“قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی میں اصل تقریر اور سیکولر طبقے کے تضادات”

تحریر : شمس الدین امجد

”آپ نے اکبر کی جس فراخدلی کا ذکر کیا ہے وہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ اس کا آغاز 13 سو برس قبل ہو گیا تھا جب ہمارے نبی کریم ﷺنے فتح مکہ کے بعد اور میثاق مدینہ کی صورت میں نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر مشرکین مکہ، یہودیوں اور عیسائیوں سے فراخدلانہ سلوک کیا اور ان کے عقائد کا مکمل احترام کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ (بحوالہ پاکستان میری محبت از ڈاکٹر صفدر محمود صفحہ 52)
قائد اعظم ؒ کے یہ الفاظ آپ نے پہلے پڑھے ہوں گے مگرشاید یہ معلوم نہ ہوکہ یہ 14 اگست کو ان کی تقریب حلف برداری کے بعد دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کے ہیں، جو انھوں نے لارڈمائونٹ بیٹن کے جواب میں کہے تھے۔ مائونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں اکبر بادشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ پاکستان میں بھی اکبر جیسے لبرل ازم کا مظاہرہ کیا جائے گا اور اقلیتوں کے ساتھ ویسا سلوک کیا جائے گا جیسا اس کے زمانے میں تھا۔ یاد رہے کہ اکبر اپنی لادینیت، اسلام سے انحراف اور دین الہی کا موجود ہونے کی وجہ سے مائونٹ بیٹن سے ہندئوں اور سیکولرز تک، سب کا رول ماڈل رہا ہے ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہاں چند نکات پر غور کرنا مناسب ہوگا۔ قائداعظم کی 11 اگست کی ‘متنازعہ’ تقریر سیکولر لابی کےلیے دستور ساز اسمبلی میں ہونے کی وجہ سے واحد دلیل اور سند کا درجہ رکھتی ہے اور اس کی بنیاد پر تحریک پاکستان اور قراردادمقاصد کی نفی کر دی جاتی ہے، مگر صرف 3 دن بعد جی ہاں 3 دن بعد انھی قائداعظم کی اسی دستور سازاسمبلی میں کی گئی تقریر کا ذکر گول کر دیا جاتا ہے۔ صرف اس لیے کہ انھوں نے اکبر بادشاہ کے بجائے حضور نبی کریم ﷺ کو اپنا رول ماڈل قرار دیا اور یہ واضح کر دیا کہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں وہ اکبری سیکولرزم پر نہیں بلکہ سنت نبوی ﷺ پر یقین رکھتے ہیں۔ 14 اگست کو کی جانی والی اس تقریر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بطور گونر جنرل حلف برداری کے بعد کی گئی تھی۔ سیکولر لابی کا کہنا ہے کہ 11 اگست کو چونکہ قائداعظم ؒ نے دستور سازاسمبلی کے سامنے تقریر کی تھی اس لیے وہ رہنما ہدایت کا درجہ رکھتی ہے، تحریک پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے بعد ان کی تقاریر کے بجائے دستور ساز اسمبلی کو اسے سامنے رکھنا چاہیے تھا تو بجا طور پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ حلف برداری سے پہلے کی تقریر اہم ہے یا حلف برداری کے بعد؟ قانونی حیثیت کس کی زیادہ ہے اور رہنما حیثیت کسے حاصل ہوگی؟ اگر 11 اگست والی تقریر کو غیرمتنازعہ مان لیا جائے تو بھی قائداعظم ؒ کو اس کا حق کیوں نہ دیا جائے کہ اس معاملے میں اسی دستورساز اسمبلی کے سامنے کی گئی تقریر کو وضاحت اور تتمہ سمجھا جائے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں قراردادمقاصد پر اٹھنے والے تمام اعتراضات زمین بوس ہو جائیں گے اور یہ بات واضح ہو جائے گی کہ دستورساز اسمبلی نے تحریک پاکستان کے وعدوں اور قائداعظم کی 14 اگست کی ہدایت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے منظور کیا تھا
قائداعظم ؒ قرآن و سنت کے قانون کا ماخذ ہونے اور ان کے نفاذ کے حوالے سے بالکل واضح تھے اور برطانیہ سے واپسی، مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالنے سے قیام پاکستان اور ان کی وفات تک اس حوالے سے ان کے خیالات میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ خاص قسم کی یکسوئی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ بعض عناصر قوم کو اس کی منزل سے ہٹانا چاہتے ہیں اس لیے 25 جنوری 1948 کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ” یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں شریعت نافذ نہیں ہوگی۔ یہ شرارتی عناصر کا پروپیگنڈہ ہے۔ نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کو بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں” یہاں لفظ شرارتی پر غور کیجیے تو مدعا سمجھ آ جائے گا۔ افسوس کہ 7 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہ شرارتی عناصر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آ رہے۔ غیر مسلموں کو ہپ تاکید بھی قابل غور ہے کہ انھیں اسلامی شریعت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ قرارداد مقاصد پر کیے جانے والے اعتراض کا جواب بھی ہے۔
قائد اعظم ؒ کے نزدیک دستور کی بنیاد کیا ہوگی ؟ اس کا جواب انھوں نے یکم فروری 1948 کو امریکی عوام کے لیے براڈ کاسٹ میں واضح کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا
” مجلس دستورِ پاکستان کو ابھی پاکستان کا دستور مرتب کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی، لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا، جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے۔ آج بھی ان اصولوں کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہوسکتا ہے، جیسا کہ 13 سو برس قبل ہوسکتا تھا۔ اسلام نے ہرشخص کے ساتھ عدل اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شاندار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستورکے مرتبین کی حیثیت سے ہم انہی ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔ بہرنوع، پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہوگی، جس پر آسمانی مقصد کے ساتھ پاپاؤں کی حکومت ہو‘‘۔ (’قائداعظم کے بیانات، تقاریر‘ مرتبہ خورشید یوسفی جلد چہارم، ص 694)
ڈاکٹر صفدر محمود کے بقول چند نکات اس میں خاصے واضح ہیں۔ ایک تو یہ کہ دستور، دستور ساز اسمبلی نے بنانا ہے، قائداعظم نے نہیں، مطلب دستور ساز اسمبلی کا جو حق قائداعظم ؒ تسلیم کرتے تھے ، سیکولرطبقہ وہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ دستورجمہوری اور اسلام کے لازمی اصولوں پر مبنی ہوگا۔ قرارداد مقاصد اور دستور کی اسلامی دفعات پر اعتراض اس نکتے کی رو سے بے معنی ہیں اور لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے لازمی اصول روبہ عمل ہوں گے تو پھر پاکستان سیکولر کیسے ہوگا۔ تیسرا یہ کہ ’’اسلام کے اصول13 سال بعد بھی ویسے ہی قابلِ اطلاق ہیں اور ہم اہلِ پاکستان قطعاً معذرت خواہ نہیں ہیں کہ بیسویں صدی میں آٹھویں صدی ہجری کے عطا کردہ ضابطوں کو روبہ عمل لانے سے کسی طور پر شرمائیں‘‘۔ چوتھا یہ کہ ’’اسلام ہرشخص کے ساتھ (یعنی غیرمسلموں کے ساتھ بھی) عدل اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے اور دستورسازی انہی اصولوں پر ہوگی‘‘۔ پانچواں یہ کہ ’’ یہاں پر حکمرانی پاپاؤں کی نہیں ہوگی، جو کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہوں اور اپنے ہر برے بھلے فعل کو تقدس کی مہر سے نافذ کرنے کی دھونس جمائیں۔” ایسا اختیار یا استثنا اسلام میں سرے سے ہے ہی نہیں، ایسا مذہبی اقتدار صرف عیسائیوں میں تھا، جس سے مسلمانوں کی تاریخ کا کوئی تعلق نہیں۔ ( کالم بعنوان قائداعظم اور سیکولرزم کے علمبردار)
قائداعظم ؒ نے یہ سب لفظا کہا نہیں تھا بلکہ اپنی زندگی میں اس پر عملدرآمد بھی شروع کروا دیا تھا۔ اس حوالے سے ایک واقعہ قابل غور ہے۔ جنرل محمد اکبر خان جنھیں قائداعظم کی علالت کے دوران زیارت میں تین دن مہمان رہنے کا اعزاز حاصل ہوا، ان دنوں انھوں نے قائد کو فوجی میسوں میں انگریز حکومت کی شروع کی گئی شراب نوشی ختم کی تجویز دی۔ اپنی کتاب میری آخری منزل کے صفحہ 281 پر جنرل اکبر خان لکھتے ہیں ” قائد نے اپنے اے ڈی سی کو بلایا اور کانفیڈریشن باکس لانے کو کہا۔ باکس کھول کر مراکشی چمڑے سے جلد بند ایک کتاب نکالی، انھوں نے اسے اس مقام سے کھولا جہاں نشانی رکھی ہوئی تھی اور فرمایا جنرل یہ قرآن مجید ہے اور اس میں لکھا ہے کہ شراب اور منشیات حرام ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ایک حکم جاری کریں اور افسروں کو متنبہ کریں کہ شراب حرام اور منع ہے۔ قائداعظم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ قائدکا حکم قرآن مجید کے احکامات سے زیادہ مئوثر ہوگا۔ پھر سٹینو کو بلایا گیا۔ قائداعظم نے ایک مسودہ تیار کیا ، اس میں قرآنی آیات کی جانب توجہ دلا کر فرمایا کہ شراب منشیات حرام ہیں۔ میں نے اس مسودے کی نقل لگا کر شراب نوشی بند کرنے کا حکم جاری کر دیا جس پر میری ریٹائرمنٹ تک عمل ہوتا رہا”
سیکولر طبقے کی طرف سے ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم کی طرف سے اسلام کا بار بار حوالہ سیاسی پس منظر میں تھا، قیام پاکستان کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں قائداعظم برصغیر کے مسلمانوں سے جھوٹ بول رہے تھے اور سیاست کے نام پر انھیں دھوکہ دے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ بابائے قوم پر بہتان کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قائداعظم ان خیالات کا اظہار قرارداد پاکستان کی منظوری سے بھی پہلے کر رہے تھے اور اس حوالے سے بہت واضح ذہن کے حامل تھے۔ 10 جون 1938 کو میمن چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ” مسلمانوں کے لیے پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے پاس تیرہ سو سال سے مکمل پروگرام موجود ہے اور وہ ہے قرآن کریم۔ تعلیمات قرآنی میں ہی ہماری نجات ہے اور انھی کے ذریعے ہم ترقی کے تمام مدارج طے کر سکتے ہیں۔” ایک اور جگہ انھوں نے کہا کہ ” قرآن حکیم میں انسان کو اللہ تعالی کی زمین پرخلیفہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ قرآن حکیم کی تعلیمات پر عمل کریں اور دوسروں سے اسی طرح سلوک کریں جیسا کہ اللہ کی ہدایت ہے۔ (’قائداعظم کے بیانات، تقاریر‘ مرتبہ خورشید یوسفی جلد 2، ص 1060) پیر آف مانکی شریف کو خط کے ذریعے انھوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ” پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کبھی شریعت کے منافی قوانین نہیں بنائے گی اور نہ ہی پاکستان میں غیر اسلامی قوانین کی اجازت دیں گے۔ ”(بحوالہ دستور ساز اسمبلی کارروائی 9 مارچ 1949 جلد V نمبر 3 صفحہ نمبر 46)
قائداعظم ؒ پاکستان کی منزل’ اسلامی نظام’ کے حوالے سے واضح تھے، مسلمانان برصغیر نے اسی وجہ سے ان پر اعتماد کیا تھا اور ان کی قیادت میں ‘ اسلامی پاکستان’ کا خواب دیکھا تھا اور حالیہ سروے میں 94 فیصد پاکستانی قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کی رائے دے کر اس خواب کی عملی تعبیر چاہتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے راستے سے ہٹانے اور سیکولرزم کی خواہش رکھنے والوں کی حیثیت خود قائداعظم کے الفاظ میں ‘ شرارتی عناصر’ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *