تصور کی آنکھ سے دیکھیے

 تحریر: آسما بتول

“رمضان کی آمد آمد ہے،گرمی ایسی کہ چرند پرند اور انسان سبھی بےحال ہیں ایسے میں جیٹ طیاروں کی مسلسل پروازیں،اور شدید بمباری ہوتی ہے بچے خوف کے مارے راتوں کو سو نہیں سکتے بیمار،آپکے بزرگ،عورتیں،بچے جن کے لیے چلنا مشکل ہے پریشانی کا شکار ہیں،کئ بیمار ہیں جن کو ڈاکٹرز کی فوری ضرورت ہے اور ایسے میں آپ کو گھر چھوڑنے کا کہا جاتا ہے…منزل کیا ہے آپ کو نہیں معلوم… سامان تو دور کی بات گھر کے افراد ہی کتنے ساتھ چل سکیں گے نہ جانے سواری ملے نہ ملے.. آخر سب نے ہمت باندھ ہی لی تو میرا گھر جو بڑی محبت اور سالوں کی محنت سے بنایا تھا،میرا سامان جو مجھے ہر رشتے سے عزیز تھا….کپڑوں سے بھری الماریاں..میچنگ جوتے….ایک سے ایک فرنیچر…جو میرے ماں،باپ نے رخصت ہوتے وقت دیا تھا… میرا کچن میرے برتن…. قیامت سے پہلے ہی میری ‘میں’ مار دی گئ….وہ سامانِ شوکت جو بڑی محبت اور عرق ریزی سے پیسہ پیسہ جوڑ کر بنایا آج حکمِ حاکم ہے کہ سب چھوڑدو… اگر زندہ واپسی مقدر ہوئ تو دیکھنا وہ بھی اس صورت میں اگر گھر بمباری اور جنگ کے ہاتھوں ریخت نہ ہوگیا ہو…. اف کیا چھوڑوں اور کیا رکھوں کچھ سمجھ نہیں آرھا….. بہر حال دربدری مقدر ٹھہری…. گھر سے نکلے اور کچھ ہی دیر میں بچے جن کی ایک آہ پر میں تڑپ جاتی تھی اور دنیا جہان کی نعمتیں ان کے آگے ڈھیر کر دیتی تھی… آج لہو رو رہے ہیں…ماں! اب اور نہیں چلا جاتا… ماں پانی دو، پیاس لگی ہے…. ماں!روٹی کا ایک لقمہ چاہیے… اور ماں خود آج بیماری کے عالم میں قدم من من بھر کے ہو رہے ہیں دل رو رہا ہے….ایک بوتل میں پانی ہے مگر گرم…اور اتنے افراد کے لیے ناکافی…فرج کا ٹھنڈا پانی پینے والوں کو آج ٹھنڈے پانی کی قدر کا اندازہ ہوا… وہ کھانا جو گھر سے لے کر چلے تھے گرمی سے اس نے بدبو چھوڑ دی… بھرے ہوۓ فرج کے لوازمات آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں…جورمضان کے استقبال کے لیےفرج بھرا تھا… کباب،رول،چنے،پھلکیاں، کھجوریں، چٹنیاں،شربت،گوشت، چکن نہ جانے کیا کیا فریزرمیں بھر کر رکھا تھا… زندگی میں کبھی مانگنے کی نوبت نہیں آئ…آج ہر چہرے کو تکتی ہوں شاید یہ ہی کچھ مدد کرسکے ایک جگہ امداد کےلیےلائنوں میں لگے…پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا… میرا بیٹا جو بھوک کی شدت سے بے حال لائن میں لگا تھا جسے میں نے کبھی پھول سے بھی نہیں مارا تھا پولیس کے ڈنڈے کھاآیا….. چلو خوراک نہیں مار سہی کچھ تو کھانے کو ملا…… یہ کیا؟؟؟میرے چہرے پر گرم گرم کچھ گرا،یہ میرے آنسو ہیں…نہیں بلکہ یہ تو میرا لہو ہے جو آج آنکھوں سے بہہ رہا ہے.. میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائ “اے اللہ میں اپنی بےبسی،بے توقیری اور بےدری کا شکوہ تجھ سے ہی کرتی ہوں” مظلوم کی بددعا سے عرش ہل جاتا ہے…کیا معلوم رمضان کے اس رحمتوں والے مہینے میں کتنے مظلوموں کی آہیں عرش ہلائیں گی… اےسی میں بیٹھے بہترین کھانوں سے لطف اندوز ہوتے اور ہماری آوازوں کو اپنے ڈراموں سےدباتے اس نظام،معاشرےاور حکمرانوں سے نفرت کا ایک ریلا آتا ہے اور میں اس میں بہہ جاتی ہوں….نفرت اور انتقام مجھے اندھا کردیتا ہے….” اے اہلِ وطن کچھ تو سوچو…….!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: