نبی کریم _____ غیر مسلموں کی نظر میں

مرتبہ:  ڈاکٹر محمد خالد مسعود

یہ حضرت محمد رسول اللہ کی عظمت ہے کہ اپنے ہی نہیں بیگانے بھی آپؐ کی تعریف میں رطب.اللسان ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں نعت کی شکل میں نبی کریمؐ کو جو خراجہائے
عقیدت پیش کیے گئے ان میں ہندو شعراء کا حصہ کافی نمایاں ہے۔ ان نعتوں میں رسول اللہؐ سے جس عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے وہ آپؐ کی ذات کی ہمہ گیری کا واضح ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر ہم جناب گوپی ناتھ امن کے چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں۔ شفیع امم رحمت عالمیں ہے فقط وہ متاع مسلماں نہیں ہے عقیدت کے اس اظہار میں جناب گوپی ناتھ امن تنہا نہیں۔ ہندو نعت گو حضرات میں تلوک چند محروم، لالہ دھرم پال صاحب گپتا وفا، لالہ لال چند فلک، رگھو پتی سہائے فراق گورکھ پوری، امر چند قیس جالندھری، پربھو دیال عاشق لکھنوی، چمن لال چمن لاہوری اور ہری چند اختر جیسے مشہور شعراء کے نام آتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند تو صدیوں سے اسلام کا وطن رہا ہے۔ یہاں کے غیر مسلموں کو تو اسلام کا بہت قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن مغربی یورپ میں اسلام اس قدر مانوس نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی حالات بھی ایسےرہے کہ یورپ کے مذہبی مفاد پرست طبقے نے اسلام کے بارے میں نہ صرف لوگوں کو ناواقف رکھا بلکہ یورپ کے عوام میں نبی کریمؐ کے خلاف بغض و عناد کی جڑیں گہری کرنے میں پورا زور صرف کردیا۔ اس طبقے نے رسول اللہؐ کی تصویر بالکل خلاف حقیقت اور گھناؤنے طریقے سے پیش کی۔ تاہم ن کی کوششیں اس وقت تک کامیاب رہیں۔ جب تک یورپ میں علم کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔ جب علم کلیساؤں کے تنگ و تاریک حجروں اور تنگ نظر عیسائی علماء کے ہاتھوں سے آزاد ہوا تو یورپ کے لوگوں میں بھی رسول اللہؐ کی تاریخ کا بے لاگ مطالعہ کرنے کا شوق جاگ اٹھا۔رسول اللہؐ کی پرشکوہ شخصیت، آپؐ کا خلق عظیم اور آپؐ کی سیاسی اور تاریخی عظمت ایسے حقائق ہیں جن کا علم ہونے پر کوئی غیر مسلم بھی اپنے تعصبات میں قید نہیں رہ سکتا۔
چنانچہ انیسویں صدی میں سیاسی اور مذہبی مفاد پرستوں سے ہٹ کر علمی سطح پر مغربی یورپ کا رابطہ اسلام سے ہوا تو رسول اللہؐ کی عظمت کے اعتراف، آپؐ کی ذات سے عقیدت کے اظہار کے جذبے نے یہاں کے علماء کی تحریروں کو بھی تعصبات کی زنجیروں سے رہائی دلائی۔

ایسی تحریروں کا آغاز فرانسیسی مصنف بولیں دی ای.یے، کی تصنیف لاوی وماہومیت (حیات محمدؐ) سے ہوتا ہے۔ جو 1830ء میں شائع ہوئی۔ تاہم سب سے زیادہ شہرت کا رلائل کے ایک مقالے ‘‘دی ہیرو از پرافٹ’’ کو ملی جو 1841ء میں شائع ہوا۔ اس زمانے کی ایک عالمانہ کتاب باسورتھ سمتھ کی محمڈ اینڈ محمڈنزم کو سمجھا جاتا ہے جو 1873ء میں لندن سے چھپی۔ یورپی مؤرخین کے لیے تعصبات سے قطعی آزاد ہونا ابھی ناممکن تھا کیونکہ ان میں سے اکثر عربی زبان سے اچھی طرح آگاہ نہیں تھے اور اس طرح اصلی ماخذ تک ان کی دسترس نہیں تھی جو لوگ عربی زبان جانتے تھے اور اسلامی تاریخ کے اصلی ماخذ سے استفادہ کرسکتے تھے۔ وہ اپنی علمی بے تعصبی کو مذہبی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھادیتے تھے۔ ان میں سے ایک واضح مثال ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک ملازم ولیم میور کی ہے۔ جس نے حضورؐ کی سوانح حیات کو اسی طرح مسخ کرکے پیش کیا جس کا خاطرخواہ محاکمہ سرسید احمد خان نے خطبات احمدیہ میں کیا ہے۔یہ تعصبات ابھی تک ختم نہیں ہوئے لیکن علمی حلقوں میں ان کی موجودگی کا احساس ضرور جاگ اٹھا ہے۔ برنارڈ لیوس انہی تعصبات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘‘مغرب کے مذہبی تعصب کے آخری اثرات بعض جدید مصنفین کے ہاں اب بھی ملتے ہیں جو ان کے عالمانہ طرز تحقیق کے دندانہ دار حواشی کی کمین گاہ میں چھپ کر بیٹھے رہتے ہیں۔

رائسٹن پائک نے بھی اپنے ایک حالیہ مقالے میں اعتراف کیا ہے۔ ‘‘غالباً دنیا میں سب سے زیادہ جو ہستی بےبنیاد اتہامات کا نشانہ بنی وہ حضرت محمدؐ ہیں۔’’ تاہم وہ مغربی مصنفین جنہوں نے مذہبی تعصب کو چھوڑ کر رسول اللہؐ کا علمی سطح پر مطالعہ کیا ہے وہ آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں مذہبی تعصب کی گرفت کا فی کمزور ہوئی ہے اور رسول.اللہؐ کی شخصیت کے بہت سے غیر جانب دار مطالعے سامنے آئے ہیں۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے مستشرقین کے ہاں رسول اللہؐ کی عظمت کا جو اعتراف ملتا ہے اس کے اقتباسات تو پاک و ہند کے علمی رسائل میں اکثر و بیشتر شائع ہوتے رہے ہیں اور اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی موجود ہیں۔ تاہم بیسویں صدی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں لکھا گیا۔۔

حال کے مستشرقین کی تمام تحریروں کا جائزہ تو ناممکن ہے تاہم ذیل میں ان کی تحریروں سے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں۔ پروفیسر لیونارڈ اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ ‘‘(حضرت) محمدؐ سے بڑھ کر کوئی مخلص اور سچا آدمی پیدا نہیں ہوا۔ آپؐ ذکاوت اور اخلاص کے پیکر تھے۔’’ ہملٹن گب نے آپؐ کی پر اثر شخصیت اور اخلاقی برتری کا اعتراف اس طرح کیا ہے ‘‘ہمارے نزدیک یہ بات محتاج بیان نہیں کہ (حضرت) محمدؐ کے صحابہؓ نے اپنے ارادے اور جذبات جس طرح (حضرت) محمدؐ کی مرضی کے تابع کردیے تھے اس کی تمام تر وجہ آپؐ کی شخصیت کا اثر تھا۔ اگر یہ اثر نہ ہوتا تو وہ رسول اللہؐ کے دعاوی کو کبھی اہمیت نہ دیتے۔

آپؐ کی دینی تعلیمات سے بڑھ کر آپؐ کی اخلاقی عظمت تھی جس نے اہل مدینہ کو انصار بنا دیا۔’’ اقوام مشرق کے افکار و عادات میں رسول اللہؐ کی سیرت اور تعلیمات نے جو حیرت انگیز انقلاب برپا کیا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے باسورتھ سمتھ لکھتے ہیں۔ ‘‘صبح دم مؤذن کی آواز الصلوۃ خیر من النوم، الصلوۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے) ہر روز اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جہاں جہاں بھی رسول عربیؐ کا پیغام پہنچا اس کا مشرق کی روایتی سستی اور آرام پرستی پر گہرا اثر پڑا۔ یہ دعوت آج بھی گواہی دیتی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہؐ کو دنیا میں اللہ کی حکومت کے قیام پر اور انسان کی آزادی.فکر پر کتنا گہرا یقین تھا۔

منٹگمری واٹ نے آپؐ کی سیرت کے اس پہلو پر اس طرح روشنی ڈالی ہے

‘‘حضرت محمدؐ کی سوانح حیات اور اسلام کی ابتدائی تاریخ پر جتنا غور کریں۔ اتنا ہی آپؐ کی کامیابیوں کی وسعت پر حیرانی ہوتی ہے۔ یہ آپ کی حکمت سیاست اور انتظامی صلاحیتوں کے طفیل ہے کہ انسانیت کی تاریخ کو ایک اہم باب نصیب ہوا۔
ولیم میکنیل نے حال میں دنیا کی تاریخ لکھی ہے جو یورپ اور امریکہ کے علمی حلقوں میں علمی تحقیق کے بلند معیار کی وجہ سے بےحد مقبول ہوئی ہے۔

وہ رسول اللہؐ کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘‘آپؐ سے پہلے یا بعد میں کسی بھی نبی کو کبھی اتنی جلد اور اتنی عظیم کامیابیاں حاصل نہیں ہوئیں نہ ہی کسی ایک انسان کے کارناموں سے دنیا کی تاریخ کا رخ اتنی تیز رفتاری سے اور اتنے انقلابی پیمانے پر بدلا۔ اپنے الہامی کلام، اپنی مثالی ذاتی زندگی اور انتظامی ڈھانچہ کے قیام سے (حضرت) محمدؐ نے ایک ممتاز نئے طرز زندگی کی بنیاد ڈالی۔ جس نے دو صدیوں کے مختصر عرصے میں نسل انسانی کی کثیر تعداد کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ آج بھی بنی نوع انسانی کا ساتواں حصہ ان کا اطاعت گزار اور نام لیوا ہے۔’’ اکثر مستشرقین نے رسول اللہؐ کی کامیابیوں کو تاریخی اسباب سے منسوب کرتے ہوئے آپؐ کی ذات کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ سویڈن کے ایک مستشرق ٹور آندرے نے اس نقطہ ٔنظر کے برعکس آپ کی ذاتی کامیابیوں کو تحقیق کا موضوع بنایا۔ وہ لکھتے ہیں: ‘‘نبوت محمدیؐ کے ابتدائی سالوں میں جب قبول اسلام یہودیوں کے نزدیک راستے کا پتھر تھا اور مشرکین عرب کے نزدیک محض حماقت تھی۔ جن لوگوں نے رسول اللہؐ کی دعوت پر لبیک کہا ان میں بے حد اہم اور باصلاحیت افراد بھی تھے۔

یہ لوگ اخلاقی احساس ذمہ داری اور صحت مند شعور حقیقت کے مالک تھے۔ یہ تھے چند اقتباسات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی رسول اللہؐ کی سیرت کا بے تعصبی سے مطالعہ کرتا ہے تو بے ساختہ آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب مذہب و ملت کی تقسیموں اور تفریقوں سے بلند ہو کر ساری دنیا حضرت محمدؐ کی رسالت کو کسی ایک مذہب یا علاقے سے مخصوص کرنے کی بجائے ساری انسانیت کے رسول کی حیثیت سےآپؐ کے اسوۂ.حسنہ کا مطالعہ کرے گی اور اس عظیم پیغام کی طرف متوجہ ہوگی۔ جس میں ساری انسانیت کی فلاح ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: