(مرد و عورت کے مصافحے کی بحث اور غامدی صاحب کے شاگرد (حصہ اول

تحریر: شمس الدین امجد

مرد اور عورت کے درمیان مصافحے کے حوالے سے جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد اپنے اس احساس کے باوجود کہ غامدی صاحب سے غلطی ہوئی ہے، پوری تندہی سے ان کا دفاع کر رہے ہیں اور تقاضا ان کا یہ ہے کہ غامدی صاحب سے نرمی نہ کی گئی تو وہ ان کا ویسے دفاع جاری رکھیں گے جیسے دوسرے مکاتب فکر کے لوگوں نے اپنے اکابرین کا کیا ہے۔ اس دھمکی کا کسی نے اثر نہ لیا اور استاد کے خلاف لے بڑھی تو اس دھمکی کو نہ صرف عملی جامہ پہنایا گیا بلکہ اس میں ضرورت سے زیادہ ردعمل نظر آیا۔ غامدی صاحب کے دفاع میں فقہا و محدثین کی رائے اور صحابہ کرام کے واقعات بھی ایسے بیان کیے گئے جیسے کہہ رہے ہوں تسلی ہو گئی اور غامدی صاحب پر تنقید سے باز آتے ہو یا اور بھی بیان کریں۔ یہ طرز عمل خود حاملین فکرغامدی کی اس دلیل کے خلاف ہے جو وہ ائمہ حدیث اور فقہا کی آرا کو رد کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں کہ وہ ہمارے جیسے انسان ہیں ، ان کی شخصی رائے ہے اور اس سے مختلف رائے اختیار کی جا سکتی ہے۔ افسوس کہ شاگرد حضرات اپنے استاد کے معاملے میں ان کے غلطی پر ہونے کے احساس کے باوجود ایسی فراخ دلی کا مظاہرہ نہیں کر سکے، ائمہ و فقہا کے باب میں وہ جس کے طالب ہیں۔

مصافحے کے جواز اور اپنے استاد کی رائے کے حق میں شاگرد حضرات اب تک کوئی ٹھوس دلیل پیش کر سکے ہیں نہ تائید میں کوئی اچھا جوابی مضمون ہی لکھ سکے ہیں۔ حرمت کے حوالے سے کسی نص کی عدم موجودگی کی بات تو کی گئی مگر اس کی حلت کےلیے کوئی نص پیش نہیں کی گئی۔ اگرچہ احادیث اور حضور نبی کریم ﷺ کے عمل سے حرمت پر مبنی استدلال پیش کیا جا سکتا ہے مگر کچھ دیر کےلیے نص نہ ہونے کی بات کو بطور دلیل مان لیا جائے تو کیا یہ عقل کا تقاضا نہیں کہ ایک چیز جب اپنی حلت و حرمت کے حوالے سے مشتبہ ہوجائے تو اس کی حلت و جواز کےلیے کوئی نص پیش کی جائے، ظاہر ہے کہ ایسا کچھ پیش کرنا ممکن نہیں ہے نہ اب تک پیش کیا جا سکا ہے۔ اس صورت میں دوسری بات خود بخود قوی ہو جائے گی جس کے لیے کچھ نہ کچھ بہرحال دلیل کے طور پر موجود ہے اور دین کا عمومی مزاج جس کی تائید کرتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے مصافحے سے اجتناب کے بارے میں یہ کہنا کہ آپ نے ایسا احتیاطا کیا تو اس احتیاط کےلیے بھی کوئی دلیل موجود ہونی چاہیے؟ آپ ﷺ جس چیز کو ناپسند کرتے مگر جواز کی کوئی صورت ہوتی تو ایک دفعہ ایسا کر لیتے کہ امت حرام نہ سمجھ لے، اگر یہ جائز ہوتا تو کم از کم ایک دفعہ ہی آپ عورت کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر بیعت لیتے جو کہ مردوں کے حوالے سے معمول تھا۔ ایسا کرنا اس لیے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا کہ آپ شہوت عدم شہوت کی بحث سے پاک تھے۔

شاگرد حضرات اپنے استاد کے حق میں اب تک کل ملا کر لونڈیوں کے ٹٹولنے کو ہی بطور مثال پیش کر سکے ہیں، حالانکہ انھیں بھی معلوم ہے کہ بات تو آزاد عورت کی ہو رہی ہے اور اس کے احکام لونڈی سے مختلف ہیں، شریعت نے ستر سے لے کر حدود تک اپنے احکامات و ہدایات میں اس فرق کا لحاظ کیا ہے، اس فرق کو جانتے ہوئے اس طرح کا استدلال کیسے کیا جا سکتا ہے؟ سماں ایسے باندھا گیا ہے جیسے آزاد عورت اور لونڈی میں کوئی فرق نہیں، اور لونڈیاں بھی جیسے گلیوں میں ہر آتے جاتے سے ہاتھ ملاتی اور اٹکھیلیاں کرتی پھرتی تھیں، دین سے متنفر طبقہ شاگرد حضرات کی اس منظر کشی سے خوب محظوظ ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ منظر کشی پہلی دفعہ دیکھی سنی ہے کہ اب تو آزاد عورت کو بھی اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ لونڈیاں بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں بلکہ اس وجہ سے کہ اسلام اور معتلقین کی ان کے خیال میں بیچ چوراہے مٹی پلید ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف مباحث میں الجھنے کے بجائے ایک سادہ سی بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ٹٹولنا عام حالات کے بارے میں نہیں ہے، یہ اس زمانے اور خاص حالت سے متعلق ہے جب لونڈیاں ایک جنس کے طور پر منڈی میں فروخت ہوتی تھیں، یہ ٹٹولنا یا چھونا منڈی سے متعلق ہے، باہر سے نہیں۔ منڈی میں بھی خریداری کے بعد خیار مجلس کی اجازت کی وجہ سے، جن فقہا نے جنس یا مال ہونے کی حیثیت کو سامنے رکھا، انھوں نے چھونے کی اجازت دی، جنھوں نے دوسری رائے اختیار کی انھوں نے اس کی نفی کی۔ بطور جنس خریداری کی وجہ سے لونڈی کی حیثیت ملک کی ہے اور اس سے بغیر نکاح کے ہم بستری جائز ہے۔ اب کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ آزاد عورت سے بھی بغیر نکاح یہ سب کرنا جائز ہے؟ صورت تو اس کے الٹ ہے کہ اگر ایسی لونڈی سے زنا کر لیں جو آپ کی ملکیت نہیں ہے تو زنا کی حد جاری ہو جائے گی جیسا کہ ایک صحابی ماعز اسلمی پر جاری ہوئی۔ صحابہ کرام کے حوالے سے جو واقعات بیان کیے جا رہے ہیں ، وہ لونڈیوں سے متعلق ہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ آزاد عورت کی مثال پیش کی جاتی یا کوئی نص بطور دلیل لائی جاتی۔ اگر غامدی صاحب کے شاگردوں کے بقول روایتی انداز میں مخالفت نہ بھی کی جائے تو بھی ان کے شاگرد جو استدلال لا رہے ہیں وہ بطور استدلال بھی کوئی استدلال نہیں ہے۔

جس دین کا مزاج یہ ہے کہ وہ نظر نیچے رکھنے کا حکم دیتا ہے، ایک نظر غیر ارادی طور پر پڑ جائے تو دوسری ارادی نظر کو گناہ تصور کرتا ہے، جو زنا جیسے کبیرہ گناہ کی نوبت آنے سے پہلے اس کے ممکنہ ذرائع و امکانات کو مسدود کرتا ہے اور اسی تناظر میں جس دین میں نظر، زبان اور اعضا کے زنا کا تصور موجود ہے، اس میں اگر کوئی نص موجود نہ بھی ہوتی تو بھی شہوت کی عدم موجودگی کے بہانے سے اختلاط اور زنا کا راستہ کھولنے سے احتیاط برتی جاتی۔ نص نہ ہونے (جو کہ درست نہیں ہے) کو دلیل بنا کر اگر کوئی مصافحے سے آگے بڑھ کر معانقہ کر لے تو اس کے بارے میں کیا کہیے گا؟ مصافحے کے بارے میں تو پھر بھی ممنوع ہونے پر دلالت کرنے والی احادیث موجود ہیں، معانقے کے بارے میں تو ایسے کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ بعض ممالک میں ایک دوسرے کا بوسہ لینا رواج کا حصہ ہے تو اس سے کیونکر روکا جا سکے گا۔

ایسے افکار پر تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے کسی اعتراض کے سامنے ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں اور اس کا سامنا کرنے کے بجائے ان معاملات میں حلت کا فتوی دینے میں جلدی کی جاتی ہے جیسے خود کو اس پر مجبور پاتے ہوں۔ اسی انداز فکر کی وجہ سے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ پہلے مغرب ، عقل اور فطرت کے نکتہ نظر سے ایک مقدمہ قائم کیا جاتا ہے اور پھر اس کے حق میں قرآن و سنت سے دلائل تلاش کیے جاتے ہیں۔ لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ انفرادیت کے شوق میں دین کی روح مسخ ہو رہی ہے اور مغرب سے متاثر ہو کر یا اس سے مطابقت کے شوق میں اسلام کا جو ورژن پیش کیا جا رہا ہے، اس میں سب حلال ہی حلال ہے، احتیاط کیا، حرام کا تصور ہی اس میں مفقود ہو کر رہ گیا ہے تو وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ مغربی تہذیب سے متاثر سیکولر طبقے اور مرعوبین کے لیے سب حلال پر مبنی اسلام ان کے سکولرازم کے قریب تر ہے اور اسے وہ ایک دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

خطا انسانی فطرت کا حصہ ہے، کوئی بھی مسلمان گناہ کا ارتکاب کر سکتا ہے مگر حلال و حرام اور گناہ و ثواب کا تصور اس کے لیے واپسی کا در کھلا رکھتا ہے۔ گناہ سرزد ہونے پر دل و دماغ میں غلطی کے احساس پر مبنی ایک خلش اور کشمکش موجود رہتی ہے، یہی خلش اسے توبہ پر مجبور کرتی اور اللہ کے در پر واپس لے آتی ہے۔ سب حلال والا فارمولہ اس خلش کو مٹانے کی ایک کوشش، اور اسلام کے پردے میں مغربی تہذیب کی وہ خدمت ہے جو خود اس تہذیب کے فرزندوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

پس تحریر – مصافحے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ایک چیز حیران کن رہی کہ عام نوجوانوں نے بھی اس کا رد کیا، جو کہ حوصلہ افزا اور خوشی کی بات ہے

2 تبصرے
  1. 26 April, 2016
    میرا فسر امان

    جزاکاللہ

    Reply
  2. 27 April, 2016
    حسن تیمور جکھڑ

    اسلام میں مشتبہ چیزوں سے بھی پریہزکاحکم ہے ۔۔ اول تو مصافحے کی اجازت محال ہے، مگراگر کہیں سیاق و سباق سے ہٹ کرایسی بات کی گنجائش نکالی ہی جارہی ہے تو میرے خیال میں وہاں ہمیں ریشنل ازم کے تحت سوچتے ہوئے اسے مشتبہ قراردیکرردکرنا چاہیے ۔۔ میں توپوری طرح رد کرتا ہوں کہ اسلام میں اس بات کی اجازت دی گئی ہوگی ۔۔ یہ سراسر جھوٹ ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *