حجاب – ایک ذمہ داری

 

عموماًعام مسلمانوں کے نظریہ حجاب پر بائیں بازو کے دانشور اپنی بھنویں چڑھاتے ہیں اور اسے مردانہ شاونزم گردانتے ہیں اورمغرب ذدہ خواتین اسے اپنا ذاتی فعل قرار دے کر مردوں کو اس معاملے سے دور رہنے پر زور دیتی ہیں لیکن کیا حقیقت یہ ایسے ہی ہے؟ کیا مرد حضرات اس چیز سے لاتعلق رہتے ہیں کہ خواتیں کا لباس کیا ہے؟ کچھ خود ساختہ اسلامی اسکالرز یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ مردوں کو اپنی نگاہوں کو نیچا کرلینا چاہئے اگر وہ اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول نہ رکھ سکیں تو انہیں پہلے ہی اپنی نگاہوں کو نیچا کرلینا چاہئے۔ اگر نگاہوں کو نیچا کرنا ہی اس مسئلے کاحل تھا تو قرآنِ مجید میں حجاب کا حکم کیوں دیاگیا؟ یقیناً کشش محسوس کی جاسکتی ہے اسی لیے قرآن میں بیک وقت مرد اور عورت دونوں کو باحیا بننے کا حکم ہے۔

 

باحیا مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ شہیدہ حجاب بہن مروۃالشربینی پر سلامتی ہو کہ جوبوجوہ حجاب مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئیں۔ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے اور احکامات خداوندی کی اطاعت میں اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے نسل پرستانہ رویہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

 

٩ /١١ کی سازشِ عظیم کے بعد ہماری بہت سی مسلمان بہنوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں کچھ اسی طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اب تو حجاب پر بحث تقریباً ایک سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ ایک المیہ ہی تو ہے کہ مخصوص طرز پر اپنے آپ کو ڈھانپنے والی عیسائی راہِباؤں پر کوئی معترز نہیں لیکن ایک مسلمان عورت کا سر ڈھانپنا انہیں گوارہ نہیں۔

 

ان تما م مسائل کو ایک اور زاویہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے حجاب صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک طرز زندگی ہے، ایک مکمل ضابطہِ حیات کا حصہ ہے جو باحجاب خواتین کے کردار کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ خواتین کے حجاب پہن لینے یا مرد کی داڑھی رکھ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمام گناہوں سے پاک ہوگئے، لیکن ہمارے اردگرد کے افراد اور ماحول ایسی خواتین اور افراد کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوجاتے ہیں اور ان سے غیرضروری توقع کی امید باندھ لیتے ہیں۔ اکثر لوگ اس بات کو زیادہ اہمیت بھی نہیں دیتے۔

اگر ایک کوئی بے حجاب خاتون شراب نوشی کر رہی ہو تو اس کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔ ہمارا دوسروں سے رویہ اور تعلق بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں کچھ ایسی خواتین کو جانتا ہوں جو حجاب پہنتیں ہیں اور دوسروں کو بھی مذہب کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن چونکہ وہ اپنی نجی اور ذاتی زندگی میں خود اس پر عمل نہیں کر پاتیں اور اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دوسروں کی اسلام سے دوری کا سبب بنتیں ہیں۔ میں نے کچھ ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو سر پر چادر تو اوڑھتی ہیں لیکن انکے اخلاق مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔ میرا ایک دوست اکثر کہتا ہے “یہ پردہ کبھی کبھی اپنوں سے بھی کیا جاتا ہے کہ کوئی پہچان نہ لے” نا محرم جوڑوں کی ان ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے جسمیں خاتون اپنی شناخت چھپانے کے لیے حجاب کہ استمال کرے  لیکن کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ حجاب اور مذہب پر الزام تراشی کی جاۓ؟  یقیناً نہیں! حجاب (اور داڑھی) کومذہبیت کے ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اذہان کی تبدیلی حجاب کے لیے پیشگی شرط ہے۔ اگر کوئی عورت اسکے حقیقی مقاصد کو سمجھے بغیر حجاب پہنتی ہے تو وہ اپنے ساتھ انصاف نہیں کررہی، حجاب عورت کو قید کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسکی حفاظت کے لیے ہے۔حجاب، پردہ یا عبایا پہننے کے مقاصد کیا ہیں؟ اسکو سمجھنا چاہے اور اسے انہیں مقاصد کے حصول کے لیے پہننا چاہئے۔

 

آج کل خواتین کو ملٹی بلین ڈالرز کی فیشن زدہ اور فحش اشتہاری صنعت میں ایک متحرک کردار کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ کیا ہم اسے آزادی کہ نام دیں؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو غلامی کی بدترین شکل ہے اور بد قسمتی  سے کچھ ایسے افراد جو حجاب کے حق میں ہیں وہ  بھی اس سے سحر زدہ ہیں۔ حجاب جو کہ اب ایک فیشن بنتا جارہا ہے لیکن درحقیقت حجاب فیشن نہیں۔ اسکا مقصد عورت کی حفاظت اور اسکی پہچان ہے نہ کہ عورت کو مزید لیپا پوتی کرکے نامحرموں کے سامنے مزید خوبصورت اور پرکشش بنا کر پیش کرنا ہے۔

 

وہ لوگ جو حجاب پر اعترض کرتے ہیں انکی بھی کچھ عجیب وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ کہتے کہ ہم مذہب کہ لبادہ نہیں اوڑھنا چاھتے، جبکہ کچھ اثبات سے خوف زدہ ہیں کہ حجاب پہننے سے دنیا انھیں غیر ترقی یافتہ اور رجعت پسند گردانے گی۔ لیکن مجھے! کہ ایک مسلمان کو اپنے لباس اور حلیے سے بھی مسلمان ہی نظر آنا چاہے۔ مذہب کوئی ایسی شے نہیں جو آپ سے اپنے ایمان آپکو پوشیدہ رکھنے کا تقاضہ کرتا ہو یا جس کے اظہار پر آپ کوئی شرمندگی محسوس کریں۔ اگر کوئی مسلم خاتوں حجاب کی پابند ہے تو یہ کو اچنبہے  کی بات نہیں۔ اسے ایسا ہی کرنا چاہے مگر حجاب پہننے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ بہت مذہبی اور پرہیز گار ہے ان معملات میں نیت اور ارادے کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔

میں جس نکتے کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نہ ہمیں اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہے اور نہ ہی معمولی سمجھ کر نظر انداز کردینا چاہے، حجاب کی پابندی ہرمسلم خاتوں کو اپنے لیے لازم کرنی چاہے اور اسکو یہ سمجھنا چاہے کہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات کا حصّہ ہے جو ان پر بطور مسلم خاتوں کچھ ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اسکی طرف مائل ہورہی ہیں اورباحجاب خواتین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو پرکھنے کے لیے صرف حجاب ہی کو پیمانہ نہ بنایا جانے، بلاشبہ حجاب مسلم خواتین پر فرض ہے لیکن اسکو سیاست کی نظر نہ کیا جائے اور اگر کوئی حجاب کا غلط استمال کر رہا ہے تو براے مہربانی اسکا اطلاق سب پر نہ کیا جائے۔

 

یہ تحریر محمد سعد خان کی انگلش تحریر کا ترجمہ ہے۔

اصل تحریر mybitforchange.org پہ پڑھی جاسکتی ہے۔

 

ٹیگز:,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: