” نام تو ان کا بھی حمزہ ہی تھا “

ابھی اسلام مغلوب تھا اور ہر جانب سے اس پر نشتر زنی کی جارہی تھی، ۔۔۔
طعنہ یہ دیا جاتا تھا کہ بس کمزور اور پسے ہوئے لوگ ہی اس کے دامن میں پناہ لے رہے ہیں
اور ابھی تو کوئی کھل کر اپنے اسلام کو ظاہر کرتا تو زیر عتاب آجاتا تھا ۔۔۔۔۔
ایسا ہی ایک موقع تھا جب کعبہ میں داخلے پر ابوجہل مسلمانوں سے جھگڑتا اور کافروں کو پکار پکار کر بلاتا ہے۔ گنتی کے چند مسلمانوں پر کافرغالب ہوجاتے ہیں
اسی اثنا میں دور سے کہیں سفر سے ایک قوی نواجوان (جن کا پورے مکہ میں ایک رعب و دبدبہ ہے ) لوٹتے اور سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے وہ جھگڑنے والوں کے درمیان پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔
نگاہ ڈالتے ہیں تو ہر مسلمان کے جسم کے کسی نہ کسی حصہ سے خون بہہ رہا ہے ۔۔۔۔
ان کو درمیان میں پاکر ایک دم سناٹا چھا جاتا ہے کہ ان کی دہشت ہی ایسی ہے ۔۔۔
سوال کرتے ہیں : کیا معاملہ ہوا ؟
ایک زخمی صحابی بتانے لگتے ہیں کہ ہم کعبہ میں جا رہے تھے تو اس نے ہمیں روکا ۔۔۔
اسے درمیان میں کاٹ کر ابو جہل چیختا ہے یہ ” محمد ” کے ساتھی ہیں اور محمد جھوٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم کمان گھومتی ہے اور ابو جہل کا سرپھاڑ ڈالتی ہے ۔۔۔۔
اور فضا گونج اٹھتی ہے
’’ میں بھی محمد ؐکے دین پر ہوں، وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو آ میرے سامنے کچھ بول ۔۔۔۔!!
فضا اس بازگشت کو لیئے
” آج سے میں محمد کا ساتھی ہوں ”
آسماں سے جا ٹکراتی ہے پھر لوٹ کر آتی ہے اور سارے مکہ میں ایک شور بپا کردیتی ہے کہ اہل مکہ کا پہلا قوی اور جی دار بہادر آدمی
اسلام قبول کرنے کا یوں کھلم کھلا اعتراف کر رہا ہے ۔۔۔۔
دو شخصیات کی آمد نے اسلام کوجو قوت اور طاقت بخشی وہ تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی،
پہلا نام تو یہی اعلان کرنے والے حضور نبی کریم ﷺ کے چچا جناب سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے امیرالمئومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

آج بھی سامنے ایک نیا موڑ ہے جہاں خاتم النبیین ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے حق میں نئی بحث کا آغاز ہوا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
کاش صاحب نے اس ہستی کے بارے میں پڑھاہوتا کہ جن کے اسم گرامی پر اس کا نام رکھا گیاتو یقینا معاملہ اس کے الٹ ہوتا ۔۔۔۔
مگر اس سارے ماحول کے پیرائے میں یہ صورتحال طمانیت کا احساس لائی کہ ۔۔۔
بیانیوں کی جنگ ہو یا شان رسالت ﷺ کا معاملہ ۔۔۔۔
اس ملک کو سیکولو بنانے کی سازش ہو یا ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت ﷺ پر مغرب کا دبائو۔
جب جب لوگ اپنے کھیل تماشوں میں مگن ہونے لگتے ہیں اور دین کو بے سہارا ہونے کا خدشہ لاحق ہونے لگتا ہے تو ۔۔۔۔
عین اسی لمحے اللہ کہیں نہ کہیں کوئی ابو جہل کھڑا کر دیتا ہے۔۔۔۔
اور پھر دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ یہ شکیرا کے دیوانے ۔۔۔
رات رات بھر کترینہ کی فلمیں دیکھنے والے ۔۔۔۔
شاہ رخ خان کا ہیئر سٹائل اپنانے والے ۔۔۔
گجنی کی محبت میں اپنے سروں پر آڑے ترچھے بلیڈ پھروانے والے ۔۔۔۔۔
اپنے رسول ﷺ کا نام آتے ہی کیسے بیدار ہوتے ہیں اور کیسے اپنے دین کا اپنے مذہب کا دفاع کرتے ہیں ۔۔۔۔
اور یہ لمحہ واقعی قابل دید ہوتا ہے جب ملک کو سیکولرلبرل بنانے کے خواہش مند اپنی محنت کو ضائع جاتا دیکھ کر اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔
بس کہنے کی بات یہ کہ ہر دور کے ابو جہل نے منہ کی کھائی اور یہ اللہ کی تدبیر کہ اس نے کس سے کیا کام لیا ۔۔۔۔۔
واہ رے مولا تیریاں تدبیراں تو ای جانے ۔۔۔۔

3 تبصرے
  1. 13 June, 2016
    محمد زبیر مرزا

    آقاﷺ کی محبت کا دعویٰ بھی ہمیں اغیار کی چاہ بھی دل میں زندگی عیش ونشاط میں بسربھی کریں
    اورنام لیواحضرت محمدﷺ کے – نمازیں ہمیں پیاری نہیں مساجد ہماری سال بھربیابانوں کی صورت اخلاق ہمارا پست – اس عہد کے ابوجہل جانتے ہیں یہ اُمت صرف وقتی جذبات میں آتی ہے، گفتار کی غازی ہے عمل سے دور اسلام سے دوراپنے نبی کریم ﷺ کی سیرت وکرادر سے دور تو ان کو وارکرنے سے کون روکے گا – ہم اُمید کرسکتے ہیں دعاکرسکتے ہدایت کی التجا کرسکتے ہیں لیکن دعویٰ نہیں مظفرواثی نے اس کو خوب بیان کردیا ہے
    دعویٰ ہے تیری ﷺ چاہ کا
    اس اُمت گمراہ کا
    آپ کی تحریرعمدہ ہے بیداری کی کوشش ہے ، ہمیں ہوش میں لانے کی ایک سعی – جزاک اللہ

    Reply
  2. 15 June, 2016
    Zikra Khan

    محترمہ اسریٰ غوری صاحبہ

    سلام علیکم ورحمہ

    ماشا اللہ … بہت خوب

    بہت خوبصورت پیرائے میں آپ نے حالات کی اس وقت کی سنگینی کو موجودہ سنگینی سے جوڑنے کی خوبصورت کوشش کی ہے اللہ آپ کے اس عظیم جزبہ کو قبول فرمائے اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی یہ دعا بھی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو کہ “اِس دور کا ابوجہل اور اس کے گماشتے اپنی شیطانی کاوشوں میں اپنی منہ کی کھایں.”

    آمین ثم آمین یا رب العالمین.

    نیک شگون کے لحاظ سے نام تو آپ کا بھی غوری ہے پر جنسیت تبدیل ہوئ ہے. شاید نام کے اثر کا جوش و جزبہ آپ میں بھی آیا ہے.

    ذکریٰ خان

    Reply
  3. 16 June, 2016
    Zikra Khan

    محترمہ

    سلام علیکم

    اوپر میرے کمنٹ کا دوسرا بند… غالبً “نیک گمان” لکھنا چاہیئے تھا نہ کہ “نیک شگون”.

    معزرت کے ساتھ

    ذکریٰ خان

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *