کیا جماعت اسلامی فرشتوں کی جماعت ہے؟

تحریر : شمس الدین امجد

ایم ڈی خیبربنک کے الزامات کی حقیقت کیا ہے؟

ایم ڈی خیبر بنک کی طرف سے جماعت اسلامی کے وزیرخزانہ پر لگائے جانے والے الزامات، مخالفین کی تنقید اور جماعتی وابستگان کی وضاحت کے تناظر میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جماعت اسلامی فرشتوں کی جماعت ہے نہ اس کا اپنے بارے میں اس قسم کا کوئی دعوی ہے۔ یہ بھی انسانوں کی جماعت ہے اور اس کے متعلقین سے بھی غلطی اور خطا کا ویسے ہی امکان ہے جیسے دوسری جماعتوں کے افراد یا ایک عام انسان سے۔

البتہ جماعت اور دیگر جماعتوں میں اس حوالے سے جوہری فرق ہے جو اسے ان سے ممتاز کرتا ہے۔ کچھ باتیں اس حوالے سے نہایت اہم ہیں

اول تو جماعت کا اندرونی احتسابی نظام ہے جو اس طرح کی ممکنہ صورت میں خود بخود حرکت میں آتا ہے اور اس کے لیے کسی ایم ڈی خیبربنک، کسی حکومت اور احتسابی ادارے کو متحرک ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، مظفر سید یا جماعت کا کوئی بھی ذمہ دار ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہوتا یا ہوا تو اسے سب سے پہلے جماعت کا احتسابی نظام خود سے الگ کر دے گا اور یہ نظام اس حد تک آزاد اور متنوع ہے کہ کوئی اور کیا خود امیر جماعت کے لیے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ اس میں دخیل ہو یا آڑے آئے۔ اس نظام سے کوئی بھی کچھ عرصے کےلیے چھپا رہ سکتا ہے، انسانی خامی یہاں بھی آڑے آ سکتی ہے کہ کچھ عرصے تک اس پر پردہ پڑا رہے لیکن زیادہ عرصے یا ہمیشہ کےلیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ نظام مالیاتی، اخلاقی، تنظیمی کسی بھی حوالے سے کرپشن کے لیے یکساں طور پر مئوثر اور کارگر ہے۔

دوم جماعت کا اس معاشرے میں 7 دہائیوں کا تعامل ہے جس کی بنیاد پر دوسری جماعتوں کے مقابلے میں اس کے بارے میں یہ رائے بنی ہے کہ اس کے وابستگان کرپشن سے پاک اور امانتدار ہیں، آپ انفرادی امانت سپرد کریں یا اجتماعی، اس میں خیانت نہیں کریں گے اور حق کو اپنی جان پر کھیل کر حقدار تک پہنچائیں گے، اس لیے بدترین سیاسی و نظریاتی مخالفین بھی جب راہ خدا میں خرچ کرنا یا اپنے ہموطنوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو جماعت یا الخدمت ان کے پہلے انتخاب کے طور پر سامنے آتی ہے۔ جماعت کے سینکڑوں لوگ اسمبلیوں میں رہے ہیں، بلدیاتی نظام کا حصہ رہے ہیں، کراچی جیسے میٹروپولیٹن سٹی کے تمام وسائل سالوں ان کے پاس رہے ہیں مگر بدترین مخالف بھی ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکے۔ نہ صرف یہ کہ کرپشن بلکہ جماعت سے وابستہ ایک بھی فرد کا نام قرضے معاف کرانے، کمیشن لینے یا پلاٹوں کی سیاست کرنے والوں میں شامل نہیں ہے۔ یہ تو ذرا دور کی بات ہے بطور پارلیمنٹ ممبر جو مراعات ایک رکن کا استحقاق ہوتی ہیں، جماعت نے اپنے ممبران کو ان کے حصول سے بھی روک دیا۔ جہاں پارٹیوں کی پارٹیاں ان بیماریوں میں لتھڑی ہوئی ہوں اور ان کا ہر دوسرا لیڈر اس جرم میں ملوث نظر آتا ہو، وہاں ایسا کردار پیش کرنا جماعت کا ہی خاصا رہا ہے اور الحمدللہ اب تک ہے۔

7 دہائیوں سے معاشرے کے سامنے یہ کردار پیش کرنے اور مسلسل پرکھے جانے کے بعد ہی جماعت کے بارے میں یہ رائے بنی ہے کہ نظریاتی و سیاسی مخالفین بھی کہتے ہیں کہ جماعت پر دنیا جہاں کا جو چاہے الزام لگا لو ، بس کرپشن کا الزام مت لگانا، اسے قبول اور ہضم کرنا ذرا مشکل ہے۔ اس تاریخی پس منظر کی بنیاد پر جماعت یہ دعوی کرتی ہے کہ چونکہ اس پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے، اس لیے وہ کرپشن کے خاتمے کےلیے مئوثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ شاید اس ثابت شدہ حقیقت کو بعض حضرات فرشتے ہونے کے دعوے سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ اپنے کردار سے اگر کوئی فرد یا جماعت فرشتے جیسی شبیہ پیش کرے تو یہ اس کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے نہ کہ اسے ایک طعنے کے طور پر پیش کیا جائے۔

خیبر پختونخوا میں جماعت دوسری دفعہ حکومت کا حصہ ہے مگر دونوں ادوار میں جماعت کے وزرا امانت و دیانت اور صلاحیت اور کام کے حوالے سے دوسروں سے ممتاز اور آگے نظر آتے ہیں۔ عالمی اداروں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ ایزی لوڈ ماحول میں ان پر توقعات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا لوڈ تو ہے مگر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے حوالے سے انھوں نے کبھی ایزی فیل نہیں کیا۔ جماعت کا اصل اعتراض اس بات پر ہے کہ ایم ڈی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور جماعت کی 70 سالہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اب جبکہ ایم ڈی نے اپنے وضاحتی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے وزیرخزانہ کو چارج شیٹ کیا نہ ان پر کرپشن کا الزام لگایا، بس خبر کی صورت میں بنک پر لگنے والے ایک الزام کی وضاحت کی۔ اور اب جبکہ یہ بات بھی سامنے آ گئی ہے کہ ایم ڈی نے وزیرخزانہ پر جو الزامات لگائے، وہ خود اس کا مرتکب ہے اور ایکسپریش ٹربیون، ڈان سمیت دیگر قومی اخبارات میں اس اشتہار سے پہلے اس پر خبریں آ چکی تھیں، اور بنک ایسوسی ایشن نے اس پر احتجاج بھی کیا، تو اس سے صورتحال خاصی واضح ہو گئی ہے۔ ایم ڈی نے خود کو بچانے کے لیے یہ حرکت کی یا کسی کے اشارے پر، حقیقت حال جلد واضح ہو جائے گی۔ جماعت نے اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے جو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں ایک اور واضح فرق ہے۔ الزامات کے بعد بیرون ملک اور لندن واشنگٹن کیا مظفر سید یا کوئی اور جماعت سے وابستہ فرد مکہ و مدینہ بھی نہیں جائے گا یہاں تک کہ خود پر لگنے والے الزامات سے بری نہ ہوجائے اور پھر شکرانے کے نوافل بیت اللہ اور مسجد نبویﷺ میں ادا کرے۔

2 تبصرے
  1. 19 April, 2016
    میرا فسر امان

    جماعت اسلامی ایک عوامی جماعت ہے۔ جس کو کوئی بھی شہری جہاں چائے جس وقت چاہے چلیج کر سکتا ہے۔ اللہ نے چاہ تویہ بنک کا افسر بھی نامراد ہو کر جماعت اسلامی سے معافی مانگے گا

    Reply
  2. 21 April, 2016
    افتخار اجمل بھوپال

    میں کسی زمانہ میں جماعتِ اسلامی کا مداح تھا ۔ مولوی مودودی صاحب اور میاں طفیل صاحب کا آج بھی دِل سے مداح ہوں ۔ میں یہ بھی کہوں گا کہ 1990ء تک اس کے صرف رُکن ہی نہیں رفیق بھی اچھے اور ساف سُتھرے کردار کے حامل تھے ۔ اس کے بعد اس جماعت میں کچھ ایسے لوگ شامل ہونا شروع ہوئے جو اس جماعت کے شایانِ شان نہ تھے ۔ میں نے ایسے کئی افراد کو دنیاوی مفاد کی خاطر آپس میں بھی جھگڑتے دیکھا ۔ مزید کچھ لکھنے سے بات انفرادی ہونے کا خدشہ ہے ۔ سمجھدار کیلئے اتنا ہی کافی ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *