آغا جان وفات شو”

تحریر : فضل ہادی حسین

“مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے معتمد خاص براردم یاسر اعجاز کاکاخیل کے ایس ایم ایس “آغاجان وفات شو” نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ رات 11:50 کو میں سو ہی گیا تھا کہ کہ کہ برادر سلیم صافی کی کال نے جگا دیا، کال پک کرتے ہی کٹ گئی، مجھے خیال آیا کہ شاید سلیم صافی کی والدہ کی طبعیت زیادہ خراب ہوگئی ہو ،چونکہ ان دنوں

انہیں شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑا تھا اسی وجہ سے صافی صاحب نے فون کیا ہوگا ابھی میں انہیں واپس فون کرنے کیلے بار بار فون ملا رہا تھا لیکن ان کا نمبر مصروف جا رہا تھا۔ اس انتظار میں کہ شاید وہ “بیک کال” کرینگے میں نے ان بکس میں مسجز پرھنے لگا کہ سب سے پہلے “یاسر” بھائی کا ایس ایم ایس بجلی بن کر گرا۔ گم صم بیٹھ کہ یقین نہیں آرہا تھا کہ ابھی تو چند گھنٹے پہلے آغا جان “قاضی صاحب” سے فون پر بات ہوئی تھی کہ “بیٹا ! اب میری طبعیت ٹھیک کہ میں شام کو اسلام آباد آرہاہوں اور ان کے لیٹ پہنچنے کا اطلاع بھی ملی تھی لیکن اب ان کی موت کا اطلاع۔۔۔۔؟

اس رات اسلام آباد کو سخت اور شدید دھند نے لپیٹ میں لیا تھا میں سڑک پر دو میٹر سے آگے کچھ نظر نہیں آرہا تھا مین بمشکل جب اپنے گھر کے قریب “معروف ہپستال” پہنچا تو قاضی صاحب کے بڑے بھائی ، آصف لقمان قاضی ، انس فرحان قاضی، یاسر اعجاز ، عبد القیوم سمیت دیگر رشتہ دار ہسپتال کے انتظار گاہ میں آبدیدہ آنکھوں کیساتھ بیٹھے تھے۔۔ توڑے دیر بعد جماعت کے کارکنان اور میڈیا کے دوست ہسپتال پہنچنا شروع ہوگئے۔۔۔ آغان جان کی لاش کے سامنے کھڑے ہوکر یقین نہیں آرہا تھا کہ عالمی اسلامی شناخت کیساتھ اپنے سینے میں امت کا درد رکھنے والے ، عارضہ قلب کے باجود جوان دل اور ہمت والی شخصیت کا دل آج ہار مان کر گہری نیند سوگئے۔۔۔

ان کی میت کو دیکھتے ہوئے ایک ہفتہ پہلے راولپنڈی میں اپنے پوتوں کیلئے خریدے گئے “غبارے” میری نظرون کے سامنے آگئے ، جب مریڑ چوک پر ایک غبارے بچنے والے نوجوان سے قاضی صاحبے نے کہا کہ “یہ غبارےاتنے ہی بڑے ہونگے جتنا آپ نے تار کیساتھ تشہیر کیلیے لگا یا۔۔۔۔؟ ہاں میں جواب پاکر میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرائے اور کہا بیٹا! خرید لو ، فاتح (قاضی صاحب کا پوتا) بہت خوش ہوجائے گا۔۔۔۔ لکھنے کو بہت کچھ ہیں ۔۔۔۔۔۔ یادیں بھی زیادہ اور باتیں بھی زیادہ۔۔۔۔۔ لیکن پورے ایک سال سے میں 30 دفعہ سے زیادہ ان کی شخصیت پر لکھنے کی کوشش کی ہوگی لیکن الفاظ ساتھ چھوڑدیتے ہیں۔۔۔۔ الفاط کی روانی معدوم اور ترتیب سے قاصر ہوجاتی ہے۔۔۔

ان کیساتھ تعلق تو بچپن اور زمانہ طالب علمی سے تھا لیکن ایک ، ڈیڑھ سال ان کے قریب گزار کر میں نے آج تک کسی خندہ پیشانی اور سراپا محبت والا انسان نہیں دیکھا ہے۔۔۔ ٹیلی ویژن اور کیبل چینلز پر فحاشی و عریانی کے سلسلے میں جب معروف صحافی “انصار عباسی” کیساتھ مشورے کے بعد مجھے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک خط لکھنے کا کہا۔۔ ڈرافٹ تیار کرنے کے بعد آغا جان نے کافی حوصلہ افزائی فرمائی اور کہا کہ اس خط کا فالو آپ بھی کرنا ہے۔۔۔

الحمدللہ ان کی زندگی ہی میں چیف جسٹس نے اسے ایک پیٹشن میں تبدیل کرکے باقاعدہ سماعت شروع کردی اور ایک دوسماعتوں میں خود سپریم کورٹ گئے (جو تاکہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے) آخری ملاقات میں جب راولپنڈی میں الخدمت فاونڈیشن کے ایک ذمہ دار کے بھائی کی تعزیت سے واپس اسلام آباد آفس آرہے تھے تو مجھے اتحاد و اتفاق کے بارے میں کہتے ہوئے کہنے لگے ۔۔۔ بیٹا۔۔! بلاشبہ جمعیت کے نوجوان پاکیزہ اخلاق اور کردار کے مالک ہوتے ہیں لیکن مذہبی مزاج سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتے ہیں چونکہ اپ مدرسے سے پڑھے ہیں اس لیے فیس بک پر میرا پیج ہو یا جماعت کا کوئی پیج، ضرور اسے اتحاد امت کیلئے استعمال کریں ، یہ بہت بڑی قوت ہے اگر یہ باہم متحد ہوجائے” یقینا میں قاضی صاحب رحمہ اللہ کے یہ الفاظ میرے لیے نصیحت بھی تھی اور وصیت بھی اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور مجھے یقین ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں عرب وعجم میں ان کو یاد کرنے والے، دعائیں دینے والے آج بھی ان کے یوم وفات پر آشکبار آنکھوں سے یاد کرتے ہونگے۔

إن العین تدمع والقلب یحزن ولا نقول إلا ما یرضی ربنا , وإنا بفراقک یا قاضی حسین لمحزونون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: