نوحہ بلوچستان

سوچ رہا ہوں کیا لکھوں
اس بڑے افسر کے دفتر کا حال لکھوں جو بلوچستان کے مسائل سے نابلد، سوچ رہا تھا تو صرف یہ کہ کون سی این جی او اس کو کس ملک کا ٹوور کروا سکتی ہے
یا اس ہسپتال کا حال لکھوں، جہاں ڈاکٹر مجھے فخریہ بتا رھی تھی کہ اس ھسپتال کے برآمدے میں بھی بچوں کی ڈیلیوری ہو جاتی ہے
اس آپریشن تھیٹر کا قصہ لکھوں جہاں بجلی چلی جانے اور جنریٹر نہ ہونے کی وجہ سے موبائل ٹارچ میں آپریشن مکمل ہوا
یا اس لیبارٹری کا احوال بیان کروں جہاں مشینیں تو موجود ہیں مگر عملہ ان کے استعمال سے یکسر نا واقف
ایک این جی او نے جب مجھ سے رابطہ کیا کہ انھوں نے بلوچستان کے اندر دو ہسپتالوں کو کچھ مشینیں دینے کا فیصلہ کیا ہے اور میں اس میں ان کی مدد کروں تو اس وقت میں بلوچستان اور کوئٹہ میں صحت کی سہولیات کے فقدان سے ناواقف تھا- اندازہ تو تھا کہ وہاں سہولیات کم ھوں گی، مگر یہ پتا نہیں تھا کہ ان لوگوں نے تو بہت ساری سہولتوں کے نام بھی شائد نہیں سنیں ہوں گے
اس پراجیکٹ کے دوران تین دفعہ کوئٹہ اور مضافات کا دورہ کیا اور این جی اوز کے طریقہ کار کو دیکھا- اور میں اس بات کی گواھی دے سکتا ھوں کے سوائے چند این جی اوز کے، جوکہ دین، وطن اور انسانیت کی خدمت کے لئے کام کر رھی ھیں، ایک بہت بڑی اکثریت ایسی ہے جو کہ صرف لیپا پوتی کر رہی ہے یا اپنے مخصوص مفادات کے لئے کام کر رہی ہیں- قابل شرم بات یہ ھے کہ حکومت کے متعلقہ افسران یا تو ان اداروں کے ساتھ مل کر کمیشن اور ٹی اے ڈی اے کی بحثوں میں الجھے ہوتے ہیں، یا ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ برسر زمین، اصل صورتحال کیا ہے
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کہ زیادہ تر ہسپتالوں میں مشینری کا برا حال ہے- بجلی اکثر غائب ہوتی ہے- ایک لیبر روم میں اگر ضروری آلات تو دور کی بات، آکسیجن، اور ہیٹر ہی نہ ھو، تو کوئٹہ جیسے شہر کی سردی میں آپ اندازہ لگا لیں کہ نو مولود بچے پہ کیا گزرے گی-
جہاں این جی اوز نے مشینیں پہنچا دی ہیں، وہاں اگلا مسئلہ پہاڑ کی طرح سر اٹھائے کھڑا ہے، کہ اب ان مشینوں کو استعمال کیسے کیا جائے؟ اور اس بات کی کیا گارنٹی ھو کہ یہ مشینیں کاغذوں میں خراب ہو کر، ڈاکٹر کہ پرایئویٹ کلینک نہیں پہنچ جائے گی ؟
جی ہاں، پرائیوٹ پریکٹس، کوئٹہ میں سب سے مہنگی ہے، وجہ اس کی وہ افغانی ہیں جو کہ قندھار سے کوئٹہ علاج کہ لئے آتے ہیں اور 6 ،6 ماہ کی ادویات اکٹھے لے جاتے ہیں
مقامی لوگ یا تو کراچی سے علاج کرواتے ہیں یا پھر اللہ توکل سرکاری اداروں کہ رحم و کرم پر رہتے ہیں
بلوچستان میں صحت کہ معاملے پہ مجرمانہ غفلت برتی جا رھی ھے، بہت کچھ میں اس لئے نہہں لکھ پا رھا کہ مجھے الفاظ نہں مل رہے
کراچی اور اسلام آباد کہ مکین یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ سرما کی راتوں میں ٹھنڈے وارڈ میں مریض کا کیا حشر ہوتا ہے—
اس ساری صورتحال میں روشنی کی کرن وہ لوگ ھیں جو ہوا کے مخالف اپنا چراغ جلا رہے ہیں، اور وسائل نہ ہونے کہ باوجود لوگوں کہ درد کا درماں کر رہے ہیں
رہ گئی حکومت، تو ایک میٹرو بس پہ جتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے، اس سے پورے بلوچستان میں صحت کی سہولیات فراھم کی جا سکتی ہیں۔

مگر یہ سب کرے کون  اور بلوچستان کی یہ سسکتی صدا کون سنے کہ میں بھی پاکستان ہوں ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: