ئےمغفرت نہیں کی جا سکتی تھی؟؟کیا الله کے حضور ﷺ سفارش کر کے ان کی مغفرت نہیں کروا سکتے تھے؟ اسی طرح اس بات کا امکا ن موجود ہے کہ جب کسی غیر مسلم کی مغفرت کی دعا کسی ایسے معبود سے مانگی جائے گی جسے وہ مانتے ہی نہیں تو کیا غیر مسلم اس بات کو پسند کریں گے؟؟ اس لیے غم کے موقع پران کی دل آزاری سےبھی بچنا چاہئے یا نہیں؟؟

5- بد قسمتی سےمسالک اور فرقوں کی آپس میں جنگ وجدل اور بحث ومناظروں نے عام مسلمانوں کے ذہنوں سے اسلام کی وسعت نظری کو اوجھل کر دیا ہے- معاشرہ میں فکری وسعت صرف ڈھونڈنے سے ہی ملتی ہے اور بسا اوقات عام افراد دین کے بارے میں ایسےلڑتے جھگڑتے نظر آئینگے جیسے مفتی یا شیخ الاسلام کے منصب پر اوجھل ہوں۔ اس رویہ اور مزاج نےغیر مسلم عوام کے ذہنوں میں کافی غلط فہمیاں پیدا کردی ہیں۔ شیطانی ذہن رکھنے والوں نے یہ پروپیگنڈا مہم کے طور پر لانچ کردیا کہ اسلام اپنے ماننے والوں کے علاوہ دوسروں کو موجبِ گردن زدنی قرار دیتا ہے اور اس میں مذہبی رواداری اور وسعت نہیں پائی جاتی- مسلمان دوسروں سے الگ تھلگ رہنے اور کسی غیر مسلم کی خوشی وغمی میں شرکت سے اجتناب کرتے اور اظہار ہمدری کو حرام سمجھتے ہیں- یہ تصور یا تو سراسر غلط فہمی کے سبب ہے یا پھر بددیانتی کے سبب پھیلا دیا گیا ہے- اس کے برعکس اسلام کا تصور اس پروپیگنڈا سے یکسر مختلف ہے، اگر کسی کے غیر مسلم رشتہ دار ے تو ان سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے۔غیر مسلم پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ، ان سے ملنا جلنا، مہمان بنانا، ان کی عیادت کرنا، ان کے غم میں شریک ہونا،ان سب امورکی اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی تاکید کرتا ہے۔ اسلام نہ تو دوسروں کو زبردستی اپنے عقیدہ و سوچ کا پابند بنانا چاہتا ہے اورنہ اجازت دیتا ہے کہ دوسرے انسانوں کی آزادی کوسلب کرکے ان پر اپنی مرضی مسلط کی جائے-

 

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *