​”خواہش”

تحریر:قرةالعين
“آو بیٹا! چلیں۔۔۔انہوں نے سر پہ ہاتھ رکھا اور مسکرا کے عندیہ دیا

پہلے مجھے یقین نہیں آیاپھرمیں اٹھی۔۔ عبایا پہنا تیزی سےاسکارف اوڑھا اور تیز قدم اٹھاتی پیچھے چل پڑی مبادا کہیں دیر نہ ہوجائے۔

“تمہارے خواب پورے کروں۔۔۔؟یہی خواہش ہے ناں تمہاری۔” انہوں نے ذرا سا سر موڑ کر مجھے دیکھا۔

جج۔۔جی۔۔جی یہی خواہش ہے۔ مجھے پتہ تھا وہ کہاں لے جارہے ہیں مجھے۔ تبھی خوشی سےمجھ سے بولابھی نہیں گیا۔

تمہارے جیسی بہت سی بچیوں کا ہاتھ تھاما ہے۔۔ بہت سے دلوں کو جیتا ہے۔۔تم نے کئی بار دیکھا ہوگامجھے بزگوں سے دعائیں اور پیار لیتے۔۔ “انہوں نے اسفہامیہ مجھے دیکھا۔

“جی بہت بار” میں خواب کی سی کیفیت میں تھی۔

وہ کتنا اچھا چلتے ہیں۔۔۔ اللہ نے شخصیت بھی کتنی اچھی دی اور مسکراہٹ میں بھی کتنی جان ہے۔۔ ایک رعب اور دبدبہ ہے۔۔پر اتنے شفیق۔۔۔اتنے قلوب میں بسنے والے۔۔ میں ہر آن ان کی شخصیت کو جیسےدریافت کرتی جارہی تھی۔

میں نے تو خواب میں بھی نہیں دیکھا کہ یہ مجھے لینے آئیں گے۔۔اتنی اچانک۔

“کون سی جگہیں تمہارا خواب ہیں؟”

مم۔۔میری۔۔۔؟بہت سی جگہیں میرا خواب ہیں۔۔ لے جائیں گے آپ مجھے؟میں نے جلدی سے کہا۔۔ کہیں بات کا اختتام نہ ہوجائے۔

“ہاں ہاں بولو بیٹی۔۔۔ اسی لئے تو آیا ہوں۔” انہوں نے تسلی دی۔

مجھے جانا ہے۔۔فلسطین کی گلیوں میں دیواروں سے ہاتھ ملاتے بہت کچھ کہنا ہے۔۔نغمے سنانے ہیں۔،بیت المقدس کے غم سننے ہیں۔۔اور۔۔۔مصر جانا ہے مجھے اہرام مصر دیکھنا ہے۔۔ دریائے نیل کی لہروں سے باتیں کرنی ہیں جس نے قاہرہ یونیورسٹی کا اثاثہ دفن کر رکھا ہے اور ہاں ایک اور جگہ۔ استنبول۔۔۔جہاں خلافت کا سورج ڈوبا تھا پتہ ہے یہاں سے مجھے بہت لگاو ہے۔…مجھے آپکے شہر سے محبت ہے۔۔۔ مجھے استنبول میں ہی سمندر سب سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔مجھے استنبول مرکز یونیورسٹی میں عبایااورنقاب کے ساتھ گھومنا ہے۔۔۔ مجھے اس کی اونچی نیچی گلیوں میں بے خوف اور بلاوجہ پھرنا ہے۔۔

مجھے وہ جگہ دیکھنی ہے جہاں بیٹھ کر آپ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرتے ہیں۔۔۔اور پھر۔۔۔ سب سے تھک کر مجھے چھوڑ دیجئے گا۔۔۔اس در کے سامنے۔۔۔۔اس کالے غلاف کے سامنے۔۔۔وہی کالا غلاف جس کی کشش کو محسوس کرنا ہے جو کائنات کا مرکز ہے۔۔۔ مجھے اس پاک جگہ کو دیکھنا ہے جومجھ جیسی گناہگار کے لئےبھی ممنوع نہیں۔۔

“مجھے لے جائیں گے ناں؟” یہ سب کہتے کب میری آنکھیں بھیگ گئیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ وہ مجھے دیکھے جارہے تھے۔۔۔میرے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔ آنسو پونچھے۔

میرے شوق کا عالم انہیں پریشان کر گیا۔۔ان کے قدم ذرا کو رکے  اور بولے۔۔۔۔۔” تمہارے خواب کو سلام۔۔جو مجھے استنبول سے یہاں لے آئے” ان کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔

آپ نہیں لے جائیں گے؟ مجھے مایوسی ہونے لگی۔۔

“آپ نے اس معذور لڑکی کا بھی تو خواب پورا کیا ناں۔۔ اور اس یتیم بچے کا بھی درد بانٹا۔۔ پھر میں کیوں نہیں؟ “ان کے لوٹ جانے کا خوف ہاوی ہونے لگا تو میں یاددہانی کروانے لگی۔۔

“تمہارا خواب پورا کر دیا تو کہیں خواہش ہی نہ مر جائے۔۔ ” ان کے قدموں کا رخ مڑا تو میرا دل ڈوبنے لگا۔۔

“خواب کی حقیقت ہی کیا ہے بھلا۔۔تم خواہش زندہ رکھنا۔۔میں آوں گا” انہوں نےعظیم قائد کی طرح ہاتھ ہلایا اور واپس استنبول کو مڑ گئے۔

1 تبصرہ
  1. 13 January, 2017
    میرا فسر امان

    ماشاء اللہ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *