قلعہ کی حفاظت

                                                                                                                                                                                                                         تحریر :اسامہ علی  

 

14اگست 1947 کراہ ارض پر برطانوی سپر پاور کے ڈوبتے سامراج میں ایک اور کاری ضرب لگاتے ہوئےاس نئی ماڈرن دنیا میں دنیا کا پہلا مذہبی بنیاد پر آزادی کی جنگ لڑ کر آزاد ہونے والا ایک ملک وجود میں آیا۔ جو خالصتاََ لاالہ الاللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے شہادت کے جذبے سے سر شار فلسفہ ِ اقبال کے پیرو کار سر پھرے مسلمانوں کی  قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ یہ ملک کسی قومیت کی بنیاد پر آزاد نہ ہوا، یہ ملک کسی مذہبی فرقے کی بنیاد پر آزاد نہ ہوا ، یہ ملک کسی ماڈرن نظام کی تجربہ گاہ کی بنیاد پر آزاد نہ ہوا۔ اس ملک کی مٹی لاکھوں سر پھروں کے خون  کی مدد سے زرخیز ہوئی ۔ اور اس ذرخیز زمین کی مٹی سے پیدا ہوئے ایک ایک وجود اس ملک کی حفاظت پر اپنی زندگی کے روزِ اول سے معمور ہو جاتا ہے۔ یہ اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی واحد دنیا کی ریاست ہے اس ریاست کے وجود میں آتے ہی اس دنیا کے فریبی سازشی ذہن حرکت میں آگئے روزِ اول سے ہی کبھی اس ملک کو لیڈر سے محروم کر کے غلام بنانے کی کوشش کی، کبھی اس  کو بدلنے کی کوشش کی، کبھی اس ملک کو توڑ کر کمزور کرنے کی کوشش کی، کبھی جنگ میں جھونک کر آزمانے کی کوشش کی، کبھی فرقوں میں بٹے، کبھی قومیت کے پجاری بننے ،کبھی انتہا پسند، کبھی روشن خیال بنے۔ غرض ہر طریقے سے اس ملک کو کمزور کرنے کے ہر ممکن طریقے اپنائے گئے۔ مگر جو لوگ سپر پاور صرف اللہ کا نعرے لگانے والے ہوں وہ کب کفار کے آگے سر جھکاتے ہیں ۔ نہ سر جھکتا ہے نہ کٹا ہے یہ سر تو صرف اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے ۔ جس طرح جانور خود کو طاقت ور ظاہر کرنے کے لئے ہر ممکن طریقے سے مخالف کے سامنے خود کو اونچا کرتے ہیں ۔ اسی طرح ایمان کے جذبے سے سر شار لوگوں کو مایوس کرنے اور انکو کمزور دکھانے کی غرض سے یہ فریبی نظام کے پیروکار تعداد میں خود کو زیادہ دکھا کر ہمارے دماغوں سے کھیلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں جس کے دل میں 313 کے عظیم لشکر کے کارنامے ہوں وہ جب آج کڑوڑوں میں ہیں تو وہ اب کیوں گھبرائیں گیں اس فریبی نظام کی ایک اور کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کو فریب دیتے دیتے  خود ایک فریب ھی بن جاتے ہیں۔ کوئی شک نہیں میرے نبیﷺ نے آج سے 1400 سال پہلے ہی اس انسانی دور کے سب سے عظیم فتنے سے آگاہ کردیا دیا فتنہ دجال جو صرف فریب دکھا کر لوگوں کو خدا سے مایوس کر کہ کفر پر لے جائے گا ۔ بے شک میرے رب کی رحمتوں سے مایوس ہونا کفر ہے۔

اسلام کے قلعہ کے ایک حصے کو 1971 میں سازشی چالیں چل کر الگ کردیا گیا مگر کرنے والے بھول گئے کہ ادھر بھی سر پھروں کے خون کی فصل لگی تھی ادھر بھی خون سے ذرخیز ہونے والے مٹی کے انسان تھے جو 1947 سے اب تک قلعہ کے لئے لڑتے ہیں ۔ مصائب برداشت کرتے ہیں۔ پھندے پر جھول گیا مگر شہیدوں کے خون سے بے وفائی نہ کری ایک ایسا ہی سر پھرا ہم سے جدا ہوگیا پھر اپنے خوں سے قلعہ کے الگ ہوئے حصے کو ذرخیز کر گیا۔ مگر یہ کیا قلعے کے اندر موت سا سناٹا چھایا تھا صرف ایک یا دو جماعتیں ہی مذمت کرتی نظر آئی فریبی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ۔ نادان پھر فریب دیتے دیتے خود فریب کا شکار ہوگئے سمجھ بیٹھے کے چپ سادھنے سے محبِ وطن بلوچوں کو مایوس کردیں گیں کشمیر میں لڑتے مجاہدین کو مایوس کردیں گیں سر پھروں کے خون سے اگنے والے کراچی کے لوگوں کو مایوس کردیں گیں خیبر تک سب کو یہ بات باور کروا دیں گیں کے اس ملک کا ساتھ دوگے تو سزا پاتے ہوئۓ بھی اس ملک سے مذمتی بیان کے منتظر رہے جاوگے۔نادان ہیں یہ لوگ گندگی میں اٹے ہوئے صفائی کا درس دینے والے ہیں یہ لوگ۔ واقعی اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے ۔ سمجھ ہی نا پائے کے اس زمیں کے ٹکرے کے لئے جان دینے والے نہیں ہیں یہ سر پھرے ہم تو اس ملک کو اسلام کا قلعہ مانتے ہیں اور اسلام کے قلعے کہ بچانے کے لئے اس پل تک جان دیتے رہے گیں جب تک اس خون سے ذرخیز دھرتی کا ایک انچ بھی سلامت ہے۔ تم لاکھ مایوس کرنے کی کوشش کروں لیکن کفر پر چلنےوالے نہیں ہم لوگ تم، لاکھ فریب کرو سورۃ کہف پڑھنے والے لوگ ہیں ہم لوگ، تم لاکھ جبر کروں سورۃ العصر کو زندگی گزارنے کا ذریعہ بنانے والے ہیں ہم لوگ، تم لاکھ تعداد بڑھاؤ 313 کے لشکر پر بھی لڑنے والے ہیں ہم لوگ، تم لاکھ موت سے ڈراؤ اللہ کی راہ میں موت کی خواہش کرنے والے ہیں ہم لوگ تم لاکھ شر پھیلاؤ لاالہ الاللہ کی صدا لگانے والے ہیں ہم لوگ۔ کون صیح کون غلط تم تو اس دنیا میں پانے کے لئے سر جان کی بازی لگاتے ہوتو تم ہی کو مبارک تمھاری یہ فریبی دنیا مجھے تو آخرت پر یقیں ہے ۔ بے شک میرا رب پاک ہے اور اسکا ہر وقول حق اور سچ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: