یوم دفاع

مصنف : شرجیل قریشی
قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں- یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت کیلئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضہ کرتے ہیں- ماؤں سے انکے جگرگوشے اور بوڑھے باپوں سے انکی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں- قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشاں وطن رزمگاه حق و باطل کا رخ کرتے ہیں آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں کچھ جام شہادت نوش کرکے امر ہوجاتے ہیں کچھ غازی بن کر سرخرو-
تب جاکر کہیں وطن اپنی آزادی وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں-
یہ ایام فیصلہ کن ہوتے ہیں- اگر قربانی کا حق ادا نہ کیا جائے جان و مال کو وطن پن ترجیح دی جائے، ماں کی ممتا اپنے جگرگوشے کو قربان کرنے سے گریزاں ہو، بوڑھے باپ اپنا اور خاندان کا سہارا کھونے کیلئے تیار نہ ہو تو پھر وطن اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں- قومیں تاریخ کا حصہ اور پارینہ قصہ بن جاتی ہیں اور آزادی کے بجائے غلامی کی زندگی قوموں کا مقدر ہوتی ہے-
ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبیث باطن سے مجبور ہوکر ستمبر 1965ء کو پاکستان پر شب خون مارا- بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کرلیں گئے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گئے- لیکن انہیں اندازه نہیں تھا شیر سویا ہوا بھی شیر ہوتا ہے- افواج پاکستان و عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا، سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگئے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کیلئے قربان کردیا، ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا، طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے آیا لیکن ہمیشہ کیلئے ناکامی کا بدنما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا- وه شائد اس بات سے واقف نہ تھا کہ جو زمین شہداء کے لہو سے شراب ہوتی ہے بڑی ذرخیز و شاداب رہتی ہے- اسکے سپوت اپنی دھرتی کیطرف اٹھنے والی ہر انگلی توڑنے اور ہر میلی آنکھ پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے اور اسکا بہترین مظاہرہ 06 ستمبر 1965ء کو کیاگیا- انتہائی بےسروسامانی کے عالم میں جرات و بہادری کی درخشاں مثالیں قائم کی کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں-
آج ہم یوم دفاع منارہے ہیں ہر سال کیطرح وطن عزیز کیلئے دعائیں ہوں گئی، سرکاری و نجی سطح پر تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے، توپوں کی سلامی سے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے- دفاع وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں اور پھر شام ہوجاتی ہے- جب صبح سوکر اٹھتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتا ہے- ایک دن قبل کیے گئے وعدے و دعوے بھول جاتے ہیں، پھر وہی کاروبار زندگی، وہی سیاست کی سیاہ کاریاں، وہی دولت کی ہوس، وہی اقتدار کی جنگ، وہی کاسہ لیسی، وہی غیروں کی غلامی، وہی ازلی دشمن سے دوستی کی پینگیں، نیز ہر وه کام جو دفاع وطن کے فلسفے کے خلاف و شہداء کے مقدس خون سے غداری کے مترادف ہو حب الوطنی کے لبادے میں کیا جاتا ہے-
کیا اسلیے شہداء نے اپنے خون، ماؤں نے اپنے جگرگوشے اور قوم نے اپنے سپوت قربان گاه عشق میں وار دیئے تھے؟ کیا ہم نے اسلیے قربانیوں کی داستانیں رقم کی تھی کہ پھر اسی دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گئے؟ کیا جرات و بہادری کا یہی تقاضہ ہے کہ اپنا حق مانگنے کیلئے بھی منتیں اور سماجتیں کی جائیں؟ دشمن ہمارا پانی بند کردے ہمارے شہہ رگ پر قابض ہوکر علم و جبر کے پہاڑ توڑے اور ہم مذاکرات کیلئے اپنے سارے وسائل صرف کردیں، جسکا نتیجہ سوائے دشمن کو مزید مہلت دینے کے کچھ نہ ہو-
اگر قیامت کے دن ان ماؤں نے ہمارے گریبان پکڑ کر سوال کرلیا کہ اسلیے ہم نے اپنے بیٹے وطن کیلئے وارے تھے؟ تو کیا جواب ہوگا؟ اگر شہیدوں نے پوچھ لیا کہ ہم اسلیے جان سے ہارے تھے تو کیا جواب ہوگا؟
آج وطن عزیز جن حالات سے دوچار وه انتہائی تشویش ناک ہیں- اندرونی و بیرونی طور پر دشمنان پاکستان ہماری جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں- دوسری جانب افغان سرحد پر استعماری قوتیں اسلامی جمہوریہ کے خلاف سازشیں کرنے میں مصرف ہیں- اندرونی طور پر قبائلی علاقوں میں اپنی ہی فوج اپنی ہی عوام کے خلاف برسرپیکار ہے- بلوچستان میں اپنی ہی کوتاہیوں کے باعث آزادی کی تحریک دن بدن زور پکڑرہی ہے- خودکش حملوں کا ناختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے- مہنگائی بام عروج پہنچ چکی ہے- بدنام زمانہ “بلیک واٹر” امریکی سفارتخانے کی زیر سرپرستی مصروف ہے- پاکستان کی سالمیت کا ضامن ایمٹی پروگرام خطرات میں گھرتا جارہا ہے اور ہم سوئے ہوئے ہیں-
ان مشکل حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ ایک بار پھر اسی جذبے کے ساتھ دفاع وطن کےلئے اٹھ کھڑے ہوں- وہی جرات و بہادری، وہی عزم و استقلال اور وہی جہد مسلسل ہمارا زاد راه ہو-
بدقسمتی سے آج ہر محاز پر ہماری آزادی کو چیلنج کیا جارہا ہے- ڈرون حملوں سے لے کر اسلام آباد میں امریکہ کے 200 گھر کرائے پر لینا، بلیک واٹر کی کاروائیاں، بلوچستان میں آزادی کی تحریک، بارڈر کی صورتحال، خیر پختون و قبائلی علاقوں کے حالات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں-
آئیے مل کر عہد کیجئے کہ ہم وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گئے-
۔اپنے اپنے دائرہ کار میں ره کر وطن عزیز کی فلاح و دفاع کےلئے کردار ادا کریں گئے اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گئے جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آسکے-

خدا کرئے کہ میری ارض پاک پر اترے
وه فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
—————————
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بنده دو عالم سے خفا میرے لیۓ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: