کیو موبائل کا اشتہار، اوریا مقبول جان کی تنقید اور بعض احباب کا رویہ

تحریر : شمس الدین امجد

سید منورحسن صاحب زمانہ طالب علمی میں کمیونسٹ طلبہ تنظیم این ایس ایف سے وابستہ تھے۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اچھا زمانہ تھا این ایس ایف میں تھے تو جمعیت والوں سے ایک میز پر آمنے سامنے بحث ہوتی تھی اور وہیں سے اٹھ کر ساتھ چائے پینے چلے جاتے تھے۔ جمعیت میں آئے تو سائیڈ بدل گئی، معمول مگر وہی رہا۔ انھی دنوں کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک کمیونسٹ دوست نے اپنی شادی میں مدعو کیا تو جمعیت کے احباب کے ہمراہ وہاں چلے گئے۔ نکاح ہونے لگا تو از راہ مذاق اس دوست سے سرگوشیوں میں کہا کہ بھائی صاحب اللہ رسول پر یقین نہیں رکھتے، اسلام کو مانتے نہیں تو یہ نکاح کیسا؟ کھل کر کہیں کہ میں اس فرسودگی پر یقین نہیں رکھتا، بس آج سے میں یہ اور لڑکی ایک ساتھ رہیں گے، نکاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب دوست کی حالت دیکھنے والی تھی، شرمندگی سے ہاتھ باندھے کہتے منور بھائی جانے دیں، سب کے سامنے تو ایسے نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ اسے اسلامی کہیں یا معاشرتی، یہ روایات اتنی مظبوط ہیں کہ کوئی ملحد اور دہریہ بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ پاکستانی معاشرہ ذہنی طور پر انتہائی مذہبی ہے، عمل میں نستبا سیکولر ہے مگر انتہائی سیکولرزم یا دہریت کی صورت میں بھی اس میں گناہ اور بخشش کا احساس لاشعور میں موجود رہتا ہے۔ فرد کی زندگی کے بعض سیکولر مظاہر سے یہاں کمیونسٹوں اور سیکولر لابی نے دھوکہ کھایا ہے۔ ان کی مذہب اور معاشرت پر بےجا تنقید فرد کی مذہبی ذہنیت اور اس کے ردعمل میں اضافہ کرتی ہے، یہی ان فکروں کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔
کیو موبائل کے اشتہار پر اوریا مقبول جان کے ردعمل سے بعض احباب ان کے خلاف میدان میں آئے ہیں، سیکولر سوچ کے حاملین کا ردعمل تو بنتا ہے، ایک اوریا صاحب کیا، وہ تو ہر عمل اور ردعمل پر شاکی نظر آتے ہیں۔ مگر ہمارے ایک دوست نے شہری و قبائلی زندگی میں فرق بتا کر فحاشی و عریانی کی کوئی متعین تعریف نہ ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے حالانکہ اسلام اور مسلم معاشرے میں تو اس کی تعریف متعین ہے اور مرد و عورت کے لباس اور نظر اور دونوں کے باہمی تعلق کے حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں۔ معاشرے میں کوئی ان پر عمل نہ بھی کرتا ہو مگر دل میں کہیں نافرمانی کا احساس موجود رہتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس سے ہمارے احباب پہلوتہی کر رہے ہیں۔
اوریا صاحب پر ایک دلچسپ اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انھیں شہر میں آ کر فحاشی و عریانی کا اپنا تصور بدل لینا چاہیے تھا۔ گویا اگر کسی دوست کے شہر میں آنے سے اس کے دیہاتی فحاشی و عریانی کے تصور میں کوئی فرق آ گیا ہے تو دوسرے کو بھی لازما ایسا کرنا چاہیے، یہ تنوع کے ان کے اپنے بنیادی اصول کے تو خلاف ہے ہی مگر اسلامی تعلیمات اور احکامات کے بھی بالکل منافی ہے جو شہر و دیہات دونوں کے لیے یکساں ہیں۔ گاہے معاشرت بھی مذہب کا حصہ نظر آتی ہے تو چیزیں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ شریعت کا اصل حکم تو ستر ڈھانپنا، عورت کےلیے سینے پر اوڑھنی ڈالنا اور مرد و عورت دونوں کا نظر نیچے رکھنا ہے، اب کہیں شٹل کاک برقع مروج ہے اور کہیں دوسرا، اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ شہر و دیہات کی تفریق سے تصور میں کوئی فرق آیا ہے، درست نہیں ہے، بلکہ مروج میں بھی کہیں کمی کوتاہی ہوگی تو ایک احساس باقی رہے گا کہ اسے دور ہونا چاہیے۔
اوریا صاحب نے اس ایشو پر اپنے پروگرام میں بات کی تو ان کے مخالفین میدان میں آ گئے ہیں ورنہ اس پر بات تو سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے ہو رہی تھی، پوسٹس ، ڈیزائنز اور ٹوئٹر پر بحث کی صورت میں، اگر کسی کی نظر سے وہ نہیں گزری تو اس کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ اس پر کوئی بات یا بےچینی نہیں تھی۔ ہمارے ہاں چونکہ سیکولر لابی اوریا صاحب کے بولڈ مئوقف کی وجہ سے ان پر خاص طور پر مہربان ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اور شعائر اسلام کے بارے میں ایک واہیات بکنے والے کی حمایت میں بھی صرف اوریا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ دلیل کا معیار اگر اوریا صاحب کی حمایت یا مخالفت ہے تو اس سے تو خود دلیل بھی کہیں شرما جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اوریا صاحب نے معاشرے کی واضح اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کی۔ میرے جیسا دیہاتی آدمی جسے اب لاہور میں 17 سال ہونے کو ہیں، وہ اب بھی انھی خیالات کا حامل ہے جو اوریا صاحب نے بیان کیے ہیں، اور جس پر اعتراض وارد ہوا ہے۔ شہر میں آنے یا ایسی فحاشی دیکھنے یا اس میں مبتلا ہونے سے معیار کیونکر اور کیسے بدل جائے گا۔ کوئی اگر مغرب میں ہے اور غسل آفتابی کا لباس پہنے کسی خاتون کو دیکھنے سے بالفرض اگر اس کے جذبات برانگیختہ نہیں ہوتے تو وہاں بسنے والے ایک مسلمان کے لیے کیسے جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور فحاشی کی تعریف کیسے بدلی جا سکتی ہے کہ اکثریت اسے برا نہیں سمجھ رہی تو تم بھی نہ سمجھو۔ خود یہاں پاکستان میں بھی ایک طبقے کےلیے تو زنا بھی فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا، شراب بھی اس کے لیے حلال ہے اور وہ عملا ایسے مادر پدر آزاد معاشرے کےلیے کوشاں بھی ہیں کہ جہاں شباب اور شراب پر کوئی قدغن نہ ہو تو کیا اس طبقے کی یہ رائے قبول کر لی جائے کہ اسے برا نہیں لگتا تو مروج ہو جائے۔
سیکولر اور کمیونسٹ مخصوص مردانہ معاشرے یا مخصوص مردانہ ذہنیت کا طعنہ دیتے ہیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ایک لڑکی کو جب مطلوبہ آزادی ملتی ہے تو وہ ایک سے زیادہ جگہوں پر انھی آزادی دلانے کے دعویدار مردوں کے استحصال کا شکار ہوتی ہے، ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کروانا اگر کسی مرد کی ہوس کا شکار ہو کر خودکشی پر مجبور ہونا ہو تو اس سے گھر میں رہنا بھلا نہیں ہے۔ اشتہار کرکٹ سے متعلق ہے تو کیا ملتان کی خاتون کرکٹر یاد نہ رکھی جائے جس نے کرکٹ میں خواتین کے استحصال کی بات کی، سلیکشن کےلیے خود مقامی ایسوسی ایشن کے صدر اور سلیکٹر کی دست درازی کا شکار ہوئی، مزید کئی لڑکیوں کے بارے میں بتایا اور کہیں شنوائی نہ ہونے پر خودکشی پر مجبور ہو گئی۔ خیال رہے کہ بالعموم ان معاملات و اداروں میں لڑکی ہوس کا نشانہ انھی سیکولر خیالات کے حاملین کے ہاتھوں بنتی ہے، پاکستان چھوڑیے خود یورپ و امریکہ کے بارے میں چشم کشا رپورٹس دیکھ لیجیے جہاں کے بارے میں سیکولرز کا خیال ہے کہ آزادی دینے اور جنس کی فراوانی سے وہاں جنسی حوالے سے طبیعتوں میں ٹھہرائو پیدا ہو گیا ہے، وہاں عورت کس قدر جنسی استحصال اور دست درازیوں کا شکار ہے۔
اس طرح کے معاملات سے جو معاشرتی خرابیاں جنم لیتی ہیں ، وہ کیا سیکولر اور کیا مذہب پسند، دونوں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، سیکولر کا مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسے خرابی سمجھتا ہی نہیں بلکہ اس کا حتمی ہدف ہی عورت تک پہنچنے کی ایسی آزادی کا حصول ہے جہاں آزادانہ طور پر محفلیں سجائی جا سکیں اور عورت سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ مذہب پسند فرد اور معاشرے کا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے، اور وہ اس کےلیے اسلامی تعلیمات و احکامات کی پابندی کو ضروری خیال کرتا ہے۔ اور یہ وہ بنیادی فرق ہے جسے اوریا صاحب جیسے حضرات معاشرے کی نمائندگی کرتے ہوئے برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ گناہ اور کمی کوتاہی اپنی جگہ اور اس کی کسی بھی وقت اصلاح ہو سکتی ہے مگر کم ازم کم اسلامی احکام تو بطور اصول واضح اور سامنے رہنے چاہییں۔ سیکولر لابی اور ‘معتدل’ احباب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ردعمل اور متشدد سوچ کا رونا روتے ہیں لیکن اپنے طور پر وہ خود کئی گنا زیادہ متشدد سوچ کے حامل نظر آتے ہیں جو کسی شخص کے بارے میں سانچہ پہلے بناتی ہے اور پھر اسے اس میں فٹ کرکے اصول و احکام کے بارے میں بھی فیصلہ سنا دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *