اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے والو!! خبردار رہو ۔۔۔!!

میڈیا کے مداریوں نے چار دن سے پھر ایک طوفان بدتمیزی اٹھایا ہوا جس نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔۔ قصہ کچھ یوں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے صرف ایک رکن کی گزارشات کو جو ابھی صرف کونسل میں بحث کے لیے پیش کی گئیں نہ ہی ان کو ابھی بل کی شکل دی گئی ہے اور ان میں کہیں ” ہلکا پھلکا تشدد ” یا “ہڈی ٹوٹنے ” جیسے الفاظ تک موجود نہیں تھے مگر میڈیا کے اندر اور باہر بیٹھا ایک ایسا طبقہ جس کو قرآن اور سنت کے نام سنتے ہی انکے کانوں سے دھواں نکلنے لگتا انکی لمبی لمبی زبانیں مزید باہر کو لٹکنے لگتیں اور انکی کیفیت بلکل قرآن کی اس آیت کے مصداق دکھائی دینے لگتی کہ

” لہذا اس کی حالت اس کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں”۔
سورۃ الاعراف، آیت:۱۷۶

اس بے غیرت میڈیا نے جس طرح توڑ مروڑ کر ان گزارشات کولمحہ لمحہ کی بریکنگ نیوز بنا کر اپنی ریٹنگ اور ایجنڈے کو پورا کرنے لیئے عوام کے سامنے پیش کیا اور قرآنی آیتوں کا جیسے مزاق بنایا اور اسکے نتیجے مین جتنے لطیفے بنایے جارہے جودکھ اس بات کا کہ لادین سیکولر اور روشن خیال طبقہ تو جو کچھ کررہا سو کررہا مگر اس بہتی گنگا میں تو بلا تفریق ہر ایک اپنے ہاتھ دھونے میں لگا ہوا ہے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں …
یہ لوگ کیوں بھول گئے کہ یہ کسی مولوی کا یا کسی فرقہ یا طبقہ کا نہیں بلکہ ڈائیریکٹ اللہ اور اسکی آیات کا مذاق بنانا ہے ۔ ا
ان سب کے لیے تنبیہہ .!!!
یہ خدا کی آیات ہیں

دیکھو الله کی آیتون پر بدگمانی نه کرنا؛ شک نه کرنا؛ الله کی آیتوں کا مذاق مت اڑانا
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
٭ وَلاَ تَتَّخِذُوَاْ آيَاتِ اللہ هُزُوًا وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللہ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَاتَّقُواْ اللہ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (بقره 231)
اور اللہ کے احکام کو مذاق نہ بناؤ اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور اس نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے۔ اس کے ذریعے سے تمہیں نصیحت کرتا ہے اور اللہ کے غضب سے بچو اور سمجھے رہو کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

ترجمہ: ’’ اور اس نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک مت بیٹھو جب تک وہ کسی اوربات میں مشغول نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جائو گے ۔ یقین رکھو کہ اللہ تمام منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے ‘‘۔
اس آیت ِ مبارکہ میں اہلِ ایمان کو بڑے سخت انداز میں اس بات پر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مجالس اور محافل سے پرہیز کریں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے احکام کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ جو شخص ایسی باتیں سن کر بھی اُن کے ساتھ بیٹھا رہا تو وہ انہی میں سے شمار ہو گا اور آخرت میں اُس کا حشر بھی انہی کافروں کے ساتھ ہو گا ۔

یہ آیت مبارکہ سورۃ الانعام کی ہے ‘ اللہ کریم فرماتے ہیں :
واذا رأیت الذین یخوضون فی اٰیٰتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین (الانعام ۔۶۸)

ترجمہ :’’ اور جب تم اُن لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں تو اُن سے اُس وقت تک کے لئے الگ ہو جائو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں ۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو ‘‘۔

امام فخر الدین رازی ؒ نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ اس آیت کا اصل منشاء گناہ کی مجالس اور مجلس والوں سے اعراض اور کنارہ کشی ہے ۔ جس کی بہتر صورت تو یہی ہے کہ وہاں سے اٹھ جائے لیکن اگر وہاں سے اٹھنے میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا خطرہ ہو تو عوام کیلئے یہ بھی جائز ہے کہ کنارہ کشی کی کوئی دوسری صورت اختیار کر لیں مثلاً کسی دوسرے مشغلے میں لگ جائیں اور ان لوگوں کی طرف التفات نہ کریں‘ مگر خواص جن کی دین کی باتوں میں پیروی کی جاتی ہے ‘ اُن کیلئے تو وہاں سے اٹھ جانا ہی مناسب ہے ۔

سورۃ التوبہ کی تین آیات ہیں ۔ اللہ پاک کا ارشاد گرامی ہے :

یحذ ر المنفقون ان تنزل علیھم سورۃ تنبئھم بما فی قلوبھم قل استہزء وا ان اللہ مخرج ما تحذرون … ولئن سا لتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل اباللہ و ایاتہ ورسولہ کنتم تستہزء ون … لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم ان نعف عن طائفۃ منکم نعذب طآئفۃ بانھم کانوا مجرمین۔

ترجمہ : ’’ منافق لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کہیں کوئی ایسی سورت نازل نہ کر دی جائے جو انہیں ان (منافقین) کے دلوں کی باتیں بتلا دے ۔ کہہ دو کہ :’’ (اچھا !) تم مذاق اڑاتے رہو ، اللہ وہ بات ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے تھے ‘‘…اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقینا یوں کہیں گے کہ :’’ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے ۔ ‘‘ کہو کہ :’’ کیا تم اللہ اور اُس کی آیتوں اور اُس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے ؟… بہانے نہ بنائو ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہو چکے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معافی دے بھی دیں ، تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے ‘ کیونکہ وہ مجرم لوگ ہیں ۔‘‘

امام حرم نے انتہائی فصیح و بلیغ عربی میں اہلِ ایمان کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ شعائر اللہ اور تمام دینی احکامات کی توقیر اور عظمت اپنے دلوں میں پیدا کریں ۔
، امامِ حرم نے انتہائی سخت الفاظ میں اُن پر نکیر فرمائی اور آپ بار بار آیت ِ مبارکہ کا یہ جملہ پڑھتے:
اَباللہ وآیا تہ و رسولہ کنتم تستہزء ون
’’ کیا اللہ ‘ اس کی آیات اور اُس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی مذاق کرتے تھے؟‘‘
٭ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاء وَاتَّقُواْ اللہ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
٭ وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْقِلُونَ (مائده 57 و 58)
ترجمہ:
اے ایمان لانے والو ! اس جماعت میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب عطا ہوئی ہے، ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل سمجھ رکھا ہے اور کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ کے غضب سے بچو اگر تم ایمان رکھتے ہو ۔
اور جب تم نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔
٭ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُوًا۔ (کهف 56)
٭ اور ہم نہیں بھیجتے پیغمبروں کو سوا خوش خبری دینے والے اور (عذاب سے) ڈرانے والے کے اور جو کافر ہیں وہ غلط دلائل سے بحث کرتے ہیں تاکہ ان سے حق کو شکست دیں اور انہوں نے مذاق بنا لیا میری آیتوں کو اور جو انہیں ڈرایا گیا۔
٭ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا۔ (کهف 106)
یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا انکار کیا تو ان کے اعمال اکارت گئے۔ اب ہم روز قیامت ان کا کوئی وزن نہ سمجھیں گے۔
“یہ ان کی سزا ہے دوزخ، اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے پیغمبروں کا مذاق اڑایا۔

٭ وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ۔ (انبیاء 36)

اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ “کیا یہی وہ ہے جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے؟”اور ان کا عالم یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن کے ذکر سے منکر ہیں۔

٭ وَ إِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللہ رَسُولًا۔ (سوره فرقان 41)

اور جب وہ آپ کو دیکھیں گے تو بس آپ کا مذاق اڑائیں گے، کیا یہ وہ ہے جسے اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔

٭ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللہ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ۔
٭ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔ (لقمان 6 و 7)

اور انسانوں میں ایسا شخص بھی ہوتا ہے جو تفریحی باتوں کا خریدار ہے تاکہ اللہ کے راستے سے بغیر واقفیت کے بھٹکائے اور اس کا مذاق اڑائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پیش ہوتی ہیں تو وہ منہ موڑتا ہے تکبر سے کام لیتا ہوا جیسے کہ اس نے سنا ہی نہیں جیسے کہ اس کے کانوں میں گرانی ہے تو اسے خوشخبری دو دو نا دو ن عذاب کی۔

٭ وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ۔
٭ يَسْمَعُ آيَاتِ اللہ تُتْلَى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۔
٭ وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا أُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ۔
جاثیه 7 ، 8 ، 9

تباہی ہے ہر گنہگار جھوٹے کے لیے۔
جو سنتا ہے آیات الٰہی کو کہ وہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر وہ تکبر سے کام لیتا ہوا ہٹ دھرمی کرتا ہے جیسے کہ انہیں اس نے سنا ہی نہیں تو اسے خوشخبری دیجئے دردناک عذاب کی۔
اور جب ہماری نشانیوں میں سے کسی کا اسے علم ہوتا ہے تو اسے مذاق کا ذریعہ بنا لیتا ہے یہ وہ ہیں کہ ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

٭ وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُون۔
٭ وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَذَا وَمَأْوَاكُمْ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ۔
٭ ذَلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللہ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ۔ (جاثیه 33 تا 35)
اور ان کے سامنے آئیں برائیاں اس کی جو انہوں نے کیا تھا اور گھیر لیا انہیں اس نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
اور کہا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلاوے میں ڈالتے ہیں جس طرح تم نے بھلایا تھا اپنے اس دن کے سامنے آنے کو اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے کوئی مددگار نہیں ہیں۔
اس لیے کہ تم نے آیات الٰہی کا مذاق اڑایا اور تمہیں دنیوی زندگی نے فریب میں مبتلا کیا تو اب آج وہ یہاں سے نکل نہیں سکتے اور نہ ان سے رضاجوئی کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔

جو لوگ اس میں اپنا حصہ ڈال چکے انہیں توبہ کرنی چاہیئے اور رجوع کرنا چاہیئے اور وقت کے اس فتنے کو سمجھیں اور بچیں آنے والے ایسے اور بہت سے فنتوں سے جو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔

کیا ایسے ہی وقت کی پیش گوئی میرے آقاﷺ نہیں کر گئے تھے کہ ” ایک وقت ایسا آئے گا کہ انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ”
اللہ سے ان فتنوں سے پناہ کی دعاوں کیساتھ اپنی نگاہیں اپنے کان کھلے رکھنے کی اشد ضرورت ہے
ایسا نہ ہو کہ ہم بھی اسی کھیل تماشے میں مگن ہوجائیں اور پھر ہمارا ذکر بھی نہ داستانوں میں ۔۔۔!!

1 تبصرہ
  1. 12 July, 2016
    میرا فسر امان

    اللہ آپ کو ایمان کے ساتھ اسلام سے جوڑے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *