سستا ڈالر—غریب عوام

میں ان تمام ذہنی غلامان پاکستان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جو بغلیں بجارہے ہیں، شاید وه کچھ سمجھ جائیں-
کچھ دن قبل ڈالر کی قدر بڑھنا شروع ہوئی، بڑھتے بڑھتے 100 کا ہندسہ کراس کرگئی، پھر گھٹنا شروع ہوئی اور گرتے گرتے دوبارہ سو کا ہندسہ کراس کرگئی اور 100 پر پہنچتے ہی یہ ذہنی غلام بچے اور ناکام (ن) لیگ کی طرف سے ملنے والے لیب ٹاپ سے بغلیں بجا بجا کر اسحاق ڈالر کی کارکردگی کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع ہوگئے- اب یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں کوئی بھی شیر آیا شیر آیا کے نعرے لگانے والا بچہ مجھ سے سوال کرئے گا- ارے جب ہم سے ڈالر سو سے اوپر چلا جاتا ہے تم لوگ تنقید شروع کردیتے ہیں اور جب ہم محنت کرکے بڑی مشکل سے ڈالر کو کان سے پکڑ کر 100 سے نیچے لاتے ہیں تو تم لوگ پھر بھی جان نہیں چھوڑتے- سو حکومت کی معاشی کارکردگی کی واه واه کرنے والے بچوں کو سوال کرنے سے پہلے ہی جواب دے دیتا ہوں- جب آپ کے انکل اسحاق ڈالر صاحب ڈالر 100 سے نیچے لے کر جاتے ہیں تو آپ کے بڑے بڑے سرمایہ دار، جاگیردار اور وڈیرے لاکھوں، کروڑں اور اربوں روپے کے ڈالر خریدتے ہیں- (ان کروڑں اربوں روپے کے ڈالر خریدے سے ان پیسے والوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے یہ آگے چل کر بتاتا ہوں) اب ڈالر سستا ہے تو باہر سے آنے والی چیز بھی آپ کو اب سستی ملنی چاہئے چونکہ بیرون ممالک سے خریدے جانے والے ساز و سامان کو ڈالر میں خریدا جاتا ہے جیسے پیٹرول وغیرہ- ہماری ملک کا المیہ یہ ہے ڈالر کے سستا ہونے سے کسی بھی اس چیز کی قیمت کم نہیں کی جاتی، جس کی قیمت ڈالر کے مہنگا ہونے سے بڑھائی گئی تھی- سو اس طرح غریب اور عام آدمی کو ڈالر کے سستا ہونے یا100‎ ‎سے نیچے آنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا-
اب آتا ہوں تصویر کے دوسرے رخ کی طرف پھر کچھ عرصے بعد انکل اسحاق ڈالر کی گرفت سے شرارتی ڈالر آہستہ آہستہ ہوشیاری سے نکلنا شروع ہوجاتا ہے- پھر وه لوگ جنہوں نے کچھ عرصہ قبل جب ڈالر سستا تھا بڑی رقم لگا کر ڈالر خریدے تھے وه اب ڈالر فروخت کرتا شروع کردے گے-
پھر سارے سرمایہ دار ہر چیز کے نرخ بھی بڑھا دیں گئے اور رونا کیا روئیں گئے کہ جی ڈالر مہنگا ہوگیا ہے اس لئے تھوڑا ریٹ بڑھایا ہے- اب ہر چیز پر تھوڑا تھوڑا اضافہ ہوتا جائے گا اور مہنگائی کی پرواز بلند ہوجائے گئی-

اب شاید ناکام لیگ کے بچے بات سمجھنے کے بعد سوال کر ہی بیٹھیں کہ جی پھر عام آدمی کو ڈالر کے نیچے آنے سے کب فائدہ ہوگا اور کب آپ لوگ انکل اسحاق ڈالر کی تعریف کریں گے؟؟؟ ہاں تو یہ بھی بڑا معنی خیز سوال ہے- مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ روپے کی قیمت مستحکم ہوتی ہے یا جی ڈی پی گروتھ ڈبل یا ٹرپل ہوجاتی ہے- میں تو اس دن حکومتی معاشی پالیسیوں کی تعریف کروں گا جب نواز شریف صاحب اور اسحاق ڈار صاحب کے صاحبزادے پاکستان کی معیشت سے متاثر ہوکر اپنا اربوں ڈالر کا بزنس پاکستان شفٹ کردیں گے- جب تک ایسا نہیں ہوتا تو سمجھ جائیں کہ قوم کو تھوک ہی لگ رہا ہے۔

%d bloggers like this: