“حجاب عورت کا آئینہ”

تحریر : ثمینہ عباسی

اسلامی تہذیب کا دامن چھوڑنے والوں نے جب یہودی تہذیب کی گود میں پناہ لے کر جدیدیت کا سہارا لیا تو ان پر آذادی کے دروازے کھلتے گئے جس کا سب سے ذیادہ نقصان نسوانیت نے اٹھایا عورت جس کے معنی ہیں چھپی ھوئی چیز اس نے اپنی شخصیت کو بے حجابی کا تاج پہنا کر پہچان تک بھلا بھیٹی حجاب جسے عورت کے وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے حجاب جو عورت کی حیا کا آئینہ دار ہے اس کی پہچان کا محافظ ھے اس کے ایمان کی خوشبو ہے اور یہی عورت کی کامیابی اور سرخروئی کا راستہ ہے اس راستے پر اپنی بیٹیوں کا ہاتھ پکڑ کر چلیں تاکہ وہ راستہ نہ بھٹک سکیں حجاب کے فروغ کے لیئے ا یسی زنجیر بنائیں کہ باطل کی کوئی قوت اسے توڑ نہ سکے عورت کے تقدس کا جو معیار اسلام نے پیش کیا اس کے مطابق عورت کو حجاب کے احکامات کو اپنے اوپر فرض کر لینا چایئے کیونکہ بے حجابی کے میٹھے زہر نے مسلم دنیا کی خواتین کو موت کے دھانے پر لا کرکھڑا کیا جس نے معاشرے کا نقشہ ہی بدل ڈالا برقع اور چادر کی بحث میں ڈوپٹہ سے بھی آذادی اختیار کر لی عفت و عصمت ذمہ دار عورت اپنی حفاظت کی بھی خود ذمہ دار ھے جب اک عورت با پردہ نکلتی ھے معاشرے کی نظریں اس کے حجاب سے ٹکرا کر خالی لوٹ آتی ہیں اورتبصرہ نگار کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ھے عورت کو اپنی اہمیت کو مدنظر رکھتے ھوئے اسلامی اصولوں کی پیروی کرنی چایئے کیونکہ معاشرے کی تکمیل میں بنیادی فرض اسی کی زمہ داری ھے اسلام عورت کو تحفظ کے اصول سے اگاہ کرتا ہے اور وہ نطریں پھیر رہی ھے. قران پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اے نبی اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے چہروں پر نقاب ڈالا کریں بہت قریب ھے کہ وہ اس طرح نہ پہچانی جائیں اور نہ ستائی جایئں اللہ بخشنے والا اور مہربان ھے اس حکم کے بعد اس پر عمل مسلمان عورت پر فرض ھو جاتا ھے کہ وہ حجاب کو نہ صرف اپنے اوپر لاگو کرے بلکہ معاشرے میں حجاب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: