“مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا”

کہا جاتا ہے کہ جب منگولوں‌ نے بغداد کو تاراج کیا تو اس وقت لوگ اس پر بحث فرما رہے تھے کہ کوّا حلال ہے یا حرام!

تاریخ کے ان تلخ حقائق کو قبول کرنا آسان تو کبھی بھی نہ تھا مگر ہمیشہ ایک سوال اپنی بازگشت کے ساتھ ذہن پر سوار رہا ۔۔۔۔۔۔

کہ اس وقت جبکہ منگول مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے تھے اور ایک عظیم الشان سلطنت کی باقیات کو اپنے گھوڑوں کے کھروں تلے بے دردی سے روند رہے تھے تو وہ کون اور کیسے لوگ تھے جو اس گتھی کو سلجھانے اور اس بحث کو نمٹانے کی فکر میں لگے ہوئے تھے کہ کوا حرام ہے یا حلال ؟

مگر بھلا ہو حکیم اللہ محسود کا کہ وہ ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد جہاں اور بہت سی الجھی گتھیاں سلجھا گئے وہیں آج تک ہمارے دماغ میں اٹھنے والے اس سوال کا جواب بھی دے گئے۔

ادھر ڈرون حملے نے حکیم اللہ محسود کی سانسیں بند کیں اور وہیں ملک کے طول و عرض میں ایک گرما گرم بحث کا آغاز ہو چکا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے حکیم اللہ محسود کی جان اسی بحث کا نتیجہ اخذ کرنے لیے لی گئی ہے ۔۔۔۔ کہ وہ شہید ہے یا ہلاک ؟؟

جس وقت میں ہر طرف بھانت بھانت کی بولیاں سن رہی تھی تو دور کہیں مجھے آوازیں سنائی دے رہیں تھیں،

گھوڑوں کی ٹاپوں تلے کچلے جانے والے معصوم لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلواروں اور نیزوں کی زد میں آتے سسکتے آہ و بکا کرتے زندہ وجود۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمیں پر پڑے خون سے لتھڑے تڑپتے لاشے ۔۔۔۔۔۔۔

اور ان کے درمیان چلتی اہم بحث کہ کوا حرام ہے یا حلال ۔۔۔!!!

آہ ۔۔۔۔!!

ایسی آوازیں مجھے آج اپنے اطراف میں بھی ہر طرف سنائی دے رہیں ہیں ڈرون میں مارے جانے والے معصوم بچوں کی چیخیں ۔۔۔

اپنی آنکھوں کے سامنے ہسنتے بستے گھروں کو کھنڈرات میں بدلتے دیکھنے والوں کی سسکیاں ۔۔۔

ہر روز لاشیں اٹھا نے والے کندھوں کی دھاڑیں مارتی چیختی چلاتی آوازیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ا س کے درمیان ہمارے ہر چینل پر گونجتی ایک ہی بحث کہ حکیم اللہ شہید ہے کہ ہلاک !!

اور اس پر مستزاد یہ باور کروانے کی کوشش کہ امریکہ نے محسود کو مار کر ہم پر ایک احسان عظیم کیا ۔۔۔

مگر بحث تو یہ ہے ہی نہیں کہ وہ ہلاک ہے یا شہید ؟؟؟

نہ بحث یہ ہیکہ وہ پاکستان کا دشمن تھا یا دوست ؟؟؟

بحث تو یہ بھی نہیں کہ  حکیم اللہ کو امریکہ نے صحیح مارا یا غلط  ؟؟؟

بحث تو یہ تھی کہ حکیم اللہ محسود کو حکیم اللہ محسود بنایا کس نے ؟؟

اور دراصل بحث تو یہ تھی کہ امریکہ کو کس نے اجازت دی کہ وہ ہمارے گھر میں گھس کر یہ فیصلہ کرے کہ کون ہمارا دشمن ہے اور کون دوست ؟؟

مگر کیا کیجیے کہ ایسے سوال تو دراصل ان قوموں کے ماتھے کا جھومر بنتے ہیں جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتیں ہوں حمیت سے عاری قوموں سوالات کرنے کی اجازت نہیں ملا کرتی ۔

جس علاقے سے محسود کا تعلق تھا، وہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے پہلے تو بہت پر امن علاقہ تھا، پورے پاکستان میں یہ وہ علاقے تھے جہاں اس جنگ کے نزول سے قبل کبھی ایسے فسادات نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ تو وہ سرحدیں تھیں جہاں ہم نے آدھی صدی سے زیادہ عرصے تک کبھی اپنی فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔۔

یہ تو محافظ پاکستان تھے اور آج یہ عالم کہ سوا لاکھ فوج وہاں موجود ہے اور پھر بھی امن نہیں ۔۔۔۔۔۔

دراصل بحث تو یہ تھی کہ اگر وہ دشمن پاکستان بن بھی گیا تھا تو ۔۔۔۔۔ محافظ پاکستان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشمن پاکستان تک کا سفر کیسے اور کیوںکر طے ہوا ؟؟ْ

یہ سب جاننا اتنا مشکل نہیں —

ہاں بس اس کے لیے اپنی آنکھوں سے بے غیرتی و بے حمیتی کی پٹی اتارنا شرط لازم ہے ۔۔۔

کل صاحب کے کسی دوست کا فون آیا جو پاکستانی طالبان کے انتہائی مخالف تھے۔ فون پر بات کرتے ہوئے صاحب نے کئی بار یہ جملہ کہا کہ جناب اب آپ خود ہی بتائیں کہ طالبان خود بنے یا بنائے گئے ۔۔۔۔ فون بند ہونے پر جو کہانی معلوم ہوئی وہ کچھ ایسے تھی کہ ان کے کسی رشتہ دار کو گھر سے اٹھا لیا گیا اور الزام یہ لگایا گیا وہ طالبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اخبار میں خبر بھی چھپ گئی (جب کہ وہ انتہائی مخالفین میں سے) ۔۔۔ اب وہ بار بار ایک ہی بات کرتے کہ جب وہ جیل سے آئے گا تو حقیقتا طالبان بن کر نکلے گا۔ آج پتہ چلا کہ طالبان  بنتے نہیں بنائے جاتے ہیں۔

یہ تو صرف ایک الزام لگنے اور جیل جانے والے کا حال ہے۔ سوچیں تو ذرا جن کے گھروں کو ان کی آنکھوں کے سامنے بلڈوز کر دیا جائے،

جنہوں نے اپنے زندگی سے بھر پور گھروں کو اپنے ہاتھوں سے قبرستانوں میں بدلا ہو ،

جنہوں نے اپنے ننھے ننھے معصوم بچوں کے لاشے اٹھائے ہوں بغیر کسی جرم کے ۔۔۔۔

وہ جواب میں آپ کو محبت بھری شمعیں بھیجیں گے تو یہ خام خیالی ہے ۔۔۔

اور دکھ تو یہ کہ جن آقائوں کو خوش کرنے کے لیے اس ملک کو جہنم میں جھونک دیا گیا، وہ آج بھی خوش نہیں اور نہ ہی وہ کبھی خوش ہونگے کہ

یہ تو میرے رب نے بھی ارشاد فرمادیا کہ :اے ایمان والو ! تم یہود و نصاری کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انھی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہت راست نہیں دکھاتا ۔ المائدہ ( 51 )28 ).

اللہ رب العزت نے تو بہت واضح ہدایات دے دیں کہ جب تک تم ان سے دوستیاں نہیں ختم کرو گے، اسی حال میں رہو گے اور نہ اللہ راضی ہوگا اور نہ وہ دشمن خدا ۔۔۔۔

اس آیت کے تناظر میں ہمارا حال یہ کہ

“مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا”

اسی لیے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی آج امریکہ مائی باپ ہم سے خوش نہیں اور یہ ڈرون حملہ بھی ہماری پیٹھ میں گھونپے جانے والے بہت سے خنجروں میں ایک اور زہر آلود خنجر تھا جس نے عین اس وقت ہمارے جسد ملی میں یہ خنجر گھونپا جب ہم اپنے اس دشمن کو پھر سے دوست بنانے کے لیے ہاتھ بڑھائے بیٹھے تھے، اور امن کے لیے بات چیت آگے بڑھنے کو تھی ۔۔۔۔ امریکہ نے تو اپنے تئیں ٹھیک کیا کہ امن اگر اتنی آسانی سے ہو جاتا تو جو آگ اتنے برسوں سے اس نے لگائی تھی، اس کا تو مقصد ہی فوت ہو جانا تھا ۔۔۔ سو اس کے لیے ضروری تھا کہ اس نومولود امن بچے کو فوری موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ۔۔۔۔۔ کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔۔۔

مگر دکھ اور افسوس تو اس پر ہیکہ اتنا سب گزر جانے کے بعد بھی ہم نے اپنے کھلے دشمن کو نہ پہچاننا  بلکہ ہمارے میڈیا نے تو شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری  کا ثبوت یوں پیش کیا کہ  اس حملے کا دفاع کرنا اور قوم کو اس نقصان کا ادراک ہی نہ ہونے دینا اور کسی اور ہی جانب لگا دینا صرف بےحسی کی انتہا ہی نہیں بلکہ بے غیرتی کی وہ انمٹ داستاں ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی ۔۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ ایسی قومیں جو اپنی غیرت و حمیت غیروں کی جھولیوں میں ڈال کر بے حسی کی نیند سو جاتی ہیں،  وہ پھر تاریخ میں کبھی گھوڑوں کے کھروں کے نیچے کچلی ہوئی ملا کرتی ہیں تو کبھی ان کے چیتھڑے ڈرون حملوں کے نتیجے میں پتھروں میں دفن ملتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

5 Comments
  1. 8 November, 2013
    محمد اسلم فہیم

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

    Reply
  2. 8 November, 2013
    Muneera Kaleem
    very good isra ghori…Gog bless you.
    Reply
    • 9 November, 2013
      اسریٰ غوری

      آمین ۔ جزاک اللہ خیر

      Reply
  3. 8 November, 2013
    azhar
    Please think before you write something, Allah Subhana Ta’allah kadir hai aur saans ussi kay hukum say band hoti or chalti hai.
    Reply
  4. 12 November, 2013
    Affaq Chaudhry

    الله آپ کو جزا عطا فرمائے اور آپ کے قلم میں اور قوت عطا کرے باطل کے مقابلے کے لئے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: