جب کوئی نہیں بچے گا تو بچے گا پاکستان 

تحریر : ام یحی

خدارا چیف جسٹس صاحب لگا دیجئیے 62،63 آپ کا اس ملک پہ احسان ہو گا۔

اےپیاری قوم کیا آپ تیار ہو اس بات کے لئے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو خالی کر دینا چاھئیے ۔

ہونا بھی یہ چاھئیے کہ 70 سال سے یہ پارلیمنٹ جن شیطانوں سے بھری ہوئی ہے اسے پاک کر کے شفاف الیکشن کا انعقاد ہونا چاھئیے جس میں ہر امیدوار کو الیکشن سے پہلے ہی 62،63 سے گزارا جائے جیسا کہ دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں ہوتا ہے کہ امیدوار سچا اور امانتدار ہو گا ۔ہمیں تو قرآن نے چودہ سو سال پہلے “صادق و امین ” کا اصول دے دیا تھا ۔ آج سپریم کورٹ نے قوم کوواضح اشارہ دے دیا ہے کہ گر چاہتے ہو کہ ملک کے حالات بدلیں تو تمام شیطانی لیڈروں کو چھوڑ کر فقط ایک ربانی لیڈر سراج الحق کو چننا ہو گا۔

یہ کامیابی نہ صرف سراج الحق کی کامیابی ہے نہ جماعت اسلامی کی دراصل یہ اسلام کی کامیابی ہے یہ اس بات کی کامیابی ہے کی دین اسلام ہی اصل ضابطہ حیات ہے یہ نعرہ تکبیر کی کامیابی ہے جو ہر مسلمان اور اسلام پسند کو مبارک ہو ۔

ترکی کے اردوگان ہوں ،مصر کے مرسی یا پاکستان کے سراج الحق وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسلم قوم کے اصل نجات دہندہ یہ اسلامی تحریکیں ہی ہیں ۔ باقی جو کچھ ہے مفاد پسند مغربی آلاکاروں کا ٹولا ہے۔ اور اس ٹولے سے نجات کے لئے ملک میں انتخابی اصطلاحات ضروری ہیں  دراصل معاشرے کے بالا دست طبقات کو موجودہ انتخابی نظام سے ہی فائدہ ہےلہذا وہی اس کے سب سے بڑے محافظ ہیں۔ لیکن اب الیکشن کو دولت بنانے کا کھیل نہیں بننے دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ ملک میں انتخابی اصطلاحات کے لئے جدوجہد کرے گی ۔ اس جدوجہد میں اسے آپ کا ساتھ درکار ہے 

جماعت اسلامی ہی نہیں اب تو سپریم کورٹ کا بھی کہنا ہے کہ 

‏اے قوم تو دے مل کہ اگر ساتھ ہمارا 

ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا

اور یہ ہی بات کر گئے ہیں ن لیگ کے سعد رفیق بھی گو کہ اپنی ہی بات کی زد میں ہیں وہ خود بھی، کہتے ہیں ‏کرپشن فری پاکستان کی بات اگر سراج الحق  کرے تو ٹھیک  ہے باقی تو اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔

تو آئیے قدم بڑھائیے اور سراج الحق کے ساتھ قدم بقدم ہو جائیے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان میں  قرآن کے نظام عدل وانصاف کو نہیں روک سکے گی ۔۔۔ آج دیانتداری کی فتح کا دن ہے کل اسلامی پاکستان کی فتح کا دن ہو گا ۔ انشااللہ

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کرپشن فری تو جماعت اسلامی ہر دفعہ ثابت ہو جاتی ہے ۔لیکن 

عوام کو انتظار کس بات کا ہے جو جماعت کا ووٹ بنک نہیں بڑھ پاتا؟؟؟ 

 ان لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک میڈیا جماعت اسلامی کے گن نہ گائے گا اس کو فل ٹائم کوریج نہ دے گااس کو نجات دہندہ بنا کر پیش نہ کرے جب تک عوام نہ مانے گی نہ سمجھے گی ؟

تو اے میری پیاری قوم یاد رکھنا 

دجالی میڈیا ہر گز ہرگز ایسا نہیں کرنے والا   تمھیں میڈیا سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہونگے۔۔

تب ہی پاکستان امن و سلامتی کا گہوارہ بنے گا ۔

2 تبصرے
  1. 12 January, 2017
    افتخار اجمل بھوپال

    اُم یحیٰ صاحبہ ۔ السلام علیکم
    آپ کی تحاریر گاہے بگاہے نظر سے گذرتی رہتی ہیں ۔ آج سوچا کی اپنی (جیسی کیسی بھی ہے) رائے کا اظہار کیا جائے ۔ سبب آپ کی تحریر کا ابتدائیہ ” خدارا چیف جسٹس صاحب لگا دیجئیے 62،63 آپ کا اس ملک پہ احسان ہو گا“ ہوا
    بات پارلیمنٹ مٹانے سے نہیں بنتی ۔ قوم اور مُلک کے نام پر ایسا 3 بار ہو چکا ہے ۔ آخری بار تو ”پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگانے والے نے اس مُل کے بُخِیئے اُدھَیڑ کے رکھ دیئے ۔ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے درآمدات پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 30 فیصد اور اندرونِ ملک پیداوار پر کم از کم 65 فیصد ٹیکس لگایا اور 4 ہائیوں کی محنت سے قائم کی گئی تمام مُلکی انڈسٹری کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔ پاکستان دُشمنوں کو خوش کرنے کیلئے جموں کشمیر کی مسلمان تنظیمیں جو بھارتی استبداد کا مقابلہ کر رہی تھیں کو دہشتگرد قرار دے دیا اور بھارت کو ریاست جموں کشمیر مین ہر بات کی کھُلی چھُٹی دے دی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف بھارت نے نہتے مسلمانون پر ظُلم و تشدد کے پہاڑ توڑے اور دوسری طرف دریائے جہلم اور چناب پر 7 بند بنا کر پاکستان کوی زراعت کو تباہی کے قریب پہنچا دیا ۔ ملاحظہ ہو
    http://www.theajmals.com/blog/2010/07/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%a8%d8%a7%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/
    آئین کی شق 62 اور 63 کا جہاں تک تعلق ہے ۔ یہ بھی اتفاق سے ایک آمر ہی نے پارلیمنٹ کی منظوری سے آئین میں شامل کرائی تھیں ۔ اس کا اگلا عمل اس کی عملداری کیلئے قانون سازی تھا جو پارلیمنٹ نے کرنا تھی ۔ اُس آمر کی موت نے ایسا بزور کروانے کی مُہلت نہ دی ۔ یہ قانون سازی بعد میں آنے والی سِول حکومتوں کے سیاستدانوں کی آپس میں ” اِسے اُتار کے رہیں گے“ کی رَٹ میں کھو کر رہ گئی ۔ آپ مجھے دین کی فہم رکھنے والی لگتی ہیں ۔ آپ نے اللہ کریم کا یہ فرمان پڑھا اور سمجھا ہو گا
    سورت 13 الرعد آیت 11 إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔ (اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے)
    اور یہ بھی پڑھا ہو گا
    سورت 53 النّجم آیت 39 ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی (اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی)
    چنانچہ حکومت کے سربراہ کو اُتارنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک عوام اپنی سِمت درست نہیں کرتے ۔ میں نے 8 سال کی عمر میں یہ نعرے بھیلگائے تھے ” آپ کیا چاہتے ہو ؟ پاکستان“ ۔ ”لے کے رہں گے ۔ پاکستان“ ۔ ”بن کے رہے گا ۔ پاکستان“۔
    پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری ملازمت بھی کی ہے ۔ میرا مطالعہ اور تجربہ یہ ہے کہ ہمارے مُلک میں سب سے زیادہ دُشوار زندگی اُس شخص کی ہے جو دیانتداری پر عمل پیرا رہے

    Reply
  2. 12 January, 2017
    میرا فسر امان

    بہت خوب اللہ آپ جیسے لکھنے والوں کو سلامت رکھے آمین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *