1

“قبریں تو بن چکیں”

تحریر : شہزاداسلم مرزا

مغربی و یورپی ممالک ہوں یا جاپان ہو اکثر قدرتی آفات و مسائل کا شکار رہتے ہیں، آئے روز سننے کو ملتا ہے کہ جاپان میں اتنا شدید زلزلہ آ گیا یا امریکہ کی فلاں ریاست میں تیز آندھی و طوفان سے ہر طرف تباہی پھیل گئی، فلاں یورپی ملک میں سیلاب نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لاکھوں اربوں کا نقصان ہو گیا مگر اتنی بڑی تباہیوں کے باوجود انسانی ضیاع نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ۔۔ بہت سے پاکستانی جو ان ممالک میں قیام پزیر ہیں ان سے بارہا سننے کو ملا کہ ان معاشروں میں انسان کو مرنے نہیں دیا جاتا سوائے اس کے کہ موت کا وقت آ جائے اور یہاں پاکستان میں جینے نہیں دیا جاتا خواہ موت کا وقت ابھی نہ آیا ہو۔
ویسے تو پاکستان کا کوئی علاقہ بھی انسانی زندگی کے تحفظ میں مثالی نہیں ہے مگر سندھ میں انسان کی جس طرح تذلیل ہو رہی ہے اس کے متعلق سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کی حاکمیت میں ویسے ہی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں مگر جو علاقے اپنی بدتری کی وجہ سے میڈیا کے سامنے آ گئے وہاں کے حالات بھی تڑپا دینے والے ہیں۔ تھر کی قسمت میں بھوک اور بیماریوں کے سبب اپنے نونہالوں کی لاشیں اٹھانا مقدر ہے تو کوئی نہیں جو ان کا نصیب بدلنے کے لئے فکر مند ہو۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرتا ہے تو قحط کی وجہ سے مرنے والوں کی ہفتہ وار رپورٹنگ میڈیا کے ذریعے سامنا آنا شروع ہو جاتی ہے کہ اس ہفتے اتنے مر گئے بات سینکڑوں تک پہنچ جاتی ہے مگر حکمرانوں کی طرف سے بےڈھنگی وضاحتوں کے علاوہ صرف اتنا سننے کو ملتا ہے کہ موت برحق ہے کون روک سکتا ہے۔
ہر مہذب معاشرے میں موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لئے اس نوعیت کی اختیاطی تدابیر شروع کی دی جاتی ہیں جن سے انسانی جان کو محفوظ بنایا جا سکے مگر یہ سندھ حکومت ہے اس سے ایسے اقدام کی توقع رکھنا جو عوام کو فائدہ پہنچا سکے نا ممکن ہے۔
حکومت کی ماضی کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار ایدھی والوں نے تو کمال کر دیا اور دور کی سوچی کہ گرمی کے باعث ہیٹ اسٹوک سے مبینہ طور پر متاثر ہونے والوں کی قبل از وقت ہی قبریں کھود کر رکھ دیں ہیں تاکہ وہ طویل عرصہ تک ایدھی سنٹرز میں پڑی باس نہ مارتی رہیں اور میتوں کو سنبھالنے کے لئے جگہ کم نہ پڑ جائے۔
بات تو ٹھیک ہے ایدھی سمیت سب کو حکومت کی صلاحیتوں کو بہتر پتا ہے کہ نہ ان سے متاثرہ علاقوں تک خوراک پہنچائی جائے گی ؟ نہ بروقت پانی مہیا ہو سکے گا اور نہ متاثرین کا علاج ان کے بس میں ہو ہے تو ایسے حالات میں عوام کا مرناتو لازم ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان کی میتوں کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست کیا جائے کہ یہ نہ ہو بعد میں حکومت ایدھی صاحب پر غصہ نکالے کہ تمہارے مرگ سنٹرز میں پڑیں لاشیں بھٹو صاحب کے لئے شرمندگی کا سبب بن رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“قبریں تو بن چکیں”” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں