2014 کے بعد کا افغانستان

تحریر : محمد وقاص خان

obama

2014 کا سال کئی حوالوں سے افغانستان کے لیے بے حد اہم ہے۔ یہ صدارتی انتخاب کا سال ہے۔ جو کہ اپریل میں ہونے والے ہیں اور جن کی تیاری سال ِ گزشتہ سے شروع ہو چُکی ہے۔ یہی سال امریکی افواج کے انخلا کا بھی ہے۔ اور اس لحاظ سے ہر چہار جانب سوچ و بچار کا عمل جاری ہے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی اور پیش بندی کے لیے گُفتگو جاری ہے۔ اگر ذرا غور کیا جائے اور پیش ِ نظر قضیہ کا جائزہ لیا جائے تو پانچ ممکنہ منظر نامے حاشیہ خیال پر نمودار ہوتے ہیں

۱۔ پہلا منظر نامہ تو یہ ہی ہے کہ موجودہ نظام برقرار رہے۔ جس کے لیے از حد ضروری ہے کہ امریکن فوج بھی خطے میں موجود رہے اور امریکہ کی مالی سر پرستی بھی برقرار رہے۔ اس صورت میں پیش آمدہ صدارتی انتخابات بھی حسن و خوبی انجام پذیر ہو جائیں گے اور ایک اور ’’ کرزئی ‘‘ منظرِ عام پر آجائے گا
۲۔ دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ امریکی فوج تو رخصت ہو جائے لیکن امریکی دلچسپی برقرار رہے اور مالی تعاون میں بھی کمی نہ آئے۔ ایسی صورت میں امریکہ کو طالبان خلا پُر کرتے نظر آرہے ہیں۔ لہذا براہ راست اُن ہی سے معاملہ کھرا کیا جائے او ر پاکستان کو بطور گارنیر درمیان میں رکھا جائے تاکہ طالبان کو کُچھ حدود و قیود کا پابند کیا جا سکے۔ یہ منظر اگرچہ امریکہ اور پاکستان کے لحاظ سے خوش کُن ہے لیکن طالبان اس میں کس حد تک اپنے موقف میں لچک دیکھا سکیں گے ابھی کہنا قبل از وقت ہے۔
۳۔ تیسرا منظر نامہ یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کو اپنے حال پر چھوڑ کر چلا جائے اور اس خطے سے غیر مُتعلق ہو جائے۔اس صورت میں افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوگی اور کسی ایک گروپ کے لیے بھی صورت حال پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔
۴۔ چوتھا منظر نامہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل اور طالبان سے جنگ کے مسئلہ کو حل کرکے افغان طالبان کے سر پر ہاتھ رکھے ۔ اس صورتِ حال میں طالبان افغانستان کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔ البتہ شمال میں اُنھیں سخت مزاحمت در پیش ہو گی۔ گویا نوے کی دہائی کی صورتحال لوٹ آئے گی۔
۵۔ پانچواں منظر نامہ ہے کہ امریکہ ایران اور ہندوستان کے ساتھ مل کر طالبان اور پاکستان دونوں کو منظر سے غائب کرنے کی پلاننگ کرے اور افغانستان
میں ایک پاکستان مُخالف حکومت قائم کردے۔ اس صورت میں بھی خطے میں کشیدگی بر قرار رہے گیاور کسی بھی وقت یہ خطہ ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آنے کے امکانات
بڑھ جائیں گے۔دوسری طرف اس وقت طالبان اور حزبِ اسلامی نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے اور بُہت کامیابی کیساتھ امریکہ کے لیے اس علاقے کو جہنم زار بنا دیا ہے۔ لیکن ان دونوں قوتوں کے درمیان نظریاتی اور محملی اختلافات کی وسیع و عر یض خلیج حائل ہے۔ جس کے پُر ہونے کے بظاہر امکانات بھی نظر نہیں آ رہے البتہ ان کے موقوف میں اس حد تک یکسانیت ہے کہ یہ امریکی افواج کی موجودگی میں کسی بھی قسم کے نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ گویا موجودہ نظام کو گرا کر اس کی جگہ اپنا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے مقابلے میں اصلاح پسندوں کا ایک اور گروہ ہے ( یہ دراصل ان ہی دونوں گروہوں سے ماضی میں متعلق رہے ہیں) جو اس نظام میں رہتے ہوئے اور اسے برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو رخصت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی دستور ، یہی قانون اور یہ ہی نظام ان کے لیے قابل قبول ہے۔ یہ وہ گروہ جنگ سے تنگ آچکا ہے اور کسی بھی صورت میں اسے دوبارہ شروع ہوتے دیکھنا چاہتا۔ افغان نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ انہی اصلاح پسندوں کی طرف تیزی سے متوجہ ہو رہا ہے۔اور ان ہی کے طریقہ کار کو پسند بھی کررہا ہے اور اپنے مستقبل کے لیے مفید بھی قرار دے رہا ہے۔ یہ ہی وہ طبقہ ہے جو پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ پاکستان اور ISI طالبان کے ذریعے ایک بار پھر افغانستان کو جنگ کی بھینٹ چڑھانا چاہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل افغان میڈیا میں پاکستان اور طالبان کے خلاف زیادہ زہر اُگلا جا رہا ہے جبکہ امریکہ ، ایران یا ہندوستان کے بارے مثبت رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔
اب یہ پاکستان کی پالیسی ساز اداروں کا کام ہے کہ کس طرح مُستقبل کے افغانستان میں اپنے لیے دوستی اور تعاون کے امکانا ت پیدا کرے اور خطے
کے امن میں اپناکردار ادا کرئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: