دہرے معیار اور ان کے ثمرات !!

تحریر : افشاں نوید
آج صبح واک پر نکلنے میں کچھ تاخیر ہوگئی، سوواپسی میں دو طرفہ روڈ کے دونوں جانب تعلیمی اداروں کی گاڑیوں کی چہل پہل ہوگئی۔ پینٹ شرٹ ٹائی لگائے صاف ستھرے اسکول کے بچے جن کی پشت پر بیگ لٹکے ہوئے تھے اور کاندھوں پر پانی کی بوتلیں اور قمیض کی جیب پر اسکول کے مونوگرام۔ بچیاں کچھ وی کی شکل میں دوپٹے لئے ہوئے کچھ سروں پر اسکارف انکی پشت پر بھی کم وبیش انہی کے وزن کے بیگ کچھ کے ہاتھوں میں لنچ باکس یا جوس کے ڈبے۔ یہ روشن پیشانیاں اور چمکتے ہوئے چہرے جو پاکستان کا مستقبل ہیں۔ روڈ کے دونوں اطراف کچھ کچھ فاصلے پر سفید کوٹس میں میڈیکل کالجز کی طالبات اور یونیفارم سے بے نیاز لیکن بہت سلیقے سے تیار یونیورسٹی کی طالبات ۔ یکے بعد دیگرے پوائنٹس کی بسیں رک رہی تھیں اور میں اپنے یونیورسٹی کے دور میں پہنچ گئی۔ زمانہء تعلیم کوئی بھی کبھی نہیں بھولتا۔ گاڑیوں کے شور اور اپنے ماضی کا رابطہ سے جوڑنے کی کوششوں میں اچانک میری نظر قدرے دائیں جانب بڑے سے میدان پر مرتکز ہوگئی۔

یہ محلے کی بڑی جامع مسجد اور مدرسہ کے باہر کا منظر ہے۔ بہت بڑا مدرسہ جہاں ملک بھر سے پڑھنے بچے آتے ہیں شلوار قمیضوں میں ملبوس بچے قطاریں بنا رہے تھے۔ سروں پر ٹوپیاں تھیں۔ سب کے لباس شکنوں والے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ رات کا لباس تبدیل کئے بغیر اپنی کلاس رومز میں چلے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کے لباس سفید یا کریمی مائل تھے۔ میں تجسس میں کچھ اور قریب چلی گئی۔ اب ان بچوں نے ایکسرسائیز شروع کردی۔ اس دوران ان کے استاد نمودار ہوئے ۔ جو چہرے مہرے سے پٹھان لگ رہے تھے۔ کندھے پر سرخی اور سفیدی مائل صافہ تھا دھاری دار ۔ سر پر ٹوپی۔ وہ بھی ملگجے سے لباس میں ملبوس لیکن چاق وچوبند نظر آرھے تھے۔ وہ طلباء کو جنکی تعداد 200سو یا کچھ زائد ہی ہوگی پشتو زبان میں ہدایات دینے لگے اور طلباء اٹھک بیٹھک کے انداز میں انکدی ہدایات پر مشق آگے پڑھاتے رھے۔ میرا اس عمل میں اتنا انہماک میرے شوہر کو پسند نہ آیا اور ہم تیز تیز قدم اٹھاتے گھر کی سمت چل پڑے۔ ٹائی لگاکر گاڑیوں میں بیٹھ کر جانے والے بچے اور مدرسہ کے باہر گراؤنڈ میں یہ بچے بالکل ہم عمر ہیں ۔یہ سب اسکول کی عمر کے بچے ہیں۔ دونوں بظاہر دن کے آغاز میں حصول علم میں مشغول ہوجائیں گے۔

یہ دو طرح کے تعلیمی نظام جو مائنڈ سیٹ پیدا کررہے ہیں وہی شاید ہمارے سماج کا سب سے بڑا المیہ اور ہر مسلئے کی جڑ ہے۔ دینی اور دنیوی علوم دو الگ الگ بہنے والی نہریں ہیں۔ یہ مغرب کا تحفہ اور سیکولرازم کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ بلکہ یہ دو الگ الگ نظام ہائے تعلیم ہی سیکولرازم کے فروغ کا باعث ہیں۔ آج بھی ہمارے ہاں علماء کرام کا ایک گروہ یہ سمجھتا ہے کہ دنوں نظام ہائے تعلیم الگ الگ برقرار رہنا چاہئیں اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اپنی اس سوچ سے وہ حقیقتاً سیکولرازم کے فروغ کیلئے کام کررہے ہیں۔ یہ لادینیت جو اسوقت کا سب سے بڑا فکری اور نظریاتی فتنہ ہے کہ دنیا کے معاملات دنیا داروں کے پاس رہیں اور وہ دین اور مذہب کی رہنمائی سے آزاد رہیں ، جو مذہب ہے وہ ایک دائرے میں سمٹا رہا اور زندگی کا جزبن کر گویا ریل کی دو پٹڑیاں ہیں جو متوازی تو چلیں گی مگر باہم مل نہیں سکتیں۔
دراصل جب مسلم معاشرے کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھن گئی اس وقت ان کے پاس اس کے سوا کیا چارہ تھا کہ وہ اسلامی علوم اور فنون اور تہذیب کو بچانے کی کسی نہ کسی درجہ میں فکر کریں یہ دینی نظام تعلیم ایک دفاعی حکمت عملی تھی کہ مسلمان بالکل مغرب کے رنگ میں نہ رنگ جائیں۔ کیونکہ انکی تہذیب ایک غالب تہذیب ہے لہٰذا مسلمانوں کی مذہبی زندگی کو کسی طرح بچایا جائے ورنہ اس سے ماقبل کبھی دینی اور دنیاوی تعلیم کے الگ الگ نظام تھے ہی نہیں ۔ ایک ہی نظام تعلیم بیک وقت علما، مجدد، ڈاکٹر، انجنیئرز اور سوشل سائنسز کے ماہرین تیار کررہا تھا۔ مجدد الف ثانی اسکی بڑی مثال ہیں۔ پھر شیخ احمد سرہندی جو سلطنت مغلیہ کے وزیراعظم بنے وہ بھی مغلیہ دور کے اسی نظام تعلیم کی پیداوار تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایک وسیع سلطنت کا نظام انہوں نے شاہ جہاں کے زمانے میں کسی سیاسی فہم وبصیرت سے چلایا۔ صرف مجدد اور سیاستدان ہی نہیں بلکہ تاج محل بنانے والے استاد احمد اسی نظام تعلیم کے پروردہ تھے

جنہوں نے دنیا کے سات عجائبات میں ایک عجوبہ بنایا۔ وہی نظم تعلیم ، نصاب تعلیم اور تعلیمی روایت یقیناہمارا سرمایہ تھی جو دنیا اور دین کی تخلیص کے بغیر اتنے اعلیٰ پائے کے افراد مہیا کررہی تھی۔ جب ڈاکٹرز، انجنئیرز ساتھ ساتھ عالم دین بھی ہوتے تھے۔ اور عالم دین سائنسی اور سماجی علوم سے آشنا۔
ہماری بدقسمتی یہی ہے اور آج معاشرے میں جو واضح طور پر طبقاتی تقسیم ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ آج تک یہ سوچا ہی نہیں گیا پاکستانی معاشرے کو کس طرح کے اہل علم درکار ہیں اور ایک اسلامی ریاست کی تعمیر نو کیلئے کیسے ماہرین درکار ہونگے۔ اگر ہم یہ مسئلہ اس وقت بھی حل کرلیں تو ملک وملت پر بہت بڑا احسان ہوگا۔کیونکہ یہ فصیلیں دن بدن بڑھ رہی ہیں۔ مدارس میں پڑھنے والے وہ لاکھوں معصوم طلباء جو اتنا وقت اور صلاحیتیں اس تعلیم میں صرف کررہے ہیں جتنا بیکن ہاؤس سسٹم میں پڑھنے والے طلباء اور طالبات ۔لیکن سر پر عمامہ، ٹخنوں تک شلوار ، مشت بھر داڑھی انہیں سماج اجنبی بنائے ہوئے ہے۔ انکے بارے میں تاثر یہی ہے کہ یہ اپنے خول میں بند رہنے والے سائنسی اور سماجی علوم سے نابلد لوگ ہیں۔ سیاستدان، بیوروکریٹ، صنعتکار ، ماہر فزیشن یا کسی شعبہ کا ماہر ہونے کیلئے سوٹڈبوٹڈ اور کلین شیو ہونا لازمی ہے کہ دنیا داری ان لوگوں کا کام ہے جو دنیاوی علوم سے آگاہ ہیں۔ اسلئے ایوانِ اقتدار میں دنیا پرست براجمان رہیں اور مساجد ومنبر ومدرسہ علماء آباد رکھیں۔ یا دنیاوی علوم کے ماہرین کو نظام سلطنت چلاتے ہوئے کبھی کبھی جب دینی رہنمائی پڑے گی۔ ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ٹائب چیز موجودرھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کی تاریخ ’’دارلعلوم دیو بند‘‘کے چاروں طرف دائرے کا سفر ہی طے کریگی۔ ؟بلاشبہ برصغیر اور بالخصوص پورے جنوبی ایشیا میں پچھلے ڈیڈھ سو برس میں دارلعلوم دیوبند کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ یہ ایک دفاعی حکم عملی تھی۔ چونکہ معاشرے میں انکی قیادت اور رہنمائی کے امکانات ہی نہ تھے اس لئے اس رہنمائی کو مسجد اور مدرسہ تک محدود کردیا گیا۔ اس وقت نہ وسائل تھے نہ ہی وہاں کوئی آئیڈیل حالات تھے لہٰذا دین کو بچانے کی یہی کی کاوشیں ہوسکتی تھیں جودارلعلوم دیوبند کی صورت میں تاریخ کا روشن باب ہیں۔
لیکن ایک آزاد اسلامی ریاست میں دین کو صرف دارلعلوم میں قید رکھاجائے یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دین کو روز مرہ معاملات میں داخل کرکے عمومی درسگاہوں میں داخل کرکے کیوں نہ قائدانہ کردار ادا کرنے کیلئے تیار کیا جائے۔ دارلعلوم معاشرے میں محض برکت کے لئے نہ ہوں وہاں سے قائدانہ کردار تیار کئے جائیں۔ اور عملاً قال اللہ ، وقال الرسول کے ساتھ ساتھ سائنسی اور سماجی علوم سے بھی کما حقہ واقفیت رکھتے ہوں اور یہ علماء پیشہ ورکالجوں اور یونیورسٹیز میں بھی طلباء طالبات کو دینی اقدار روایات سکھائیں۔ اگر ایک طرف آپ میڈیکل وانجئرنگ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء وطالبات کا حال دیکھیں اور دوسری طرف مدارس کے طلباء ۔دو بالکل الگ الگ دنیائیں ۔اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا،انداز واطوار سب کچھ ایک دوسرے سے بالکل جدا اور دونوں فریقین اپنی اپنی دانست میں احساس برتری کا شکار۔ اور ایک دوسرے کے وجود سے بڑی حد تک متنفر۔یہ کوئی نہیں کہتا کہ مدارس میڈیکل کالجز میں بدل جائیں یا انجنئیرنگ یونیورسٹیاں لادینیت کی تعلیم کیوں دے رہی ہیں۔؟؟جبکہ قیادتیں وہیں سے تیار ہورہی ہیں۔ اگر ماضی میں علوم وفنون کی اساس قرآن مجید تھا اور قرآن مجید نے وہ جڑ فراہم کی جس سے علوم کے سدا بہار گلستان پیدا ہوئے آخر ہزار برس سے زیادہ علم وتحقیق پر مسلمانوں کے جھنڈے لہرائے دنیا ودین کی تعلیم میں یہ امتیاز ہی مغرب کا وہ ہمہ گیر ایجنڈا ہے وہ ہماری جڑیں مسلسل کھوکھلی کررہا ہے ۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ ملک وملت کے مستقبل کا انحصار اسی امتیاز کے خاتمے میں پوشیدہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: