“میں اور میری پیاری جمعیت”

(شہزاد اسلم مرزا ۔۔ واہ کینٹ)
اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں لیکن اب بھی کہیں جمعیت لکھا نظر آئے، کسی کی زبان سے ادا ہو، یا جمعیت کا انسگنیا کہیں نظر سے گزر جائے تو دل کی دھڑکن خود بہ خو د تیز ہونے لگتی ہے ، آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ، پورا وجود ایک عجب سی کیفیت سے سرشار ہوجاتا ہے ایسی کیفیت جسے نہ الفاظ سے بیان کیا جا سکتا ہے اور نہ تحریر میں ڈھالا جا سکتا ہے بس اس احساس کو جیا جا سکتا ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے افراد ہوں یا معاشرے ان پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ فرد کی انفرادی حیثیت پر جمعیت کیا اثرات مرتب کرتی ہے ؟
ہر فرد کی اپنی کہانی اور داستان ہے لیکن میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک سکول کے ایسے طالبعلم جو دوچار افراد کی موجودگی میں گھبرا جایا کرتا تھا،ڈھنگ سے اپنا تعارف کروانا بھی نہیں آتا تھا جمعیت نے ایسا حوصلہ، ہمت اور اعتماد بھر دیا کہ اپنے سے بڑے طلبہ کے پروگرام کنڈکٹ کرنے سے لے کر حق اور سچ کی آواز استاد اور متعصب امام مسجد تک پہنچانے کے قابل کر دیا۔
نام نہاد دانشوروں کے محض عبادات تک کے محدود تصور کو اس کے آفاقی تصور میں بدل دیا کہ اسلام انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں صرف اپنی حاکمیت چاہتا ہے۔
ایسا نوجوان جو صرف پچھلی لائن میں بیٹھ کر درس اور لیکچر سنا کرتا تھا اسے جمعیت کے تربیتی نظام نے اس قابل کر دیا کہ سینکڑوں افراد کے سامنے ایک چھوٹے سے مدرس کے روپ میں بٹھا دیا۔
ایسا نوجوان جو شاید اپنی عمر کے لڑکوں کی کرکٹ ٹیم کو پلاننگ سے نہ چلا سکتا تھا جمعیت نے ایسی انتظامی صلاحیتیں پیدا کیں کہ سینکڑوں افراد کے پروگرامات اور تربیت گاہوں کی پلاننگ اور انتظامات کرنے کے قابل ہو گیا۔
ایک وقت تھا جب شاید کسی سے 10روپے ادھار لینا بھی ممکن نہ تھا کہ جمعیت نے وہ عزت اور مقام بخشا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے عام افراد سے اعانت طلب کی تو افراد نے گلے لگا کر دعاوں کے ساتھ رقم تھما دی۔
سوچ اتنی محدود تھی کہ گلی ، محلے سے آگے کا بھی کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا لیکن جمعیت نے شعور میں اتنی وسعت پیدا کر دی کہ ملکی ہی نہیں بین الاقوامی حالات بھی موضوع گفتگو ہونے لگے، کشمیر کا مسئلہ کیا ہے، فلسطینی کیوں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور وہ سامراجیت کیا ہے جس کا ہدف صرف امت مسلماں ہے اور سب سے بڑھ کر بحیثیت مجموعی امت کی وہ کون سے کمزوریاں ہیں جن کی بدولت ذلت اور بربادی امت کا مقدر بن چکی ہے۔
ایک ایسا نوجوان جواپنی حق تلفی پر بھی آواز بلند کرنے سے گھبراتا تھا جمعیت نے حکمرانوں اور ان کے غنڈے پولیس والوں کے ڈنڈوں، لاٹھیوں اور گولیوں کے سامنے کھڑے ہو کر عملی میدان میں اپنی دعوت، پیغام اور جدوجہد کرنے کا جوش و جذبہ ،ولولہ اور شعور عطا کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ اللہ پاک ، والدین اور جمعیت کی وجہ سے ہوں اور اس راہ پر چلتے ہوئے جو مشکلات اور ٓزمائشوں سے دوچار ہوا ہوں یہ جمعیت کا ہی دیا ہوا شعور ہے کہ اپنے وقت کو استقامت اوراپنا مقدر سمجھ کر ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کی زندگیوں سے بہتر اور پر عزم انداز میں گزار رہا ہوں۔
مجھے فخر ہے میں اللہ کے شیروں، محمد ﷺ کے غلاموں، اقبالؒ کے شاہینوں اور مرشد مودودیؒ کے افکار سے مزین تحریک اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ رہا ہوں بلکہ دلی اور نظریاتی طور پر اب بھی ہوں۔
6 Comments
  1. 24 December, 2013
    Sohail
    great
    Reply
  2. 24 December, 2013
    Sohail Ch.
    Allah o Akbar, I still remember my first program we together running all the way to b in front line where police firing the shells n bullets ,, this is only Jamiat who blessed us courage , confidence and strong believe in Allah.
    Reply
  3. 24 December, 2013
    Mustafa Malik

    ایسا نوجوان جو شاید اپنی عمر کے لڑکوں کی کرکٹ ٹیم کو پلاننگ سے نہ چلا سکتا تھا جمعیت نے ایسی انتظامی صلاحیتیں پیدا کیں کہ سینکڑوں افراد کے پروگرامات اور تربیت گاہوں کی پلاننگ اور انتظامات کرنے کے قابل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماشاء اللہ یہی تربیت کا ثمر ہے

    Reply
  4. 24 December, 2013
    محمد فہیم باری جٹ

    ہم نے بھی جمعیت سے بہت کچھ پایا،سیکھا،
    خود اعتمادی،ٹیم ورک،اسلامی تربیت اور بہت،
    شکریہ جمعیت،
    ماشاء اللہ شہزاد بھائی بہت اچھی تحریر ہے،یہ بھی جمعیت کی ہی دین ہے،

    Reply
  5. 24 December, 2013
    raheela irrum

    حقیقت یہ ہے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ اللہ پاک ، والدین اور جمعیت کی وجہ سے ہوں اور اس راہ پر چلتے ہوئے جو مشکلات اور ٓزمائشوں سے دوچار ہوا ہوں یہ جمعیت کا ہی دیا ہوا شعور ہے کہ اپنے وقت کو استقامت اوراپنا مقدر سمجھ کر ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کی زندگیوں سے بہتر اور پر عزم انداز میں گزار رہا ہوں۔
    میرے پیارے غازی بھائی شہزاد اسلم کے جذبات و احساسات اور قربانی و آزمائش کا عکاس ،،،،اچھا آرٹیکل ہے

    Reply
  6. 25 December, 2013
    Armoured Fist
    Once someone becomes a Jamati…you simply cannot un-Jamati him/her!

    There is not a single shred of doubt that Jamiat is the first line of defence formed to protect youth from Godlessness and moral/spiritual decadence! It is the foremost flag bearer of patriotism for the youth; instilling an un-erasable sense of patriotism in them which no other entity/group comprising of young people can rival! Jamiat is one of the “fortifications” built around the ideology of Pakistan!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: