منزلوں کا غم نہیں

تحریر: ارشداللہ

جماعت اسلامی پاکستان نے 74 برس پورے کرلیے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ 74 برس جماعت اسلامی کی کردار،عزیمت اور خدمت انسانیت سے بھرپور ہیں۔اس پورے سفر میں نشیب وفراز بھی ائے لیکن جماعت اسلامی نے اپنی راہ کھوٹی نہیں کی اور عزم ویقین سے اپنی منزل کی طرف گامزن رہی۔ اس سفر کے اغاز میں تحریک پاکستان کا معرکہ درپیش تھا اس وقت کے امیر مولانا مودودی رح نے کانگریسی متحدہ قومیت پر کاری ضرب لگا دی اور اپنی تحریروں اور تقریروں سے متحدہ قومیت کے بت کو پاش پاش کرکے تحریک پاکستان کے لئے فکری غذا فراہم کی۔قیام پاکستان کے فورا بعد بابائے قوم حضرت قائد اعظم رح نے مولانا مودودی کو دعوت دی کہ وہ ریڈیو پاکستان سے اسلامی نظریہ پر تقاریر کریں۔آج وہی تقریرں “نشری تقاریر” کی شکل میں جماعت اسلامی کی قیام پاکستان سے الفت ومحبت کا ائینہ دار ہیں۔

قیام پاکستان کے فورا بعد جماعت اسلامی نے نوازئدہ ملک میں بے سروساماں مہاجرین کی آباد کاری میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور آج تک وہی کردار الخدمت کی صورت میں متاثرین شمالی وزیرستان کے لئے بنوں میں قائم کیمپس کی شکل میں قوم کے سامنے ہیں۔سیاسی سفر میں جماعت اسلامی نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ کبھی سیاست سے فوائد سمیٹے۔ملک بھر میں پھیلے جماعت اسلامی کی منتخب بلدیاتی وپارلیمانی نمائندگان اس کی زندہ مثال ہے الحمد اللہ کسی ایک پر بھی کرپشن کا داغ اور الزام تک نہیں لگا ثم الحمد اللہ۔چاہے یہ کردار ختم نبوت تحریک میں مولانا مودوی رح کی پھانسی ہو یا ایوبی آمریت کے مقابل جمہوریت پسند قوتوں کے ساتھ مل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت ہو۔73 کی ائین کی تشکیل میں اہم کردار کا تو ایک زمانہ معترف ہے۔جنرل ضیاء کی آمریت میں کارکنان نے کوڑے کھائے لیکن اپنے مقصد سے انحراف نہیں کیا۔

نظریہ پاکستان کے لئے جماعت اسلامی نے ائینی جدوجہد کی اور آج تک کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ ملک کی جغرافیائی سرحدات کی حفاظت کا بیڑا بھی جماعت اسلامی نے اٹھایا ہے مشرقی پاکستان میں وطن عزیز کی سالمیت اوردفاع کے لئے جماعت اسلامی کے دس ہزار کارکنان نے اپنا لہو بہایا اور آج تک عبدالقادر ملا شہید کی صورت میں اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اور پھر کشمیروافغانستان میں دفاع وطن کے لئے بے لوث رضاکاروں کا کردار ادا کرتے ہوئے اسلام پر کٹ مریں۔ جس پر بجا طور پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور قوم کو فخر ہے۔جماعت اسلامی نے 74 برس کے عرصے میں صالح اجتماعیت کی فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور زندگی کے مختلف شعبوں کو وہ افراد کار مہیا کئے جن کے کردار کا ایک زمانہ معترف ہے۔یہ 74 برس کا سفر ایک زندہ وتابندہ سفر کے مانند ہے جس میں نفرت،تعصب،ذاتیات،بے اصولی اور طمع وحرص کا شائبہ بھی نہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ اس پاکیزہ اجتماعیت کو ہمیشہ قائم ودائم رکھے اور منزل کو آسان کردیں

منزلیں ائیں نہ ائیں،منزلوں کا غم نہیں

جس پہ چل نکلے ہیں بس وہ راستہ زندہ رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: