ظالم وقت کا پہیہ!!

تحریر : اسری غوری

ہم جناح ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں کھڑے تھے سامنے بیڈ پر پشاور سے تعلق رکھنے والا ایک جمعیت کا نوجوان کراچی یونیورسٹی کا طالب علم سر سے تا پیر تک پٹیوں میں لپٹا ہوا اتنہائی تشویشناک حالت میں تھا اس کے جسم پر خنجر سے اک سیاسی جماعت کا نام لکھا ہوا تھا اس کا جسم جگہ جگہ سے سیگریٹ جلایا ہوا تھا اس کی ہڈیوں میں کیلیں ٹھوکی گئی تھیں ….
آہ !! غرض وہ کونسا بہھیمانہ تشدد تھا جو اس کے جسم نے نہ سہا ہو…
ہماری آنکھوں سے آنسو نہیں رک پارہے تھے ہم ایک دوسرے سے کویی بات نہیں کر پارہے تھے بس سسکیاں ہی اس کمرے کے وحشت زدہ سکوت کو توڑتی اور اللہ کے حضور ہماری فریاد لیکر روانہ یوجاتیں ….
نجانے کتنے ہی لمحے یوں اس کڑیل جوان کے زخموں سے کٹے جلے لاغر سے وجود کر دیکھتے گزر گیے….
اس کے بدن کا اک اک حصہ چلا چلا کر ظالموں کے اس بھیانک ظلم کی داستاں سنا رہا تھا….
اور یہ کویی اک حادثہ نہیں …
شہر کراچی میں ” اسلامی جمعیت طلبہ ” کی تاریخ میں لہو میں تر ایسی داستانیں بھری پڑی ہیں….
اے کاش کویی سننے والا ہوتا…
اے کاش کویی دیکھنے والا ہوتا….
اے کاش کویی ان کا بھی تو نوحہ لکھتا اے کاش کویی ان کے قاتلوں کے خلاف بھی تو ایکشن لیتا….
اے کاش کویی اس وقت بھی انکوایریاں بٹھاتا….
اے کاش کو ئی صحافی ان کے بنایے ٹارچر سیلوں کی بھی لایو کوریج کرتا..
اے کاش…….
میں ہر گز یہ نہیں کہتی کہ یہ وقت کویی جشن منانے کا ہے…
میرا تو بس اتنا کہنا کہ
یہ ٹارچر سیلوں کے موجد یہ کیسے بھول گیے کہ وقت بڑا ظالم ہے اور یہ کہ
تاریخ یہ بتاتی ہے بادشاہوں کی آخری عمریں اپنے ہی بناے ہویے ہویے عقوبت خانوں اور تہہ خانوں کی نذر ہوئیں ….
#مکافات_عمل

2 تبصرے
  1. 9 May, 2016
    عمار ابنِ ضیا

    اسے کہتے ہیں، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

    Reply
  2. 9 May, 2016
    عمار ابنِ ضیا

    لیکن بہرحال، تشدد، ظلم اور ایسے غیر انسانی رویے قابلِ مذمت ہیں چاہے کسی کی بھی جانب سے ہوں۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *