“اصل انقلابی کون ؟؟”

تحریر : عطاءالله حسینی

پاکستان میں جب ہر آنے والا دن پچھلے والے دن سے برا آتا هے تو تبدیلی کی خواہش دل میں جنم لیتی هے اسی خواہش کو همارے مفاد پرست سیاست دان جن کی وجہ سے هی ایسے دن آتے هیں کیش کراتے هیں جن کی باری اب تک نہیں آئی وه اپنی باری کے آنے کو انقلاب کا نام دیتے ہیں. مفروضات میں اپنے چہرے کی تبدیلی کے بجائے عوام کو اس کی تمام بنیادی ضروریات اس کی دہلیز پر پہنچانے کا وعدہ کیا جاتا هے پہلی دفعہ یہ دهوکا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں سے کهایا تها اور مومن هوتے تو دوسری دفعہ واقعی ایسا دھوکا نہ کھاتے . بہرحال بات هو رہی تهی انقلاب کی جو اب تک پاکستان میں آیا هی نہیں مگر ہر شخص اپنے سیاسی قائد کی اندهی تقلید میں خود بهی انقلابی هوا جاتا هے.پر وه یہ نہیں سوچتا کہ اس سے پہلے یہی کام اس کے آباو اجداد کر چکے ہیں، کوئی روٹی کپڑا اور مکان دے رہا تها کوئی ایشین ٹائیگر بنا رہا تها کوئی کراچی کے پرامن ماحول کے دور میں کوٹہ سسٹم ختم کروا کے سب کو روزگار دلوا رہا تها پر آخر میں یہ سب گلے کی هڈی ثابت هوئے، بهٹو کا انقلاب آج تک جاری هے جس سے اس کے داماد نے اربوں گالیاں تو سنی پر سوئس بنک کے دس نئی اور برانچز کهولوا بهی دی هوں گی .الطاف کا انقلاب مہاجر پٹھان پهر سندهی مہاجر پهر مہاجر مہاجر پهر ڈهیر ساری وزارتوں کے ساتھ شہر کراچی میں وه تبدیلی لایا کہ روشنیوں کے شہر کو ایک نیا نام بهی ملا بوری بند لاش کا ۔۔۔۔ جب کہ بدنام بجلی سپلائی والے هوتے هوں گے.اور ایشین ٹائیگر والے چونکہ آج کل اقتدار میں ہیں تو ان کے لانے والے یا تو ناراض ہیں یا پهر ان کی نظر کے اس انقلاب کو بچانے میں سرگرم.اب آخر انقلابی کون هے انقلاب هے کیا.مجهے یہ بات نبی پاکﷺ کی ایک حدیث سے سمجھ آئی کہ “مومن وہ هے جس کا آج گزرے هوئے دن سے بہتر هو” یعنی ہر دن تبدیلی کونسی تبدیلی کہ آج پیدل تو کل موٹر سائیکل آج موٹر سائیکل تو کل کار یا آج ایک وقت کا نمازی تو کل پانچوں وقت کا.آج هونے والے گناہ پر ایسی معافی کہ کل پهر وہ دوبارہ نہ هونے پائے.آج کسی بهی ذرائع یا دهوکا یا هلکا پهلکا جهوٹ قسمیں کها کر مال بیچنے کا چهوڑ کر رزق حلال کمانے پر آجانا.میری نظر میں تو یہی انقلاب هے .اور یہ انقلاب صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ آپ کو حقیقی معنی میں انقلابی بنا دیتا هے اور اصل انقلابی وہ هے جو کسی کی آخرت بنا دے ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ تباہ هوا وہ شخص جو کسی کی دنیا بنانے کے خاطر اپنی آخرت تباه کر لے.یعنی آپ کے کسی کام بهی آئے ۔۔۔ پر غیر اسلامی طریقے سے تو الٹا اپنے لئے جهنم کے درازے کهولنے هیں.اس سے صاف ظاہر هے کہ اصل انقلابی کیسا هو.

.اپنی اور کسی اور اپنے دوست احباب بچوں وغیرہ وغیرہ کی دنیا بهی پهر اسلامی نظام کے قیام سے ممکن بنائی جائے بلکہ یہ تو ایمان هونا چاهیے کہ کوئی بهی نظام سب کچھ نهیں دے سکتا سوائے اسکے جس نے انسان کو بنایا هے اور وہی بہتر جانتا هے کہ دنیا اور آخرت کی حسنات کس نظام میں هے.بے شک اسلامی انقلاب کو برپا کرنا ہی مسلمان کا کام هے اور اس کو برپا کرنے کے لئے اپنے آپ کو اس کا اہل بنانا .اور اس انقلاب کی ضرورت صرف پاکستان کو نہیں پوری دنیا کو هے کیونکہ جب کسی دوسرے نظام سے پاکستان میں خوشحالی نہیں آ سکتی تو دنیا کے کسی اور ملک میں کیسے هو سکتی هے اگر هم اپنے ملک سے اس کی ابتداء کرے تو ممکن هے هم اس دنیا کے امام بهی بن جائیں کیونکہ دنیا اسی کی پیروی کرے گی جہاں سے نور پهیلے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: