کچھ یادیں کچھ باتیں

سید محمد عبد القادر

۔۔!! نصراللہ بھائی کیا باتیں کیا یادیں شئیر کریں
بہت خوب زمانہ جوجمیعت میں اکٹھے گزرا،وہ کراچی کے ناظم رہے میں مرکز جمیعت میں امور ارکان کا ذمہ دار۔۔۔۔۔آپس میں رابطہ استوار رہا۔۔۔۔۔ناظم اعلیٰ کا پیغام بنام نصر اللہ شجیع کراچی۔۔۔اور کبھی شوریٰ کا پیغام بنام نصراللہ شجیع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اور ایسے کئی پیغامات جو ہر وقت دل و روح کے تعلق کو تازہ کرتے تھے۔انکا تربیت گاہوں میں کراچی والوں کے ساتھ جذبے اور ولولے کے ساتھ آنا اور بے تکلفانہ لاہور میں وقت گزارنا۔۔مرکز جمیعت اچھرہ لاہور میں تہرنا ۔۔۔۔میزبانی کا شرف بخشنا اور تربیت گاہوں میں شرکت کرنا اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے انکی ایک خصوصیت کہ مخاطب کے اندر اتر جانا نصر اللہ شجیع بھائی کا وطیرہ تھا۔

کراچی میں ایم۔کیو۔ایم کی زیادتیوں کے تذکرے کے جواب میں نصرطاللہ شجیع نے کہنا”اٹھو بھائیو اللہ ہمارے ساتھ ہے،ہمیں کسی کا خوف نہیں ہے ” اور یہ آیت پڑھنا “ولاتحنو ولا تحزنو انتم الاعلون ان کنتم مومنین” قلب کو سکون بخشتی۔لاہو آتے تو کوشش کرتے کم سے کم مقامی ساتھیوں پر بوجھ ہوں اپنے کام حتی الامکان خود کرتے،سب کام اپنے ہاتھوں سے انجام دینا اور کسی کو شکایت کا موقع دئیے بغیر واپس کراچی پلٹ جانا ۔یہاں کے ساتھیوں کے لئے ایک انوکھا پیغام چھوڑ دینا اور جب بھی ملنا بھینچ کے پرجوش گلے لگانا اور سامنے کا فرد دیر تک انکے وجود کے ساتھ منسلک رہتا

جمیعت سے فراغت کے بعد جماعت اسلامی کو جوائن کیا تو ایک قدم بھی آرام نہ کیا ہمہ وقت تحریکی مستعدی اورجانفشانی سے کام کیا۔مخالفوں کے لئے دہشت کی علامت تھے۔سنا ہے کہ انکے نام سے مخالفین کانپتے تھے۔تسنیم عالم منظر شہید سے قلبی تعلق رکھتے تھے خواہش کیا کرتے تھے کہ کیا خوب اللہ کے حضور پیش ہوئے۔۔۔خود بھی انکے نقش قدم پر چل کر سرخرو ہوگئے۔۔۔۔۔تدریس کا مسنون پیشہ اپنایا،

جماعت اسلامی کی قیادت میں وہ ایک باعمل مخلص جفا کش رہنما تھے ۔۔جماعت کو ایسے رہنماؤں ہی کی ضرورت تھی۔۔۔وہ ایک شمع تھے جو اپنا اجالا خود پھیلا رہی تھی ۔۔۔۔ہمیں ان سے بہت امیدیں وابستہ تھیں مگر اللہ کی رضا کچھ اور تھی ۔۔۔۔یہ جملہ ایک روایتی جملہ ہے لیکن نصر اللہ بھائی کو جو زرا سا بھی جانتا ہے وہ اس جملے کی گہرائی محسوس کر سکتا ہے کہ واقعی نصر اللہ بھائی کا اس وقت دنیا فانی سے کوچ کر جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے

اللہ تعالیٰ انکے لواحقین کو صبر عطا فرمائے انشا اللہ جماعت ہر ممکن انکے اہل خانہ کی کفیل بنے گی اگرچہ نصر اللہ بھائی کا کوئی متبادل نہ دے سکے گی مگر انکو تسلی رہے کہ یہ سانحہ نصر اللہ بھائی کے سب دوستوں کے لئے بھی ناقابل برداشت ہے اللہ تعالی نصر اللہ بھائی کو بلند درجات عطا فرمائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: