جواب حاضر ہے

تحریر: اسری غوری

سوال تو اٹھتے ہی جواب کے لیے ہیں. میری اک تحریر ”ماما آپ کو ہم پر اعتبار نہیں“ پر محترم بھائی ہمایوں مجاہد تارڑ نے “بہن اسرٰی غوری سے ایک سوال” کے عنوان سے تحریر لکھی، اگرچہ اس میں ایک نہیں بہت سے سوالات تھے، مگر ایک دو بنیادی باتوں کا جواب عرض کیے دیتے ہیں.

محترم بھائی نے لکھا کہ” پوری تحریر ماں کی طرف سے مرضی مسلط کیے چلے جانے کی ایک روح فرسا داستان معلوم ہوتی ہے”
یہ اعتراض یا سوال اس وجہ سے درست نہیں کہ تسلط کی بات تب کہی جا سکتی تھی جب ماں اپنا فیصلہ سنا کر اگلی کوئی بات نہ سنتی مگر ماں نے تو وہ ساری رات اپنے بچوں کے ساتھ ڈسکشن میں گزاری (مختصر تحریر میں ظاہر ہے اس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا) جس کے نتیجے میں بچے اپنی ماں کی اس بات سے مطمئن ہو چکے تھے تو یہ مسلط کرنا نہ ہوا بلکہ اس میں ان کی مرضی شامل ہوگئی اور اچھے اور برے کی تمیز سے آگاہی بھی ہو گئی جو ایک ماں کی اولین ذمہ داری ہے.

ایک معاشرتی مسئلے یا ماحول کو کلاس روم یا جدید ایجوکیشن پر محمول کریں گے تو درست نتیجہ نہیں نکلے گا۔ معاشرے کی خرابی کے پیش نظر عملی تربیت اور اچھے برے کی تمیز اور اور فلسفہ تدریس و مونٹیسوری طریق میں فرق ہے۔ بطور مسلمان ہمیں تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ یہ تو پھر ذرا مختلف بات ہے، اسلام نے تو سات سال میں بچوں کے بستر الگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تو کیا اسلام کے بارے میں کہا جائے کہ اس نے نازیبا رویہ اختیار کیا یا انجانے خوف کا شکار ہو کر معصومیت پر ضرب لگائی، ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ تربیت کے پیش نظر رہنمائی کی گئی ہے۔ اور ذرا ذہن میں رکھیے کہ یہ ہدایت 14 سو سال پہلے کی ہے جب موجودہ خرافات کا انسانی ذہن نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

مذہبی جبر یا لٹھ برداری کا خوب کہا۔ ہمارے ہاں کسی معاملے میں مذہب بالخصوص دینی مدارس کو معاف کرنے کی روایت نہیں ہے، کھینچ تان کر بھی کوئی نہ کوئی نکتہ نکال لیا جاتا ہے، اور جبر کو لازمی نتیجے کے طور پر ساتھ شامل کر دیا جاتا ہے. نہیں معلوم کہ مغرب کس جبر کا شکار ہے جو ہم جنس پرستی سے ایک قدم آگے بڑھ کر جانوروں کے ساتھ رہنے کو بھی قانونی حیثیت دے رہا ہے. اور پھر خود پاکستان میں بھی دبی دبی آوازیں گاہے اٹھتی ہیں لیکن ان کا تعلق اہل مذہب سے تو نہیں ہوتا۔ فطرت اور دین کے خلاف تو اہل دنیا اور کالج یونیورسٹی والے ہی جاتے ہیں۔ جب آپ سنتے ہیں کہ یہاں بھی ہم جنس پرست کلب بن گئے ہیں ، امریکی سفارتخانے میں ان کے پروگرامات بھی ہو رہے ہیں، اور ان کےلیے قانونی تحفظ بھی مانگا جا رہا ہے، تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس دور میں عبدالقادر جیلانی پیدا ہوتے تو ضرور ان کی ماں اپنے لعل کو سینے سے ہی لگا کر رکھتی. ایسے ماحول میں جب اولاد وقت سے پہلے جن باتوں سے آگاہ ہو رہی ہے، اس میں یہ سب احتیاط لازم ہے. اچھی بری صحبت کے حوالے سے تلاش و تاکید اسی وجہ سے ہے.

بہرحال سارے فسانے کا جو حاصل تھا، وہ بات نظر سے نہ گزری کہ ماما اور بچوں کے درمیان کبھی کوئی کمیونیکیشن گیپ نہیں آیا تھا، وہ ہر موضوع پر ڈسکس کیا کرتے تھے اور جہاں اختلاف ہوتا تھا، وہاں کبھی ماما کی مانی جاتی اور کبھی بچوں کی. ماما کی یہی وہ قربت اور اعتماد تھا جس کی وجہ سے بچوں نے ماما سے اختلاف نہیں کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *