صفیں ترتیب دی جارہی ہیں – اسریٰ غوری

س نے ان سے غموں سے نجات اور خوشیوں کے حصول کا طریقہ پوچھا :
وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر قدرے سخت آواز میں بولے :
دنیا بہت تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے اب خوشیاں اور غم اپنی ذات سے نہیں بلکہ رب کی رضا سے جوڑ دینے کا وقت ہے ۔
خود کو مضبوط کیجیے اور تیاری کیجیے آنے والے کٹھن وقت کی کہ اب مہلت بہت کم ہے ۔
صفیں ترتیب دی جارہی ہیں بس دو ہی گروہ ہوں گے
حق اور باطل
سیاہ اور سفید
سچائی اور جھوٹ
اپنی ذات کی خاطر دشمنیوں ناراضگیوں کے وقت گزر چکے
اب دشمنیاں اور دوستیاں ذاتیات سے نکل کر صرف اور صرف رب کی خاطر ہونگی
جو رب کا دوست وہی اپکا دوست
جو رب کا دشمن وہی اپ کا دشمن
بس یہی اک پیمانہ رکھیے کہ جس نے یہ پیمانہ رکھا وہی کامیاب قرار پائے گا ۔
مگر اس سارے عمل کے لیے خود اپنا مجاہدہ بہت ضروری ہے خالص کیجیے خود کو رب کی خاطر
انتہائی کٹھن ہے مگر ان مومنین کے لیے ہر گز نہیں کہ جو رب سے محبت کرتے۔ہیں انہیں ہر صورت اس ایک ہی گروہ میں شامل ہونا ہے ۔
اب دوسر کوئی گروہ نہیں سوائے رب کے دشمن کے ۔۔۔۔
فیصلہ کیجیے اپ کس گروہ میں ہیں اور جس گروہ میں ہیں ان سے جڑ جائیں ۔
بنیان مرصوص بن جائیں
اپنی قوت اور طاقت کو یکجا کیجیے ۔
والذین آمنو اشد حب للہ ۔۔ کی عملی تصویر بن جائیے
راہ نجات بس قرآن ہی ہے اس کو پھیلائیں ۔۔
رب سے صرف اپنا تعلق ہی نہیں بلکہ اس پورے گروہ ایمان کا تعلق بڑھانے کی فکر کیجیے ۔
جو دور ہیں انہیں محبتوں سے قریب کیجیے
اپنے ہتھیار تیار رکھیے
اپنا کام اج اور ابھی سے شروع کیجیے
آپ کے ذمہ جو کام رب نے لگایا اس میں جت جائیں کہ ہر ہر صلاحیت کا جواب مانگا جایے گا ۔
لمحہ بھی ضائع کرنے کا وقت نہیں ۔۔۔
آنے والا وقت آپ کی سوچ سے بڑھ کر صبر آزما اور ازمائیشوں کا دور ہے ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: تم سب کرسکتے ہو، یہ مگر نہیں، کبھی نہیں – حافظ یوسف سراج
انکے لہجے میں جھلکتی فکر اور تشویش انکے اک اک لفظ کے سچا ہونے کی گواہ تھی ۔
اس نے آسمان کی جانب دیکھا اور اللہ سے سرگوشی کی ۔۔
یاربی گواہ رہنا ۔۔۔
میری محبتیں بھی تیری کی خاطر میری دشمنی بھی تیری کی خاطر ۔۔۔
مجھے اپنے ایمان کے گروہ میں شامل رکھنا
مجھے مضبوط رکھنا
مجھ سے وہ کام لے لینا جو تو اپنے محبوب بندوں سے چاہتا ہے ۔
جواب دیجیے آپ تیار ہیں اس سب کے لیے
اس کی خاموشی کو سن کر ان کی آواز گونجی ۔
اسکی آواز حلق ہی میں دب گئی تھی
آنکھوں سے بہتے اشکوں نے مگر جھک کر اس رب کے سامنے حامی بھر لی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *