“لہو الحدیث”

تحریر : اسریٰ غوری

دورِ محمد ﷺ ہے عالم یہ ہے کہ جواک بار کلام الہٰی سن لیتا ہے پھر چاہے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے پلٹتا ہی نہیں یہ وہ وقت تھا جب جہالت کےگھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی انسانیت غفلت کی ایک بڑی نیند لینے کے بعد جاگ رہی ہے اور میرے محبوب نبی اکرم {صہ}اس سوئی ہوئی انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے دن رات تگ و دو میں سر گرداں ہیں مگر دوسری طرف جہالت کے ٹھیکدار جن کو یہ بیداری کسی طور پر پسند نہ تھی اور اس کے سدباب کے لئے سردار شیاطین سر جوڑ کے بیٹھے ہیں کیا کیا جائے کہ ان کے کانوں میں یہ کلام جانے سے روکا جاسکے ہر فرد ہی اس میں اپنا حصہ ڈالتا ایسا ہی ایک شخص جس کا نام نضر بن حارث تھا وہ تاجر تھاجو ایران سے واپسی پر اہل فارس کی داستانیں اور کسریٰ کے قصے خرید کر لاتا تھا اور کفار کو سنایا کرتا تھا کہ محمدۖ تم کو عاد و ثمود کے قصے سناتے ہیں۔ میں تم کو رستم اور اسفند یار کے قصے سناتا ہوں اور کفار وہ قصے سنا کرتے تھے۔ایک اور شخص گانے بجانے والی کنیزوں کو اس غرض کے لیے خرید کر لاتا تھا کہ جب رسولۖ اللہ ﷺ قرآن سناتے تھے تو وہ ان کنیزوں کو گانے بجانے پر لگا دیتا تا کہ لوگ قرآن نہ سنیں اس طرح وہ لوگوں کی توجہ کو اصل دعوت کی طرف سے ہٹا دیتا اس کی اس سازش کو رب نےنا صرف یہ کہ بے نقاب کیا
بلکہ ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ۔
اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے (۵) جو کلام دلفریب(۶) خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر (۷) بھٹکادے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑادے (۸)۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے (۹)
(لقمان )
زمانہ بدلا شیطان کی چالیں بدلیں ہاں مگر طریقہ واردات آج بھی وہی ہے کل لہو الحدیث میں قصے اور لونڈیاں لائی جاتی تھیں تو آج لہوالحدیث میں لونڈے لپاڑے اودھم دھاڑ مچاتے اور سارا سال اسلام کو اپنے گلے میں ڈالا گیا طوق سمجھ کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی نظرآتی ماڈل اس مہینے میں دوپٹے سر پر جمائے جھوم جھوم کر اسی اسلام کے منجن کو بیجتی نظر آتیں ہیں اور اس قوم کو دین سکھاتی نظر آتی ہیں ۔
یہ جو آپ کے اطراف میں ماحول نطر آرہا ہے کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ ایسے ہی اچانک کسی خود رو پودے کی طرح باہر نکل آیا ہے ؟؟
اگر آپ کا یہ خیال ہے تو بلکل غلط خیال ہے کیونکہ یہ باقائدہ پلاننگ کیساتھ کیا جارہا ہے
رمضان کی آمد سے پہلے بھی فتنہ انگیزیاں کچھ کم نہیں تھیں مگر ماہ مبارک کی آمد کے ساتھ تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے شیطان اپنے جن چیلوں کو گیارہ مہینے تربیت یافتہ کرنے کے بعد جو ذمہ داری ان کو سونپ کر گیا وہ جس جانفشانی ان شگردان ابلیس نے انجام دی ہے اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ قید سے رہائی پاتے ہی سب سے پہلے شیطان نے ان کو سینے سے لگا کر داد دینی ہے کہ ایسا کام تو میں بھی گیارہ مہینے نہیں کرپاتا جو تم اس ایک مہینے میں کرجاتے ہو ۔۔
معاملہ قادیانیوں کے کافر قرار دینے کے سوال کا ہو یا ۔۔ غلیظ زبان استعمال کرنے والی کسی عورت کو اسی زبان میں جواب میں ملنے پر دہائیاں دینے کا ہو یا کسی فاحشہ عورت کی سیلفیاں ہوں۔۔۔
یا پورے کے پورے ماہ مبارک ہی کو اغوا کرلینے کا ہو جس نے ہر چیز کو پراگندہ کردیا کہ جس ماہ مبارک میں رب نے حلال کو بھی اپنے لیے حرام کرلینے کا حکم دیا تا کہ تم رب کو اپنے قریب محسوس کرسکو اس کی قربت پا سکو اس کی رحمتوں کی طلب کرو
ایک زمانہ تھا کہ رمضان کی آمد کیساتھ ہی دلوں میں یہ بات راسخ ہوجاتی تھی کہ اب شیاطین جکڑے گئے اور اب نیک کاموں اور رحمتوں کا مہینہ ہے کیا بڑے اور کیا بچے ہر اک ہی اس بات پر ایمان لا کر خود کو بھی برائیوں سے بچانے اور نیکیوں کے لئے تیار رہنے پر آمادہ کرلیا کرتا تھا ۔۔
خود ٹی وی نشریات میں سے بھی گانے بجانے نکال دیئے جاتے تھے اس کے باوجود بھی گھروں میں رمضان کا مہنیہ ٹی وی تقریبا بند ہی کر دیا جاتا تھا۔
پھر ماحول بدلا اور نیا زمانہ نئی شامیں ہی نہیں بلکہ نئی راتیں نئی صبح بھی لیکر آیا اور وہ بھی ایسی طوفانی کہ اس نے سب کچھ تہس نہس کرڈالا یہاں تک کہ اس نے سب بڑی جو ضرب لگایی وہ یہ تھی کہ ہم سے ہمارے رب کو ہی چھین لیا ۔
وہ مہینہ جو گناہوں سے پاک کرنے کا باعث بنایا رب نے جس میں نامراد رہ جانے والوں کے لیئے روح امین ( جبریل ؐ ) کی زباں سے بدعا کروائی اور رحمت اللعالمین ﷺ کی زباں سے آمین کہلاوائی ” فرمایا
جبریل نے مجھ سے کہا
” جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر بھی اپنی بخشش نہ کرواسکے وہ برباد ہوجائے ”
اے محمد ﷺ آپ کہیں آمین ، تو میں نے کہا آمین
زرا تصور کیجیے کہ جس مہینے کو گناہوں کا کفارہ بنا دیا گیا تھا اسی مہینے میں گناہوں کی ایسی کثرت کھلے عام اس کے احکامات کی نافرمانی کیا اس رب کو چیلینج کرنا نہیں ؟؟؟
اس میں رب نے ایسے اوقات سے نوازا جن میں دعاوں کی قبولیت کی خوشخبری دی گئی اور اللہ سے قربت کی ساعتیں قرار پائیں “سحر و افطار” ان اوقات کے بارے میں نبیﷺ کی کتنی ہی احادیثیں ہیں جو ان کی فضیلت و اہمیت بیان کرتی ہیں ۔۔۔۔
خاص انہی اوقات کو نشانہ بنایا گیا اور انہی اوقات میں شیطان کے چیلوں نے یوں نقب لگوائی کہ وہ سحر اور افطار کے اوقات جورب کے سامنے گریہ وزاری میں گزرا کرتے تھے اب وہ شاگردان شیطان کے کھیل تماشوں کی بھینٹ چڑھادیئے گئے
میرے رب نے کہا مجھ سے مانگو کہ اس نے سیل لگا دی آؤ مجھ سے مانگو میں ایک کیساتھ ستر دونگا اور دیکھو میں تمہاری عزت نفس کو مجروع بھی نہیں ہونے دونگا کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوگی کہ تم نے مجھ سے کچھ مانگا ۔۔ کہ اس کے ہاں تو وہ عبادت جو تنہائی میں کی جائے سب سے افضل ٹھہرا کرتی ہے
جن دلوں میں کبھی نیکیوں اور رحمتوں کی بہاریں سمیٹنے کی طلب ہوا کرتی تھی اب ان کی جگہ گاڑی، موٹر سائیکل ،فردوس کی لان سے لیکر کیو موبائل کی ہوس نے لے لی
اور اس قوم کی اجتماعی عزت نفس کو یوں کچلا جارہا ہے کہ رمضان کے پاک مہینے میں سرعام اک مداری ایک لڑکی سے کہتا
” ٹھمکے لگاؤ گی تو دونگا ”
اور یہ تماشہ پھر ایسا چلا کہ ہر ایک نے اپنی دوکان سجا لی سب سے آگے میں کی دوڑ میں ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر خود کو بے غیرت ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے ۔۔

ماہ رمضان آخری عشرہ میں قدم رکھ چکا ہے وہ عشرہ کے جس میں اللہ نے ہزار مہینوں سے بڑھ کر وہ رات رکھ دی اور حکم دیا کہ اسے تلاش کرو اور اپنے رب کا قرب پانے کے لیئے معتکف ہوجاو تاکہ تماہری اس تلاش کے نتییجے میں تمہیں وہ سب عطا کر دیا جائے کہ جس کی خواہش میں تم در بدر پھرتے ہو اور وہ بھی جو اصل کامیابی ہے یعنی اسکی مغفرت ۔۔۔۔۔ اللہ منتظر ہے کیا ہم بھی تیار ہیں ؟؟؟
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم سنبھل جائیں اور توبہ کرلیں اور خود کو اس ” لہوالحدیث ” کے فتنہ میں غرق ہونے سے بچالیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اسی کھیل تماشے میں پڑے رہ جائیں اور جبریل کی زباں سے کی گئی بدعا اور آقا ﷺ کی زباں سے کہی آمین کی ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے ۔۔۔۔۔
وقت بہت کم مگر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *