جماعت اسلامی اور پیارا پاکستان

جماعت اسلامی پاکستان کسی نہ کسی طرح لبرل اور سیکولر طبقوں کی مہربانی کا شکار رہتی ہے ، جیسا کہ آج کل امیر جماعت کے انتخاب کے حوالہ سے میڈیا میں موجود بہت سے پادری اور بھکشو اپنی اپنی اوقات (علم ) کے مطابق اپنے کرم فرماؤں کے دل موہ لینے اور آقاؤں کے دل میں جگہہ بنانے کے لئے ” قلم و زباں ” تیز کرتے دکھائی دے رہے ہیں.
ایک اندازے کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کم و پیش تین ہزار کے قریب سیاسی و مذھبی تنظیمیں اب تک ریکارڈ پر آ چکیں ہیں ، جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے ، نظریۂ وقت کے تحت کچھ طاقتور ” کھلاڑی ” شطرنج کھیلنے کے سے انداز میں اپنی چالیں انتہائی شاطرانہ انداز میں چلتے تاریخ کے جھروکوں میں سے ہمیں نظر آتے ہیں.بلاشبہ پاکستان ہی کے باسی ہیں ، مذھب والے خانہ میں ” اسلام ” لکھنے سے باز بھی نہیں آتے . مگر ملک کی سالمیت اور اس کے نظریے کے ساتھ دور دور کا بھی تعلق نہیں . دل پہ ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ہرگز کسی کی دل آزاری مقصود نہیں مگر حقیقت ہے کہ ان سیکولر اور لبرلز کو فاشسٹ لکھتے ہوۓ کبھی خوشی نا ہوتی اگر یہ اپنے ہی آباء کی روش پر بھلے قائم رہتے لیکن کم از کم پاکستان کی سالمیت اور اس کے استحقاق مجروح کرنے والی مہم کا حصہ تو نا بنتے ، کجا کسی کے ساتھ کھڑا ہونا یہ تو ہراول دستہ بنے نظر آتے ہیں . تو جناب ہم بھی اسلام اور پاکستان کے نظریاتی دشمنوں کے دل پر وار کرنے سے ” قصدا ” باز نہیں آ سکتے –
اصولا پرنٹ و الیکٹرانک کو چاہیے تھا کہ وہ جماعت اسلامی پاکستان کی روایات کو عوام الناس میں اجاگر کرتے، نہ کہ اس طرح سوالیہ مقابلے ، زائچے اور روایتی سنسنی پھیلانے جیسے کارہاۓ نامہ جات انجام دیتے دکھائی دیتے. سیاسی و نظریاتی مخالفت اپنی جگہہ مگر ملک کو اس نازک دوراہے پر لانے والے کون ہیں کیا یہ جانتے نہیں ؟کسی اینکر اور نام نہاد فلاسفر ( الاماشاءالله ) کو توفیق نہ ہو سکی آج تک کہ وہ میاں برادران کی لیگ ، چوہدریوں کی لیگ ، بھٹوؤں کی پارٹی اور دوسری ان گنت خود رو پارٹیاں جو مختلف اوقات میں تبدیلئی منظر کے لئے گاہے نظر آ جاتیں ہیں کو اپنے فورمز پر یہ سوال کرتے کہ کونسی جمہوریت کی بانسریاں لے کر پھرتے ہو ؟ مگر افسوس کہ ان کے کیمروں کے فوکس میں الطاف جیسے خوں آشام درندوں اور معزز مہمانوں میں آ جا کر فیصل رضا عابدی کے علاوہ کوئی دوسرا ” فٹ ” نہیں آتا، منافقت اور دورنگی کے سیاہ بادل اس قدر گہرے ہو چکے ہیں کہ بقول حسن نثار ” بد مست عوام ” کی عقل ہی مفقود ہو چکی ہے ، یہ جو ویسے ہی ”معجزوں” اور کسی ”نامعلوم حمینی” کے انتظار .
.میں زندگی گزار رہے ہیں وہ بھلا کیا حق اور ناحق کی پہچان جیسے ”کارمشکل ” کے لئے کمر کستے نظر آ سکتے ہیں

محمد بشیرالدین بٹ – (کنجاہ) گجرات

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: