1

” محبتیں کیسے مقروض کردیتی ہیں “

تحریر : اسریٰ غوری
یہ 23 نومبر 2014 کی دوپہر تھی . تین دن ایک خواب سے لگ رہے تھے ہر گزرتا لمحہ تین دن بیتی محبتوں کی یاد دلا رہا تھا ۔۔۔
یہ اجتماع عام جہاں ایک تربیت کا سبب بنا وہیں بہت سے اپنے محبت کرنے والے تحریکی بہنوں سے ملنے کا بھی باعث بنا سب ہی ایک دوسرے سے محبت سے مل رہے تھے اور کسی نہ کسی کو تلاش کرتے نظر آتے کسی نہ کسی کا پتہ پوچھتے دکھائی دیتے اور جب کوئی مل جاتا تو آپس میں آٹو گراف کے تبادلے کہیں تو کہیں سکھیوں کو چوڑیاں اور تحائف دیے جارہے تھے غرض ہر انداز سے محبتوں کا تبادلہ کرتا یہ مینار پاکستان کا احاطہ اور اس تحریک کے اس اخلاص اور پرخلوص ” شہر محبتاں ” پر ناز کرتا مینار پاکستان آج کچھ اور ہی اونچا دکھائی دے رہا تھا کہ ہر جانب محبتوں کی گویا سیل لگی ہوئی تھی ہمیں بھی چند تجربات ہوئے جو تحریر کرنے کی کوشش کی ہے ۔
مصروف ترین دن مرکزی سوشل میڈیا کوریج کمیپ میں گزرے جہاں ہر کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی آکر ہاتھ ملاتا محبت سے کہتا یہاں اسریٰ باجی ہیں ؟ اور جواب میں ساتھ بیٹھے لوگ میری جانب دیکھ کر مسکرا دیتے پہلا پورا دن رات گئے تک محبتیں کرنے والی بہنیں ، باجیاں ، آنٹیاں ، اور بچیاں سب ہی ملنے آتے رہے اور خوشی کا اظہار کرتے رہے رات گیے تک ہم نے ایک ” محفل سہیلیاں” بھی سجائی جس میں جس جس کے نمبرز پاس تھے انہیں فون کرکے بلایا اور بہت ہی اچھی ملاقات کی ۔۔۔
یہاں ہر فرد ایسے ہی کسی نہ کس کو تلاش کررہا تھا
خود میں بھی کتنے ہی لوگوں سے ملنے کی خواہش لیے انہین تلاش کرتی اور جب جب موقعہ ملتا دوڑ کر محبت کی آکسیجن لینے اپنی بہت ہی پیاری سی راحیل باجی کے پاس پہنچ جاتی تھی یہ چند لمحے کیسے یادگار ہوتے یہ بیان ممکن نہین…
اب اگلے دو دن جونہی کوئی ہماری ٹیبل پر آتا ساتھ بہت پیاری ساتھی عمارہ کہنی مار کر کہتی لیں آگئیں آپکی ایک اور عاشق ۔۔ اور پھر ہم سب ہنس دیتے اور آنے والوں کا اگلا جملہ یہ ہوتا وہ اسریٰ باجی کیا یہاں ہیں ؟؟
پھر جب بھی اپنے رہائشی کیمپ میں جاتی یا جہاں سے گزرتی وہاں آواز آتی اسریٰ تمہیں کچھ خواتین سرحد کے کیمپ سے آئیں تھیں وہ کئی بار آچکی ہیں ان سے مل لو۔۔۔ یا آواز آتی لو ابھی تمہیں کچھ بچیاں پوچھ کر گئیں ہیں ۔۔۔
میں ان محبتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتی مگر حیران حیران سی بھی اور شرمندہ بھی دل میں کہ میں اس قابل کہاں مگر حقیقتا اخلاص کا کوئی مول نہیں خیر تین دن گزر چکے تھے اب واپسی کے تکلیف دہ لمحات تھے تین دن سے بسا ہوا ” شہر محبتاں ” اب سمیٹا جارہا تھا کیمپ اتر رہے تھے لوگ روانہ ہوچکے تھے کچھ جانے کی تیاری کررہے تھے ہمارا بھی سارا سامان جا چکا تھا سب سے میں خدا حافظ کہہ کر آچکی تھی واپسی کے لیئے گیٹ کی جانب جارہی تھی کہ اچانک نجانے کیا ہوا میں پلٹی اور مرکزی رہائشی کیمپ کی جانب دوڑ لگادی پیچھے سے آواز آئی اب کہاں جارہی ہیں میں نے پلٹے بغیر جواب دیا بس ایک منٹ میں آئی ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا میں کہاں اور کیوں جارہی ہوں ۔۔۔ خیر گزرتے کئی لوگوں سے ٹکرانے سے خود کو بچاتے مرکزی رہائشی کیمپ کے سامنے پہنچی تو جیسے بس تھک سی گئی اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے اگے بڑھنے لگی ۔۔۔۔
اسی اثناء میں سامنے سے بلیک عبایا اور وائیٹ اسکارف میں لپٹی میرے پاس آکر بلکل ٹوٹے لہجے میں بولی سنیں کیا آپ اسریٰ باجی کو جانتی ہیں کیا آپ مجھے ان کا بتا سکتی ہیں وہ کہاں ہیں ۔۔۔۔ میں حیران یہاں سب کو بھاگنے کی پڑی ہے ہر طرف سامان سمیٹے جارہے اور یہ اسریٰ باجی کو تلاش کررہی ہے ۔۔۔ اسکا لہجہ اور انداز ایسا تھا کہ اگر میں نے یہ کہہ دیا کہ میں نہیں جانتی تو اس نے وہیں رونا شروع کردینا تھا ۔۔۔۔
خیر میں یہ کیسے کہہ سکتی تھی۔۔ میں نے کہا میں ہی ہوں ۔۔۔۔
مگر یہ کیا وہ تو اب بھی اک دم مجھ سے لپٹی اور زارو قطار رونا شروع مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں اسے کیسے سنبھالوں میں اسے جوں جوں چپ کراونے کی کوشش کرتی اس کے رونے میں مزید اضافہ ہورہا تھا اور بس ایک ہی جملہ تھا میں نے آپ کو کہاں کہاں نہیں تلاش کیا اب بھی سب جانے کے لیئے کیمپ میں ہیں اور میں وضو خانے سے یہاں بھاگ آئی ہوں اور اللہ سے روتے ہوئے دعائیں کرتی آئی ہوں کہ اللہ جی بس ایک بار میری اسریٰ باجی کو ملوادیں ۔۔۔۔۔۔۔
باخدا اس کے الفاظ نہیں تھے ایسا قرض تھا کہ جو میں کبھی ادا کرنے کی سکت نہیں رکھ سکتی مجھے یہ سب لکھنے میں دو سال لگے میں اللہ کی اس کے ساتھ اس محبت پر حیران بھی تھی اور آج تک رشک کرتی ہوں۔۔۔
کہ کیسے مجھے کھینچ کر اللہ نے اس کے سامنے لاکھڑا کیا تھا اب مجھے اپنے واپس پلٹنے اور دوڑ کر یہاں تک پہنچنے کی وجہ سمجھ آرہی تھی کہ اگر میں نارمل چلتی ہوئی آتی تو فاصلہ زیادہ تھا تو ہماری ٹائمنگ میں فرق آجاتا اور وہ پھر سے نامراد واپس پلٹ جاتی ۔۔۔۔۔۔
میں نے اسے کہا: سنو پاگل لڑکی ! دیکھو تمہارا اللہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے وہ مجھے واپسی کے گیٹ سے دوڑا کر تمہارے پاس لایا ہے ۔۔۔۔ میں پلٹی نہیں تمہاری خاطر پلٹائی گئی ہوں ۔۔۔۔ یہ چند لمحے وہ مجھ سے چمٹی کھڑی رہی میں آج بھی محبت کی اس حدت کو محسوس کرسکتی ہوں جو اسکے ہاتھوں کی گرفت میں تھی جنہوں نے میرے گرد ہالہ بنایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
پھر میں نے اسے کہا : تمہارے کیمپ والے تمہیں تلاش کررہے ہونگے جاو اور یہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ اللہ تمہیں کتنا پیار کرتا ہے ۔۔۔۔ تب اسے ہوش آیا کہ ہاں ہمارا تو سامان جارہا تھا مرد ہمیں لینے آگئے تھے ۔۔
وہ جاتے جاتے بولی : باجی میں جب جب آپکو تلاش کر کے واپس کیمپ میں جاتی امی بہنیں اور سب کیمپ میں مجھے دیکھتے ہی پوچھتے کہ مل گئیں تمہاری اسریٰ باجی ؟
اور میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر سب ہنسنے لگتے اب میں بتاونگی کہ وہ مل گئیں اب وہ روئی روئی آنکھوں سے مسکرا رہی تھی میں نے اسے پیار کیا اور ڈھیر ساری محبت کیساتھ رخصت کردیا اور گیٹ کی جانب پلٹ گئی ۔۔۔۔۔
راستے بھر سوچتی رہی واہ رے میرے مولا تیری ادائیں ہی نرالی کیسے کیسے کسی کو پلٹا کر دوڑیں لگوا کر کسی کی دعائیں قبول کرتا ہے ۔۔۔۔
بے شک ہم ہمیشہ محبتوں میں مقروض رہتے کبھی حق ادا نہ کرسکے ۔۔۔ اللہ ہمیں ان محبتوں کے قابل بنائے اور ہماری محبتوں کو جنتوں تک کے لیئے توشہ بنائے کہ ہماری محبتوں کا مرکز بس اک رب کی ذات ہی ہے ہمارا اپنا ذاتی کوئی مفاد نہیں ہماری محبتیں اسی کی خاطر اسے لیئے ۔۔۔ اوریہی اخلاص اس تحریک کا سرمایہ اور اثاثہ ہے جس نے کوسوں میل دور رہتے ہوئے بھی ہمارے دلوں کوایک ڈوری میں یوں پرویا گویا کوئی انمول موتی کسی مالا میں پروئے جاتے۔۔۔۔
خدا کرے یہ سب اسکی بارگاہ میں مقبول ٹھرے ۔ آمین
یہ تحریر اسی کے نام جو اسکی موجب بنی ۔۔
بہت پیاری سی بہنا قراۃ العین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

” محبتیں کیسے مقروض کردیتی ہیں “” ایک تبصرہ

  1. کیا تبصرہ کروں …. الفاظ ناکافی اور جذبات ناکارہ ہیں اس تحریر کے آگے …. آج مجھے وہ سب محبتیں یاد آگئیں جو دنیاوی حرص و ہوس سے پاک اور آسمان سے برسنے والے پانی کی طرح شفاف تھیں ….. میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں … بہت اچھی طرح …. بلکہ ان محبتوں اور ان سے وابستہ قرضوں کو تو اس لمحے ہی جان گیا تھا جب اسی طرح ایک محبت کرنے والے بزرگ جو مجھے بیٹا کہتے تھے …. انہوں نے میری گود میں آخری دم لیا تھا … ان کی سگی اولاد سامنے کھڑی تھی …. آج سے تقریبا اٹھارہ سال پرانی بات ہے … مجھے گھر سے کالج فون آیا کہ جلدی گھر آجاؤ … جب پریشانی کے عالم میں لوٹا تو ان بزرگ کی اکلوتی صاحبزادی کو اپنا منتظر پایا …کہنے لگی .. ابا جی کا دم نہیں نکل رہا ہے ….. بار بار آنکھیں کھول پورے کمرے میں کسی کو تلاش کر رہے ہیں …. اور کچھ بڑبڑا تے بھی ہیں شاید کسی اپنے کو یاد کر رہے ہیں …ہم سب تو موجود ہیں …..پھر کون ہے ایسا ان کا اپنا جس کو آخری بار ….ایک آخری بار دیکھنے کے منتظر ہیں …..

    بہت رو رہی تھی وہ …. پھر کہنے لگی مجھے تمہارا خیال آگیا …اسی لئے بلوالیا …. چلو دیکھو شاید وہ تم ہی ہو جن کا ابا جی کو انتظار ہو … میرے پڑوسی ہی تھے وہ بزرگ …. میں انہیں حاجی صاحب کہتا تھا اور وہ مجھے ‘ حافظ جی ‘ …

    جب میں کمرہ میں گیا … بستر پر جاکر ان کو آواز دی …. انہوں نے آنکھیں کھول دیں …ایسا مسکرائے کہ بس …لکھ نہیں سکتا وہ انکی آخری خوشی اور خواہش ….. میں نے ہاتھ تھاما تو اتنی مضبوطی سے کھینچا جسے مرض الوفات کے مریض نہ ہو …. جب میں اپنی گود میں انکا سر رکھ کر سورہ یٰسین کی بآواز بلند تلاوت شروع کی تو انہوں نے جسم ڈھیلا چھوڑ دیا … بالکل ہلکا پھلکا …بس میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا …میں انکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا گیا اور انہوں نے میری گود میں دم دے دیا …. بالکل ایسے سکون اور آرام سے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے …. الله کامل مغفرت فرمائے انکی …. آمین

    ان محبتوں کا قرض تو اپنی جان دیکر بھی ادا نہیں جا سکتا …..

اپنا تبصرہ بھیجیں