“نفل پڑھتے ہوئے بھولنا مت مجھے ضرور بلا لینا”


تحریر : ضیاءالمجید ضیائی

“ضیاء بھائ کیا پروگرام ہے پھر آج رات کو نفل پڑھنے کا” دوست نے اچانک پیچھے سے آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓبنا سلام دعا کیۓ سوال داغا…..
میں نے سلام کرنے کے بعد اس کا جواب دینے کے لۓ ابھی منہ کھولا ہی تھا کہ قریبی مسجد سے اذان کی آواز سنائ دی. اس کے جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے کہا ” چل یار نماز پڑھ کے آتے ہیں”ا
“نہیں یار آپ جاؤ میں نے ابھی غسل کر کے قبرستان مٹی ڈالنے بھی جانا ہے بھائ پھول اور اگر بتیاں لے کے آتا ہی ہو گا.. آپ پڑھ آؤ. رات کو نفل جب پڑھنے لگو تو بلا لینا مجھے ٹھیک ہے نا؟”
اچانک میری نظر اس کے ہاتھ میں موجود شاپر پڑی… تجسس کے مارے پھر اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوۓ میں نے شاپر کے بارے استفسار کیا ” یہ کیا لے کے جا رہے ہو؟”
“بھائ یہ شبرات لے کے جا رہا ہوں بہن کے گھر بھانجے کے لۓ دو ڈبیاں پٹاخوں کی اور کچھ ہوائیاں وغیرہ لی ہیں”. اس سے پہلے کہ میں آتش بازی کے نقصان اور گناہ پر کوئ لیکچر جھاڑتا اس نے دہرایا…
“اچھا پھر نوافل کا پروگرام پکا ہے نا آج مسجد میں؟؟ ”
اس کی سوئ بدستور وہیں اٹکی ہوئ تھی..
“چل ایسا کرتے ہیں عشاء کی نماز پے اکٹھے چلیں گے نماز کے بعد نفل پڑھ لیں گے” آخر کار میں نے جواب دیا…
“او یار وہ دراصل گھر آج دیگ پکوانی ہے اور محلہ میں بانٹنی بھی ہے اس لئے میں نہیں پہنچ پاؤں گا آپ نا جب نفل پڑھنے لگو تو مجھے میسج کر دینا ..بیس نفلوں کی منت مانگی ہوئ ہے ..ٹھیک ہے نا.چلو آپ نماز پڑھ کے دعا کرنا میرے لئےبھی.. پھر ملتے ہیں…”
وہ یہ کہہ کر جاتے ہوئے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر گیا کہ یار ہم اپنی خود ساختہ روایات میں کتنے کھو گئے ہیں کہ نفل کو فرض پر ترجیح دینے لگ گئے ہیں. فرائض کو ادا کرنے سے زیادہ نوافل کی فکر پڑ گئ ہے.
عزیزان من نوافل کی ذکر واذکار کی اہمیت اپنی جگہ مہتم بالشان ہے پر یاد رکھۓ اگر فرائض کو ادا کئے بغیر نوافل ادا کئے جا رہے ہیں تو وہ بارگاہ ایزدی میں ناقابل قبول ہیں.. اللہ ہم سب کو ہدایت عطاء فرماۓ..

1 تبصرہ
  1. 25 May, 2016
    Ziaulmajeed

    jazakillah

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *