جماعت اسلامی کی پرامن تحریک اور مطالبات

جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے فیس بک کے مختلف سرگرم گروپوں میں سوال کیا تھا کہ کیا آپ کو جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے باعث کہیں ٹریفک جام کی پریشانی اٹھانی پڑی یا کہیں کسی ایمولینس کو پھنسا دیکھا
مجھے کسی نے یہ نہیں کہا کہ انہیں پریشانی ہوئی یا کہیں کسی ایمبولینس کو جماعت اسلامی کے احتجاج کے باعث پھنسا ہوا دیکھا۔
ریڈ زون جیسے حساس علاقے میں احتجاج ہونے کے باوجود سیکورٹی کی بھاری نفری بھی تعینات نہیں تھی۔ بلکہ گورنر ہاؤس کے باہر گھڑی وین لنچ وغیرہ کے اوقات میں جوانوں کو لے کر چلی بھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ داخلی راستے پر کھڑی پولیس کی نفری بھی پرسکون نظر آتی رہی اور کھڑے ہوکر ڈیوٹی دینے کے بجائے پرسکون انداز میں ٹہل کر اور کرسیوں پر بیٹھ کر وقت گزارا جاتا رہا ۔ دو ٹریفک پولیس کے اہکار داخلے راستے پر کھڑے تھے جو عام طور پر بھی موجود رہتے ہیں۔ انہیں بھی کسی پریشانی کا سامنا نہ تھا۔ جبکہ شرکاء کی تلاشی کا فریضہ پولیس کے بجائے جماعت اسلامی کے کارکن سرانجام دے رہے تھے۔ یعنی واک تھرو گیٹ اور پولیس کو یہ کام کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔

احتجاج ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ لیکن جماعت اسلامی نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مثال قائم کی کہ اپنے احتجاج سے کسی شہری کو پریشان نہ کیا، کسی مریض کو ایمولینس میں روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے مزید تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑا، امتحانات کے باعث طلبہ و طالبات کو بھی کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہونا پڑا۔ احتجاج کی جگہ کے ساتھ ہی مارکیٹ موجود ہے شہر کی خواتین کو بھی تکلیف نہ ہوئی۔

اس کے ساتھ جماعت اسلامی نے اپنے احتجاج کو انا کا مسلہ بھی نہیں بنایا گورنر نے یقین دہانی کروائی پندرہ دن میں آپ کے مطالبات کو حل کیا جائے گا جماعت اسلامی بغیر کوئی سوال کیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

ایسا بھی نہیں جماعت اسلامی منہ اٹھا کر کے-الیکڑک کے خلاف سڑکوں پر آ گی کہ بس آپ کام اچھا نہیں کررہے اس لیے ہم آپ کے خلاف احتجاج دھرنا کھیلے گے۔

جماعت اسلامی کہہ رہی ہے کہ یونٹ ریٹ جو وفاق نے رکھا ہوا ہے کے-الیکڑک بھی وہی رکھے، کے-الیکڑک کہتا ہے ہمیں line Loses ہوتا ہے تو بھائی پورا شہر میں شہری جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں کے-الیکڑک تو اس سے کئی ارب زیادہ بل بنا کر شہریوں کو تھماتا ہے۔ کے-الیکڑک کا کہنا ہے بجلی چوری ہوتی ہے ایک پرائیویٹ ادارہ ہونے کے باوجود KESC پولیس کے-الیکڑک کے پاس ہے تو پکڑیں چوروں کو۔ لے کر جائیں عدالت۔
ایک علاقہ جتنی بجلی چوری کرتا ہے اس سے زیادہ بجلی چوری وہ ایک فیکٹری کرتی ہے جسے کے-الیکڑک کا عملہ خود کنکشن کرکے دیتا ہے اور کروڑوں کا بل بھیجنے کے بجائے وہ فیکٹری مالکان کے-الیکڑک کی منیجمنٹ کو چند لاکھ دے کر عوام کو چور کہتے ہیں۔ کے-الیکڑک اپنی صفوں میں موجود چور بھی پکڑے۔

نا جانے کراچی میں کون سے نایاب نسل کے میٹرز لگا رکھے ہیں جن کا پیسہ کراچی کے شہری سالوں سے دے رہے ہیں مگر اب تک ان کی قیمت وصول نہیں ہوئی۔ بل میں میٹر رینٹ کے نام پر جو اربوں روپے کراچی کے شہریوں سے لیے وہ واپس کیے جائیں۔

ملازمین کے نام پر 15 پیسہ فی یونٹ بھتہ لیا جارہا جماعت اسلامی وہ 35 ارب روپے واپس کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔
اس کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور ڈبل بینک چارجز کی شکل میں 75 ارب وصول کیے وہ واپس کیا جائے۔

کراچی کا کوئی شہری نئے میٹرز سے مطمعین نہیں، جماعت اسلامی یہ مطالبہ بھی کررہی ہے کہ ان میٹرز کی رفتار کے بارے تحقیات کےلیے غیرجانبدار ادارہ بنایا جائے۔
جماعت اسلامی مطالبہ کررہی ہے کہ میٹر ریڈنگ کا سسٹم تبدیل کرکے میٹر ریڈنگ کی تصویر اور چوری کی صورت یا میٹر سے چھیڑ چھاڑ کی تصویر بل پر لگا کر دیں۔

پورے کراچی سے تانبے کے تار ہٹا کر سلور کے تار لگائے گے۔ اربوں روپے کا تانبا چوری کرکے کرپشن کی گی اس کا حساب مانگا جارہا ہے۔ آج شہر میں بجلی کے نظام کی حالت ان سلور کی تاروں کی وجہ سے یہ ہوچکی ہے کہ بارش کا پہلا قطرہ گرتا ہے یا 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے درجہ حرارت بڑھتا ہے تار گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

کے-الیکڑک عوامی شکایت کے ازالے میں ناکام ہوچکا ہے، ایک صارف جب کے-الیکڑک کے دفتر جاکر کہتا ہے اس نے نہ چوری کی ہے نہ ہی میٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے جو جرمانہ لگایا گیا وہ غلط ہے تو کے-الیکڑک کے افسران جواب دیتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ بل بن چکا بل بھرنا ہوگا۔ پھر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے چلیں آپ قسطیں کروا لیں۔
میرے محلے کا ایک شخص دو ماہ گاؤں گزار کر آیا گھر بند تھا کے-الیکڑک نے بجلی چوری کا الزام لگا کر پچاس ہزار روپے بھتے کی پرچی تھما دی جب وہ شخص کے-الیکڑک کے دفتر شکایت لے کر گیا اپنی فمیلی کی گاؤں جانے اور واپس آنے کے ٹکٹ بھی دیکھا دیے مگر کے-الیکڑک کے افسران نے وہی جواب دیا جو بیان کیا ہے اسی لیے جماعت اسلامی مطالبہ کررہی ہے کہ کے-الیکڑک کے تمام کسٹمر سینٹرز پر وفاقی محتسب کا نمائندہ مقرر کیا جائے۔

کے-الیکڑک کے پاس مطلوبہ پیداواری صلاحیت موجود ہے، وفاق سے بھی سستی بجلی ملتی ہے لیکن یہ ادارہ اپنے پلانٹ بند رکھ کر لوڈشیڈنگ کرتا ہے اور اپنا نفع بڑھاتا ہے۔ 2015 میں جب شہر ہیٹ اسٹروک کی لپیٹ میں تھا۔ رمضان المبارک کے مہینے میں پانچ ہزار شہری گرمی سے جانبحق ہوگے۔ نیپرا کی تحقیقات میں ثابت ہوا کے-الیکڑک اپنے پلانٹ بند رکھ کر لوڈشیڈنگ کررہا تھا۔ اس پر کے-الیکڑک کو جرمانہ بھی کیا گیا۔
اسی لیے جماعت اسلامی مطالبہ کررہی ہے کہ کے-الیکڑک کو پابند کیا جائے وہ کراچی کو فری لوڈشیڈنگ کرئے۔

سب سے اہم مطالبہ جو جماعت اسلامی حکومت پاکستان سے کررہی کہ وہ کے-الیکڑک کو قومی تحویل کو لے۔ کیونکہ KESC کو حکومت سالانہ 5 ارب سبسیڈری دیتی تھی جس کی وجہ سے اس قومی ادارے کی نجکاری کی گی لیکن آج کے-الیکڑک کو سالانہ 75 ارب کی سبسیڈری دی جارہی ہے۔ جو کے-الیکڑک نامی ایک پرائیویٹ اداری کی نامی اور کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جماعت اسلامی کی یہ پرامن تحریک اور اس کے مطالبات میں کوئی ایک ایسا مطالبہ نہیں جس کا فائدہ صرف جماعت اسلامی کی قیادت یا کارکنوں کو ہو۔ جماعت اسلامی کراچی شہر کا مقدمہ لڑرہی ہے اور کراچی کے شہریوں کے حقوق مانگ رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے-الیکڑک کے بعد پانی و گیس کی کمی، نادرا کے خلاف شکایات، صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر مسائل پر بھی اسی طرح تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے جماعت اسلامی کی یہ پرامن تحریک درست ہے تو آگے بڑھیں اور “اٹھو آگے بڑھو کراچی” تحریک کا حصہ بنئیں۔

1 تبصرہ
  1. 4 May, 2017
    افتخار اجمل بھوپال

    محترمہ. مجھے آپ کے لکھے پر کوئی اعتراض نہیں ہے. یہ آپ کا بلاگ ہے اور اس پر لکھنا آپ کی صوابدید ہے
    میں اسلام آباد میں رہتا ہوں. ہمیں جو بل ملتے ہیں ان میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ہوتے ہیں. حالانکہ اسلام آباد میں زیادہ تر پن بجلی سپلائی ہوتی ہے. اور چارجز بھی ہوتے ہیں جو پرویز مشرف کے دور سے چلے آ رہے ہیں. بجلی چوری صوبائی لحاظ سے سب سے زیادہ سندھ میں اور شہر کے لحاظ سے سب سے زیادہ کراچی میں ہوتی ہے. یہ چوری کم از کم کم دو دہائیوں سے چلی آ رہی ہے. بجلی چوری کراچی میں بڑی دلیری سے کی جاتی ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ روک سکے. جب تک شہری چوروں کا ساتھ دیتے رہیں گے چوری نہیں رک سکتی کیا آپ جانتی ہیں کہ سندھ میں کئی علاقے ہیں جہاں 70 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے. کراچی میں اوسط چوری 30 سے 40 فیصد کے درمیان رہتی ہے.
    چوری تو کراچی میں ہو اور اس کا کچھ بوجھ اسلام آباد والے برداشت کریں یہ سلسلہ دو دہائیوں سے چلا آ رہا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *