بھری دنیا میں مجھ جیسے ہی کی تلاش کیوں آخر؟

تحریر: اسری غوری
” اسلامی سیکولرزم ” کا بیانیہ ۔۔ یہ اصطلاح پڑھتے ہی دماغ میں کسی محبت کے مارے کا اک قول جگمگا اٹھا کہ ” اس نے جاتے ہوئے پلٹ کر کہا تجھ جیسے لاکھوں ملیں گے، ہم نے کہا کہ آخر بھری دنیا میں مجھ جیسے ہی کی تلاش کیوں؟ ”
آج کل ہمارے ہاں اسلام کی نہیں بلکہ کسی اسلام جیسے کی تلاش زورو شور سے جاری و ساری دکھائی دیتی ہے۔ اس تلاش میں ہمارے بعض محترم دانشور حضرات مغرب کی ہر اترن کو ” اسلامی ” کا لاحقہ لگا کر مشرف بہ اسلام کرلینے پر بضد ہیں اور اس کی تبلیغ پر دہاڑی دار مزدور کی طرح ویسے ہی جتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے ایک زمانے میں بعض لوگ سوشلزم کو اسلامی لباس پہنانے پر مصر تھے۔ وقت نے مگر یہ ثابت کردیا کہ انھوں نے سوشلزم کو جو ” اسلامی ” لباس پہنانے کی کوشش کی تھی وہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔
گاہے حیرت ہوتی ہے کہ جب اسلام پسند نہیں تو پھر ” اسلام جیسا ہی کوئی ” کی کیوں تلاش ہے۔ صاف کھل کر اس سے اظہار برات کیوں نہیں کہ رب تعالیٰ نے تو صاف الفاظ میں آپشن دیا ہوا ہے ” لااکرہ فی الدین ”
ہمارے خیال میں ضرورت خارجی نہ ہوتی تو اظہار برات کیا، کوئی چولا پہننے یا سابقہ لاحقہ لگانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ داخلی سے زیادہ یہ خارجی محرکات ہیں جن کی بنا پر نئے بیانیے اور نئی اصطلاحات کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ مغرب میں چونکہ مذہب چرچ اور کلیسا تک محدود ہے، اس لیے یہاں بھی ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں مذہب کو فرد کا ذاتی فعل قرار دے کر اسے ہر مذبی پابندی سے آزاد کردیا جائے اور اس کا سکون اطمینان بس اسی میں ہو کہ مسائل حیات کے جھمیلوں سے دور رہ کر تسبیح پر “اللہ ہو” اور سبحان اللہ کی گردان کی جائے اور سمجھا جائے بس حق مذہب ادا کردیا گیا ۔ یعنی یہ اختیار بھی مغرب کی طرح انسان کو سونپ دیا جائے کہ خدا کا زندگی میں بس اتنا ہی دخل ہو جتنا وہ دینا چاہے اور جب دل کرے اور چاہے تو وہ بھی نہ ہو اور اسے زندگی سے مکمل طور نکال باہر کرے۔ ( نعوذ باللہ )
” احیائے اسلام ” کا خیال تو ان کے نزدیک قابل نفرین ہے کہ سیکولر طرز فکر سے اس کی کوئی نسبت نہیں مگر ” اسلامی سیکولرزم” شاید کوئی ایسی چیز ہے جو قابل قبول ہو سکتی ہے۔ شاید اسلام کی ایسی سیاسی و غیر سیاسی تقسیم مقصود ہے جو ان دائروں سے تجاوز نہ کرے جو سیکولرزم نے کھینچ رکھے ہیں۔ مذہب کو بخوشی یہ اجازت دینے کو تو تیار ہیں کہ وہ تہذیب مغرب کے ساتھ تنائو کو کم کرنے کے لیے بطور نسخہ آسودگی (فردی اسلام اور صوفی ازم ) استعمال ہو لیکن اسے یہ ہرگز برداشت نہیں کہ وہ حقیقی زندگی کے سماجی اور سیاسی حل کے لیے ایک نظام کے طور پر کام کرے۔ یعنی اسلام کو اس کی قوت متحرکہ سے محروم کردیا جائے۔ اور یہ وہ خواہش تھی جس نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ شرعی اسلام سے صوفیانہ اسلام کی ترکیب پیدا کرے۔
اصلا یہ اسلامی نظام کی راہ روکنے کی اسی مغربی واردات کا حصہ ہے جس میں “صوفیانہ اسلام ” سے لے کر ” اسلامی سوشلزم ” تک شامل ہیں اور اب اک اور نقب ” اسلامی سیکولرزم ” کے نام پر لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ کر لاگو کرنا جائز ہے جبکہ خود اسلام بہ حیثیت ” الدین ” وجود کلی پر مصر ہے ؟ اور خود قرآن ایسا کرنے والوں کے لیے سخت سزا کی وعید کرتا ہے جو اس کی بعض باتوں کو مانیں اور بعض کو ماننے سے انکار کردیں ۔ یہود و نصاریٰ کے اس طرز عمل پر گرفت کرتے ہوئے قرآن ایسے لوگوں کو کافر ، فاسق ، اور ظالم قرار دیتا ہے ۔

اسلام کا یہ زور تحکم اور اس امر کی پوری تاریخ اتنی واضح ہے کہ مغرب کے پڑھے لکھے دیانت دار اصحاب دانش بھی اسے تسلیم کرتے ہیں ۔
مثلا پروفیسر این لیمبٹن (Ann Lambton) اپنی قابل قدر تصنیف (
Author of State and Government in Medieval Islam)
میں لکھتی ہیں :
” شریعہ ، مغرب میں سمجھے جانے والوں معنوں میں کوئی قانون کی کتاب نہیں ۔ شریعہ دراصل مسلمانوں کے فرائض کا بیان ہے۔ نظری طور پر یہ انسانی زندگی کے سب ہی معاملات بشمول تجارت و حرفت کا احاطہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی نظام کی بنیاد مہیا کرتی ہے ”
ریاست کی ماہیت بیان کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں :
“( اس نظام میں ) ریاست موجود ہے ۔ کسی اور جمعیت ( اور ادارے ) کی موجودگی جو اس کے برابر یا اسے برتر ہونے کی مدعی ہو، اس ریاست کو کسی طرح محدود نہیں کرتی ”
اسی حوالے سے ہیملٹن گب ( Hamilton Gibb) جب عہد جدید میں اسلامی ورثہ کی بات کرتا ہے تو اس کا بیان بھی بڑا اہم ہے ۔
” (مسلم) کمیونٹی اس اندھیاری دنیا میں خدائے برتر کی شہادت دینے کے لیے موجود ہے اور یہ حکومت کا فرض منصبی ہے کہ قانون کی تنفیذ کا کام انجام دے ”
کیا اس کا مطلب یہ نہیں بنتا کہ اسلام کی اساسی روح سے مغربی مفکرین اور صاحب دانش تو آگاہ ہیں مگر ہمارے بعض دانشور اس سے پہلوتہی کر رہے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جیسی جامع اور مکمل چیز پاس ہونے کے باوجود اس میں پیوند کاری کرنے والے کیسے پیدا ہوجاتے ہیں ؟ یہاں پھر منبر و محراب سے لے کر مدرسہ و علمیت کے بانجھ پن کا بھی بھانڈا پھوٹتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اسلام کو جدید رنگ میں پیش کرنے میں ناکام رہے؟ جہاں تک عام آدمی کی بات ہے تو دراصل اسی کو مطمئن کرنے کے لیے یہ سب پاپڑ بیلے جارہے ہیں کہ اس کے اضطراب کو ختم کر دیا جائے جو بار بار اسے رب کی طرف پلٹنے پر مجبور کر دیتا ہے
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ” اسلام نہیں اسلام جیسا ہے ” کے جتنے بھی جدید سے جدید برانڈ مارکیٹ میں آئیں گے، ان کی کل زندگی بارش میں پیدا ہونے ان پتنگوں کی مانند ہوگی۔ پتنگے چند لمحوں کے لیے ایسے طوفان کی طرح اٹھتے دکھائی دیتے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سمجھ نہیں آتا اس افتاد سے کیسے جان چھڑائی جائے مگر ایسے میں کچھ عقل مند لوگ اپنے گھر کے دروازے کھڑکیاں بند کرلیتے ہیں اور جن روشنیوں پر وہ پروانے چمٹ چمٹ جانے کے لیے بیقرار ہوتے ہیں، وہی گل ہو کر ان کی موت کا پروانہ بن جاتی ہیں۔
ذرا پیچھے نگاہ دوڑا کر دیکھیے تو آپ کو ایک نہیں بلکہ بہت ایسے بیانیے ایک کے بعد ایک کر کے اپنے موجدین کے ہمراہ ایسی قبروں میں مدفون نظر آئیں گے جن پر کوئی پھول اور چادر تو درکنا کوئی کتبہ کا تختی بھی نہیں ملے گی اور ان کے مقابلے میں اسلام آج بھی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ یہ کہتا دکھائی دے گا کہ
“بھری دنیا میں مجھ جیسے ہی کی تلاش کیوں آخر ؟؟ “

1 تبصرہ
  1. 3 August, 2016
    میرا فسر امان

    بس ایک بات پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائو

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *