آؤ رمضان کی برکتیں سمیٹیں

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔
پہلی بات یہ یاد رکھیں روزہ صرف منہ بند کر دینے اور کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں۔ روزہ  تو نام ہے صبر کا برداشت کا۔
بھوک اور پیاس تو اس سب میں ایک حصہ ہے اس عبادت کا۔
ہم افطار سے کچھ لمحے پہلے اپنا میٹر تھوڑا خراب کیے ہوتے ہیں۔ ذرا ذرا بات پر لڑنے لگ جاتے ہیں اور افطار کے بعد کہتے ہیں یار روزہ لگ گیا تھا۔
کتنی عجب بات ہے نا روزہ برداشت کا نام ہے برداشت ہم کرتے نہیں،
روزہ نام ہے برائی سے خود کو روکنے کا ہم خود کو روکتے نہیں،
روزہ نام ہے گناہوں سے بچنے کا اور ہم روزے میں لڑائی کرکے، گالم گلوج کرکے خود کو گناہ سے بچاتے نہیں۔
لہذا روزے میں پیٹ کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا غصے پر بھی قابو رکھیں، خود کو برائی سے روکیں، لڑائی جھگڑے سے دور رکھیں، گناہوں سے بچائیں۔
کوئی زیادتی کرلے کہہ دیں بھائی میرا روزہ ہے اللہ فیصلہ کرئے گا۔

افطار کے بعد پورا خود کو دن نیکیاں کمانے اور گناہوں سے بچانے کے بعد ایک نیا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ جی ہاں دجالی میڈیا کا پیدا کردیا امتحان۔
مجھے یاد ہے وہ زمانہ دیکھا ہے رمضان سے دو چار دن پہلے ٹی وی باندھ کر گھروں میں چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا تھا
ٹی وی کا اینٹینا اتار لیا جاتا ہے۔ مگر اب دور بدل چکا۔ میڈیا نے اللہ سے رو رو کر مانگنے کے مہینے کو اپنے شو کا پاس حاصل کرنے کا مہینہ بنادیا۔ آج کا مسلمان اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کے بجائے انعامی شو کے پاس حاصل کرنے کی جستجو میں لگا نظر آتا ہے۔
ایک تلخ حقیقت ہے ہمارے مسلمان ایسے شوز دیکھتے ہیں تب ہی اربوں کے اشتہاریات اور انعامات ایسے شوز کےلیے مختلف برانڈ دیتے ہیں۔ یقین کریں ہم ایسے شوز دیکھنا اور ان میں شرکت کرنا چھوڑ دیں میڈیا کی یہ عمارت زمین بوس ہوجائے گی۔ میڈیا انڈرسٹری کا اصول ہے پبلک جو چیز زیادہ دیکھنا پسند کرئے اس پر خرچ کرو اس کا دام لگاؤ۔

سو میرے بھائیوں!
چلیں اس رمضان ایک عہد کرتے ہیں خود کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ برائی، فحش گوہی، لڑائی جھگڑے، بےایمانی، دھوکے بازی سے روکنا ہے۔ اور نیکیاں کرنی ہیں نیک بننا ہے اور نیکی کو پھیلانا ہے۔
رنگ برنگے انعامی شوز دیکھنے اور ان میں شرکت کےلیے بھاگ دوڑ کرنے کے بجائے اپنا وقت کارآمد بنانا ہے۔
دین ٹی وی چینلز پر بیٹھے اداکاروں سے نہیں سیکھنا۔ پورا سال ناچ گانے کرنے والے اور کرنے والیاں رمضان میں ہمیں دین سیکھانے نکل پڑتے ہیں۔

مگر اس کا متبادل کیا ہوگا اگر ٹی وی نہ دیکھی جائے ٹیلی ویژن پر چلنے والے “اسلامی شوز” نہ دیکھیں جائیں تو پھر کیسے دین کو سمجھا جائے؟
لیں آپ کو اس کا سب سے بہترین طریقہ بتاتے ہیں۔
آپ کا تعلق جس مسلک سے ہے اس مسلک کے علماءکرام کی تفسیرِ قرآن مجید حاصل کریں۔ پورا رمضان اگر آپ نے ایک سپارہ بھی تفسیر و ترجمہ کے ساتھ غور و فکر کرکے رمضان المبارک میں سمجھ لیا تو سمجھ لیں آپ نے بہت کچھ سیکھ لیا۔ یقیناً پڑھنے سمجھنے کے دوران بڑی تعداد میں سوالات بھی پیدا ہوں گے۔ ان سوالات کو نوٹ کیجیئے اور ظہر کی نماز کے بعد مسجد کے خطیب صاحب یا کسی جان پہچان والے مفتی صاحب یا عالم دین صاحب سے کریں۔
یقین کریں یہ علماءکرام ایسے لوگ ہیں آپ کے سوال کرنے پر نہ ماتھے پر بل لائیں گے نہ ایکسٹرا کلاس کی فیس لیں گے۔
میں پچھلے ایک سال سے اسی ترتیب پر چل رہا ہوں اگرچہ رفتار کم ہے مگر میں نے اب تک قرآن کریم  کی پہلی دو سورۃ کو سمجھا۔ ایک ایک آیت کے نزول کی واقعات اور اس کی گہرائی کو جانا۔
اللہ کی رحمتیں ہوں حضرت سید ابو الاعلی مودودی ؒ پر جن کی انتہائی سادہ فہم میں لکھی تفسیر قرآن مجید نے مجھ سے جیسے جاہل کو اللہ کا پیغام سمجھنے میں رہنمائی کی۔
آپ بھی سید مودودیؒ کی لکھی ہوئی تفسیر “تفہیم القرآن” کو کھولی۔ انشاءاللہ آپ کو اللہ کا پیغام سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
ذرا سوچیں قرآن جس کا ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اسی قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے پر کیا کچھ لکھ دیا جاتا ہوگا۔

چلتے چلتے ایک آخری بات کرتا بتاتا ہوں۔
میں نے ایک بار استاد محترم سے پوچھا تھا کیا نشانی ہے میری رمضان کی تیس دن کی مشقت سے اللہ تبارک و تعالی راضی ہوگے۔ مجھ سے استاد محترم نے کہا رمضان کے بعد بھی تو خود کو برائی سے روک رہا ہو نیکی کرنے کو دل مچل رہا ہو، تجھے رمضان کے بعد بھی باقی گیارہ ماہ مال، جان، زرق میں برکت محسوس ہوتی ہو سمجھ لے اللہ تجھ سے راضی ہوچکا۔
تو میرے بھائیوں نیکیوں کا مہینہ سر پر ہے۔ جنت ہمیں پکار رہی ہے۔ چلیں اس ماہ اللہ کو راضی کریں۔ کتنے ہی ایسے جو پچھے رمضان میں ہمارے ساتھ تھے مگر وہ اب دنیا سے جاچکے، کون جانتا ہے ہم میں سے کسے پھر رمضان نصیب ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *