تحریک اسلامی کا تکوینی دھارا

Jamaat Islamiتحریر : سید فاروق لطیف

محترم سراج الحق کا انتخاب-تحریک اسلامی کا تکوینی دھارا ہر طرف رنج و الم ہے اللہ کے نبی محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں ایسے میں مسند خلافت منشا نبوی کے عین مطابق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوتی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدائی کا غم ہی ماند نہیں ہو ا کے دنیا بے بہا فتنے سر اٹھانے لگے۔ لشکر اسامہ کو روانہ کرنا ہے ،جھوٹے مدعیان نبوت کی سرکوبی کرنی ہے ،منکرین زکوۃ کے شافی علاج کی ضرورت ہے اور مرکز کو بھی خالی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے کبار صحابہ بھی منکرین زکوۃ کی سرزنش اور لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے التوا کی تجویز دے رہے ہیں ۔لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وقت کے تقاضوں سے آشنا ہیں اللہ پہ توکل کی بنا پہ بیک وقت ،مختلف محاذ کھول لیتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بظاہر نامقبول لیکن صائب فیصلوں نے اسلام کی کشتی کو منجدھار سے بخیر وعافیت نکال لیا۔ اب میدان ہموار ہو چکا کھل کھیلنے کا وقت آگیا تو خلیفہ دوئم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فتوحات کے انبار لگا دیے اسلام کی حکومت 22 لاکھ مربع میل تک جاپہنچی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے تکان دعوت وجہاد اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انہی بنیادوں پہ قیام کرکے بے لاگ فیصلوں نے ہی وہ ہموار میدان فراہم کیا جس پہ سرپٹ دوڑا جاسکے۔ یہی وہ مرحلہ وار تکوینی عمل ہے جس نے اسلام کی حکومت کی بنیادیں شرق وغرب تک پھیلا دیں۔ اعلائے کلمتہ اللہ کے لیے اٹھنے والی تحریک کا تکوینی دھارا بھی لازما انہی خطوط پہ استوار ہونا چاہیے محترم سراج الحق کا بطور امیر جماعت اسلامی انتخاب کی خبر دیکھی تو دل میں آیا یہ تو ہونا ہی تھا تحریک اسلامی کی فطری تکوین اب اسی امر کی متقاضی تھی۔

سید مودودیؒ اور میاں طفیل محمدؒ کی امارت نے نظریاتی اور فکری بنیادوںپہ جماعت کو اس قدر مظبوط بنادیا کہ زمانے کی شکست وریخت بھی اس پہ گہرے نقوش نہیں چھوڑ پائی اور انہی بنیادوں پہ جناب قاضی حسین احمد ؒکے 22 سالہ دور امارت میں جماعت نے بشمول عوامی مقبولیت بہت سے سی منزلیں اور سنگ میل طے کیے۔ان 22 سالوں میں جہاں بہت سے سنگ میل طے ہوئے وہاں بدلتے ہوئے زمانے نے تحریک اسلامی کے سامنے کئی اور محاذ کھول دیے۔ عزم وجرات اور تقویٰ واستقامت کی چلتی پھرتی تصویر سید منور حسن نے اپنے مختصر دور امارت میں بہت سے محاذ سر کیے یہاں تک کہ یہ بھی بتلا دیا کہ اگر حق بات پہ استقامت دکھائی جائے تو ملک کے طاقتور ترین ادارے تک سے نگاہیں ملائی جا سکتی ہیں ۔ سید صاحب نے میدان نسبتا ہموار کردیا ابتحریک اسلامی ایک تازہ دم شہسوار کی امامت ہی کی متقاضی تھی جو اللہ نے تحریک اسلامی کو اسکے ارکان کی اصابت رائے کے زریعے سے عطا کر دی ہے۔جو لوگ یہ کہ رہے ہیں ہینن کہ سید صاحب ہار گئے وہ تحریک کے فطری تکوینی عمل سے آشنا نہیں ہیں۔ عزیزو ! اب تو فتوحات ہمارا راستہ دیکھ رہی ہیں کھل کھیلنے کا وقت آگیا ہے محترم سراج الحق کا انتخاب تمام امت کے کیے صبح نو کی نوید ہے۔ تیز گام رہیے اور برق رفتا ر بنیے کیونکہ نئے سپہ سالار کے ساتھ عالمی تحریک اسلامی کو چشم زدن میں بہت سی منزلیں طے کرنی ہیں۔امارت کی تبدیلی کسی کی ہار جیت نہیں بلکہ تحریک اسلامی کے فطری تکوینی عمل کا تسلسل ہے کیونکہ جماعت پہ اللہ کا ہاتھ ہے۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: