“نیا پاکستان”

تحریر: نوشابہ سکندر

یا اللہ ہمارے ملک پہ رحم فرما نہ جانے ہم کیسی تبدیلی کی تلاش میں نکل پڑے ہیں جس کا کوئی منزل ہی نہیں نظر أ رہی ہے أج ہم کرپشن اور دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں لیکن کل شاید ایمانداری کے ساتھ کردار اور اخلاق نامی کوئی چیز ہمیں دیکھنے کو نہ ملے تین منٹ کی بمشکل گفتگو کے بعد اگلے کچھ منٹ جب تک عوام کو بھنگڑا گانوں پہ نچایا نہ جائے بات مکمل نہیں ہوتی مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ڈی جے اپنا مییوزیکل پروگرام چلا رہا ہو مجے عمران کی باتوں اور مطالبات سے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر انداز انتہائی غلط ہے کیا اسٹیج پہ کھڑے یہ لیڈرز اپنی بیٹیوں اور بہنٰوں کو ایسے سرِعام غیر محرموں کے ساتھ ناچنے کی اجازت دے سکتے ہیں پھر دوسری بات تنقید برائے اصلاح تو ٹھیک ہے مگر تنقید برائے تنقید اچھی بات نہیں ہے اور ذاتیات پہ نہیں اترنا چاہیئے یہ ایک بڑے لیڈر کے شایان شان نہیں ہے اگر کسی بھی قسم کا انقلاب أپ لانا چاہیں مگر وہ اللہ کے احکام کے منافی ہے تو اس انقلاب کا کوئی فائدہ نہیں ہے اصل انقلاب وہ ہے جو أپ کے کردار اور اخلاق میں نظر أئے اگر ایسا نہیں ہے تو انقلاب انقلاب کی رٹ لگانے سے انقلاب نہیں أتا بقول شاعر جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی اللہ کے احکا مات کے منافی ہے جو کچھ موجودہ حکومت کی پالیسیاں ہیں اور جو کچھ اسلام أباد کی سڑکوں پہ میوزیکل شوز ہو رہے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو صبح شام نچایا جا رہا ہے یہ راستہ اللہ سے بغاوت کا راستہ ہے اور اس ماحول سے تبدیلی تو کیا ہمارے ملک سے اللہ کی رحمتیں بھی اٹھ جائیں گی تبدیلیاں ہمیں اپنے رویوں ، سوچ، کردار اور پراگرس میں لانی چاہیئں أپ کو اختلاف ہے اس کو أئین و قانون کی روشنی میں حل کریں اچھے لیڈر کے لیے اپنی ذات سے بڑھ کر ملک کی سلامتی کی اہمیت ہوتی ہے ضد اور انا کے خول سے باہر أنا ضروری ہوتا ہے اللہ سے دعاگوں ہوں اہ ہمارے حکمرانوں، سیاسی اور غیر سیاسی لیڈران اور ہماری قوم کو ہدایت اور عقل کی دولت سے نوازے ہمیں اچھے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائے أمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: