“روز و شب مسجد و محراب میں جھکنے والو”

تحریر : نوشابہ سکندر
أج مسلمانوں کو اتنی پستیوں اور زوال میں دیکھ کر اپنے اسلاف بہت یاد آ رہے ہیں آج ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسلمانوں کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو جیسے اس کرہ ارض پر بہت ہی بے یارو مددگار مخلوق ہو اور مسلمان کا خون تو پانی سے بھی سستا ہو گیا ہے جس کا دل کرتا ہے بے دریغ بہاتا جا رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ؟؟؟پوری دنیا میں مسلمان تباہ و برباد ہو رہے ہیں ہر طرف بےگناہ مسلمانوں کا قتل و خون کیا جا رہا ہے؟
ہر طرف سے بچوں عورتوں کی چیخ و پکار اور خون میں لت پت لاشیں فلسطین کے بچوں کی چیخ و پکار اور ان کی خون ألود بکھری ہوئی لاشیں دیکھ دیکھ کر دل خون کے أنسو روتا ہے
اتنا انسانیت سوز سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟اتنا ظلم کیوں ؟کیا قصور ہے ان معصوموں کا؟کیا قصور ہے ان کلیوں کا جو بن کھلے مرجھا رہی ہیں ؟ان کا قصور صرف مسلمان ہونا ہی ٹھہرا نا؎
اتنی بے بسی کیوں ؟کیوں کوئی اسرائیل سےکوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ وہ اتنا ظلم کیوں کر رہا ہے؟؟
آج کہان سے ڈھونڈ کر لاؤں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں صلاح الدین ایوبیؒ کو جو ان بچوں اور خواتین کا ظلم سے نجات دلا سکے اور اسرائیل کا منہ توڑ جواب دے سکے کہ مسلمان کا خون اتنا سستا نہیں ہے بیت المقدس کی سرزمین اتنی معمولی نہیں ہے؟ابھی مسلمان اتنے کمزور و بےبس نہیں ہوئےکہ جس کا دل چاہے ان پر چڑھائی کر دوڑے ؟؟؟؟؟؟؟
مگر کیا کروں جدھر نگاہین جاتی ہیں ناکام پلٹ أتی ہیں ہر جانب سخت مایوسی ہے ہمارے تمام بے غیرت بے حس مسلمان حکمران طاقت ودولت کے نشے میں مست ہاتھیوں کی طرح اپنے اپنے أہنی دیواروں کے محلوں میں قید ہیں دنیا کے تمام حکمران صمْ بکمْ عمْ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔
ان کی سماعتون سے اگر کوئی بات ٹکراتی ہے تو وہ ان کی یہود و نصاری سے ڈیل کی؎ان کے مفادات کی گفتگو کے سوا ان کی سماعتیں کام نہیں کرتیں ؎آج کے بے حس اور بے ضمیر حکمرانوں کے درباروں کے باہر کوئی زنجیر بھی نہیں ہے جس کوئی فریادی ہلا کر اپنا دکھ سنا سکے؎مسلم دنیا کے حکمران مکمل أرام و سکون کی زندگیاں گزار رہے ہیں
نہ جانے ہمارے یہ بے ضمیر حکمران دنیا کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں ؟انھیں أخرت کی جوابدہی کا کوئی احساس نہیں ہےکل یہ روز محشر اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟؟؟؟؟
ان کے اندر عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا جوابدہی کا احساس نہیں ہے”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کا حساب عمر رضی اللہ عنہ سے لیا جائے گا”
جب نگاہ مسلمانوں کی بد اعمالیوں پر پڑتی ہے تو بے دریغ زبان سے نکلتا ہے کہ ہمارے حکمران ہماری بد اعمالیوں کی سزا ہیں

ہم بحیثیت قوم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمیں کسی بھی صورتِ حال سے کوئی فرق نہیں پڑتا ساری دنیا فلسطین کے لیے صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے اور ہماری سوچ ہے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے؟
اگر آپ یورپ میں پلنے والے مسلمانوں کو فلسطین کے لیے احتجاج کرتے ہوئے دیکھیں جن کے لباس سے وہ آپکو شائد بہت اچھے مسلمان نہ لگیں مگر ان کے دل کی صدائیں اور أنکھوں میں نمی دیکھ کر أپ کو احساسِ ندامت ضرور ہو گا کہ ان کا ایمان ہم سے بہتر ہے کیونکہ نیکی کا سب سے نچلا درجہ برائی کو دل میں برا جاننا ہے اور ہمارے دل میں شائد اس کی بھی گنجائش کم رہ گئ ہے
آج مسلمانوں کو تمام گروہ بندیوں،فرقوں ،اور اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدوں سے باہر نکلنا ہو گا ہمیں ایک ہونا پڑے گاِ, ہمارا اللہ ایک ہے رسول ﷺ ایک ہے قبلہ ایک ہے ہم سب اللہ کی نظر میں برابر ہیں اللہ نے ہمیں بھائی بھائی بنایا ہے
اللہ کا فرمان ہے
“اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو”
خدارا ۔۔۔ نبی ﷺ کے امتیوں  ۔۔۔ اللہ کے پیغام کو سمجھو، دین کو سمجھنے کی کوشش کرو، اپنے سوئے ہوئے
ضمیروں کو جگاؤ؎یہود و نصاری کی چالوں کو سمجھو اہ ہمیں تقسیم کروا کر أپس میں لڑوا کر مروانا چاہتے ہیں ؎أج ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے؎ہمارے اسلاف کے پاس ایٹم بم نہیں تھا تعداد و وسائل بھی زیادہ نہین تھےایک ہی جزبہ تھا اوروہ  تھا ایمان کا جزبہ، ان کا تعلق قران و سنت سے بہت مضبوط تھا انھوں نے دنیا پر حکومتیں کیں ؎اللہ نے ان کو عزتیں بخشیں ؎مگر ہم جب تک ان کے نقش قدم پر نہیں چلیں گے قران و سنت ﷺکو نہیں اپنائیں گے متحد نہیں ہوں گے ایکدوسرے کے دکھ کو اپنا نہیں سمجھیں گے دنیا میں تباہی وبربادی ہمارا مقدر ہو گی کیوں کہ اللہ کے باغیوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی؎اپنے سروں کو اللہ کے سامنے جھکانا اور دشمنان اسلام کے سامنے اٹھانا سیکھو میرے نبیﷺ کی غیور امتییوں !!!!!
روز و شب مسجد و محراب میں جھکنے والو!!!!
سر وہ سر ہے جو سرِدار اٹھایا جائے

ٹیگز:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: