میرے آغا جان

تحریر  :محمد ابراہیم قاضی

جماعت اسلامی سے ایک دائمی رشتہ ہے بقول سید منور حسن صاحب میں نجیب الطرفین ہوں یعنی کہ میرے دادا مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ جو کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر بھی تھے اور سید مودودی رحمہ اللہ کے دیرینہ رفیق ہونے کے علاوہ معروف تعمیرنو سکول و کالج کوئٹہ کے بانی بھی تھے اور اس جانب قاضی حسین احمد رحمہ اللہ میرے نانا جان ٹھرے-
اتنی عظیم ہستیوں کے ساتھ اپنی نسبت بیان کرنا نہایت مشکل کام ہے کیونکہ ہم تو ابھی کرداد کے سانچے سے نکلے ہی نہیں کہ جن کی بلندیوں پہ یہ لوگ فائز ہیں- جوش اور جزبہ اگرچہ
کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے لیکن ذہن اب بھی نا پختہ ہیں، دنیا کی رنگینیوں میں رنگ جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے والے اس دل اور دماغ کو ابھی بہت کٹھن منزلیں طے کرنی ہیں-
قاضی صاحب مجھے ہمیشہ نصیحت کرتے ہوےَ اقبال کا یہ شعر سنا کر اس کا مفہوم سمجھاتے تھے یہاں تک کہ اب مجھے شاعری سے کوئ شغف نہ ہونے کے باوجود اقبال کے اردو اور فارسی کے کئ اشعار یاد ہو چکے ہیں، فرماتے ہیں،
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا
میری وقت سے پہلے کی اڑان جس کو میرے والد کے انتقال کے بعد قاضی صاحب نے ہی دوام بخشا ان کو یہ نصیحت کرنے پہ مجبور کرتی تھی کہ کہیں میں اپنی اصل دنیا جو آخرت ہے کو خراب نہ کرلوں- ان کی یہ بات کہ ہماری عزت فقیری میں ہے امیری میں نہیں کا جب حال سے تقابلی جائزہ کرتا تھا تو بہت عجیب لگتا تھا لیکن ان کے جانے بعد دماغ کی بند کھڑکی کھلی اور اب بفضل الہی ان کی بات سمجھ آ گئ-
یہ دنیا بیشک محض دھوکہ کا سامان ہے اور ہم سب کو ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے-
اور اللہ نے اپنے بندوں سے یہ وعدہ فرمایا ہے ۔
فرمان باری تعالیٰ ہے
من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا اللَّه عليه فمنهم من قضى نحبه و منهم من ينتظر و ما بدّلوا تبديلا. ليجزى اللَّه الصّادقين بصدقهم» القرآن :
مؤمنین نے اپنے پروردگار کے ساتھ جو عہد و پیمان کیا ہے وہ اس عہد پر سچے دل کے ساتھ قائم ہیں وہ اپنے عہد پر اٹل ہیں زندگی کی سختیاں ،تلخیاں اور شہوت و ہوس انھیں اس راستے سے منحرف نہیں کرسکیں۔ اللہ تعالی انھیں عہد و پیمان پر صداقت ، استقامت اور پائداری کے ساتھ قائم رہنے کے بدلے میں جزا عطا کرےگا ۔
ہماری نسل جو کہ اس فتنوں کے دور میں اپنے رب سے دور ہٹ چکی ہے کے لیے قاضی صاحب کی شخصیت یہی پیغام دیتی ہے کہ راہ نجات اللہ اور اس کے رسول ص کی اطاعت میں ہی ہے- اللہ کا خوف مومن کی اصل پہچان ہے جو اللہ کے بندوں کو زمینی خداؤں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جراءت پیدا کردیتا ہے- محبت اور اخوت ہے وہ دینی شعار ہیں جس کی دعوت سے ہم لوگوں کے دل جیت سکتے ہیں-
بقول اقبال
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
 کہ ہوتے نہیں سنگ و خشت سے جہاں پیدا
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ قاضی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماےَ اور ان کی جدوجہد کو انہی کی جماعت اسلامی کے ساےَ تلے منزل مقصود تک پہنچانے کی توفیق عطا فرماےَ-
آمین

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: