وہ بچھڑ کے بھی دور نہیں گئے ۔۔۔

 تحریر : آفاق نصر
٢٠٠١ کے بلدیاتی انتخابات کی آمد تھی ، والد صاحب شام کے بجے دوپہر میں ہی گھر آ گئے، چہرے پہ الگ ہی خوشی نمایاں تھی . میرے پوچھنے پے بتایا ” آج قاضی صاحب حیدرآباد آرہے ہیں ، وہاں مدعو ہوں میں . قاضی صاحب سے ملنے کا شوق بچپن سے بے انتہا تھا . مودودی صاحب ، غفور صاحب، اور قاضی صاحب کا بچپن سے ذکر سنتے آیا تھا.
مرشد مودودی سے تو حسرت رہگئی غفور صاحب سے دو بار ملنے کا شرف حاصل ہو چکا تھا ، قاضی صاحب کا سن کر مجھسے بھی رہا نہیں گیا ، پاپا کے ساتھ میں بھی ہو لیا . مرحوم وصی ہاشمی کے گھر پونچھے. قاضی صاحب والد صاحب کو دیکھ کے کھڑے ہو کے بری گرم جوشی سے ملے اور ماتھا چوما . یہ دیکھ کے میری حیرت کی انتہا تھی کے قاضی صاحب ایک ملنے آنے والوں کے بچے کو گود میں لئے بیٹھے تھے….
٢٤ دسمبر ٢٠١٢ معلوم چلا غفور صاحب کی طبیعت بہت خراب ہے ، ٢٦ دسمبر ٢٠١٢ کو والد صاحب نے کہا منور صاحب کے بیٹے کے ولیمے میں جانا ہے کراچی ، میری بہن کی شادی بھی قریب تھی  میں نے کہا پاپا میرا مشورہ ہے گھر کے کام کر کے دیکھا جائے اگر ٹائم ملا تو چلیں گے  اور غفور صاحب کو بھی دیکھ کے آئین گے .
رات کو بریکنگ نیوز دیکھنے میں آئی غفور صاحب خالق -حقیقی سے جا ملے . ریاض صددیقی بھائی کو فون کر کے کنفرمیشن کی . صبح جب پاپا کو بتانے کمرے میں گیا تو چہرہ دیکھ کے اندازہ لگا لیا کے ان کو معلوم چل گیا ہے . آفاق تم گھر پہ رہنا میں کراچی جارہا ہوں . ہمارے غفور صاحب انتقال کر گئے .
تدفین سے واپسی پے پاپا نے بتایا قاضی صاحب کی ہمت کو سلام وہاں موجود تھے . پاپا مل کر آے آپ ؟ نہیں مجھے اسی وقت واپسی آنا تھا دور دور سے ہاتھ ہلا کے سلام کر کے واپسی آگیا ۔
٦ جنوری ٢٠١٣ ، ٥ جنوری کی افسردہ رات ، بریکنگ نیوز رات ١٢:٣٠ کے قریب : قاضی حسسیں احمد خالق حقیقی سے جا ملے . واش روم میں تھا ، بیگم نے دروازہ بجا کے خبر دی ، یا میرے الله کیسا امتحان ہے ہمارا. واش روم سے نکلتے ہی میں پاپا کے کمرے کی طرف بھاگا . اس سے پہلے ان تک خبر پوچھے میں ان کا موبائل بند کردوں . وہاں پہنچتے ہی میرا ایک اور امتحان والد صاحب ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہیں اور آنکھوں سے آنسوں تیزی سے جاری ہیں . پاپا آپ کو کس طرح پتا چلا ؟؟؟؟ متحدہ کے ایک زونل ممبر کا فون آیا تھا .
میرے قاضی بھی بچھڑ گئے ، غفور صاحب کو جنت میں جاتا دیکھا نہیں گیا ، پیچھے پیچھے ہولیے… اور ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا….
غائبانہ نماز ے  جنازہ میں والد صاحب کی طرح تمام کارکنان کی یہ کیفیت غیر تھی .
اس روز مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ، میں نے اپنا بچپن والا “قاضی بابا ” کھو دیا ہے …
یہ میری آپ بیتی تھی ، اسی طرح یقینا ہر کارکن کی ہو گی . ….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: