ترکی کی تاریخ کا نیا باب – اسری غوری

15 جولائی 2016ء کی رات ترک صدر طیب اردگان نے دنیا کی تاریخ میں ایک اور نیا باب درج کر ڈالا، ایک ایسا باب کے جس نے کروڑوں دلوں میں اس کی محبت کو مزید گہرا کردیا. یہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا. آج سے ٹھیک ایک برس پہلے اسی رات ترکی کی تاریخ میں ایک اور فوجی بغاوت نے سر اٹھایا تھا، مگر اسے بہادر اور جی دار ترک عوام نے اپنے قائد کی ایک صدا پر لبیک کہتے ہوئے راتوں رات کچل ڈالا تھا. اس سال اسی فتح کی یاد منائی گئی، اور ترک عوام شہدائے ترکی کو شاندار ترین خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایسے سامنے آئے کہ ایک بار پھر پوری ترک قوم متحد نظر آئی.

مگر فتح کی یہ یاد کسی کانسرٹ کو سجا کر یا کہیں فائرنگ کا غل غپاڑہ مچا کر اور ناچ گا کر نہیں منائی گئی، بلکہ صدر اردگان نے ایک انوکھے انداز میں اس فتح کو منانے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پورے ترکی میں 86000 مساجد، اسکول، یونورسٹیز اور دفاتر سب میں بیک وقت درود پڑھا جائے گا. اس کے لیے ایک باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں خود صدر اردگان نے اللہ اکبر لاالہ الا اللہ سے آغاز کیا اور پھر اجتماعی درود شروع ہوا، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ترکی میں درود کی بلند صدائیں گونجنے لگیں، لاکھوں عاشقان رسول ﷺ سڑکوں پر دیوانہ وار درود پڑھ رہے تھے،
اور پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ
سپر پاور ہے صرف ایک اللہ
سپر پاور ہے صرف ایک اللہ
اور ہمارا رہبر و قائد محمد رسول اللہ
استنبول کی سڑکیں عوام سے بھر گئیں
شہداۓ اسلام کو سلام
شہداۓ ترکی کو سلام
ترک صدر اردگان کو سلام

آہ! کیا منظر ہوگا ان عاشقان کے ساتھ آسمان کے اوپر بھی فرشتوں کے جھرمٹ کے جھرمٹ درود کے صدائیں لگاتے اپنے آقا کو خوشخبری سنانے دوڑے ہوں گے.
یا رسول اللہ مبروک، یا رسول اللہ مبروک
آپ کے امتی، اس امت کے وارث نے آج پورے ملک میں آپ کے لیے درود ﷺ کی محفل سجائی۔
یا رسول اللہ مبروووک۔
اور پھر میرے آقا نے بھی تب اپنے اس امتی کی کامیابی کے لیے رب کے حضور دعا کی ہوگی.

یہ بھی پڑھیں: میں قاسم پاشا کا ہوں – سعود عثمانی
بخدا میں اپنی برستی بند آنکھوں سے ترکی کے ان تمام تاریخی مقامات اور یادگاروں کو درود ﷺ کی ان صداؤں کے ساتھ جھومتا دیکھ رہی ہوں جن کو امت کے میر جعفروں اور میر صادقوں نے دشمنان خدا کے ساتھ مل کر اسلام کا نام تک کھرچ ڈالا تھا. آج جب درود کی صداؤں نے پھر سے اک بار ان میں اسلام کی روح پھونکی تو کیسے سرور میں ہوں گے وہ در و دیوار۔
اے کاش کہ میں بھی اس وقت وہاں موجود ہوتی اور ایسی پاک اور بابرکت محفل کا حصہ بنتی کہ آقا کے حضور کچھ پیش کرنے کو ہی مل جاتا۔

بس دو دہائی پہلے ہی کی تو بات ہے کہ ترکی کمال اتاترک کے چڑھائے رنگوں میں رنگا ایک ایسا ملک تھا جسے تمام غیر مسلم ممالک میں الگ سے پہچاننا دشوار لگتا تھا.
مگر آج امت کے اس بیٹے نے جس طرح سے ترکی کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

اے اردگان!
اے میرے آقا کے امتی اردگان!
تم اس امت کے زخم زخم جسم کی ڈوبتی سانسوں کی آخری امید کی کرن ہو .
رب تمھاری حفاظت کرے کہ تم دشمن کی آنکھوں کھٹکتا ہوا واحد کانٹا ہو۔
رب تمھیں اس امت کے ماتھے کا جھومر بنائے۔
رب تمھارے اخلاص میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *