میڈیا اور معلومات کا فقدان !!

 تحریر : ڈاکٹر فیاض عالم
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے !!!
کیا جناب حامد میر اور عمر چیمہ قوم کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ ٢٤٠٠٠روپے ماہانہ یعنی ٢٨٨٠٠٠روپے سالانہ آمدنی والے فرد پر جب FBR کے قوانین کے مطابق انکم ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تو انھیں نے جناب سراج الحق کو ٹیکس نا دہندہ کس بنیاد پر قرار دیا – کیا ہمارے “عظیم صحافیوں” کی معلومات اس قدر ناقص ہیں –
نائب امیر جماعت اسلامی اور خیبر پختون خواہ کے وزیر خزانہ سراج الحق کے انکم ٹیکس ایشو کے حوالے سے چند بنیادی معلومات :
١- جس فرد کی سالانہ آمدنی چار لاکھ سے کم ہو اس پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا –
٢- چار لاکھ سے کم سالانہ آمدنی والے فرد کے لیے NTN نمبر لینا لازمی نہیں ہے –
٣- ایسا فرد جسکے پاس کسی میٹروپولیٹن شہر میں ٥٠٠ گز کا مکان ہو ، اس پر انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے –
٤- جسکے پاس ١٠٠٠ CC یا اس سے بڑی ذاتی گاڑی ہو ، اس پر بھی انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے –
٥- KPK میں زرعی زمینوں کی آمدنی پر تاحال انکم ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکا –
٦- کچھ علاقوں کو حکومت نے غربت کی وجہ سے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے ، لہٰذا وہاں کے رہائشی بھی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں –
٧- خیبر پختون خواہ کے وزیر خزانہ کی ماہانہ تنخواہ کل ٢٤٠٠روپے ہے یعنی سالانہ ٢٨٨٠٠٠روپے – لہٰذا ان پر انکم ٹیکس سرے سے لاگو ہی نہیں ہوتا –
٨- قانون کے مطابق انھیں NTN نمبر حاصل کرنے کی ضرورت اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ انکی سالانہ آمدنی چار لاکھ روپے نہ ہو جاۓ –
٩- سراج الحق کا کوئی ذاتی مکان یا ذاتی گاڑی نہیں ہے –
١٠- انکی تنخواہ سے ماہانہ ١٣٧٣روپے انکم ٹیکس کی مد میں منہا کئے جاتے ہیں – قانونی طور پر غلط ہیں لیکن ایسا سراج الحق کی ہدایت پر کیا جاتا ہےتاکہ صوبے میں ایک روشن مثال قائم ہو اور ٹیکس کلچر پروان چڑھے –
١١- سراج الحق صاحب کا NTN نمبر محض اسلیے حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ میڈیا میں موجود “باخبر لوگوں” کو ملک کی انتہائی دیانتدار اور درویش صفت اسلامی قیادت پر انگلی اٹھانے کا کوئی موقع نہ مل سکے –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: