“وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ”

 تحریر : انعم احسن

حجاب محض ڈیڑھ گز کپڑے کے ٹکڑے کو سر پر لپیٹ لینے کا نام نہیں بلکہ ایک پورا اخلاقی نظام ہے جو ہماری پوری زندگی کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔نا صرف معاشرے کو پاکیزگی عطا کرتا ہے بلکہ عورت کو توقیر بخشتا ہے۔ہمارے ہاں جتنی قیمتی چیز ہوتی ہے اسے اتنا ہی لوگوں کی نظروں سے محفوظ رکھا جاتا ہے انسانی حیاء اور شرف ،اسی طرح عورت کا وجود بھی اللہ رب العزت نے بہت محترم اور قیمتی بنایا ہے اور اسے لوگوں کی نظروں سے محفوظ رکھنے کیلئے حجاب کے احکامات نازل کئے ہیں کہ صدف کا موتی بھی خلوت میں جنم پاتا ہے اور اسی میں بند ہو کر پرورش پاتا ہے لیکن دور حاضر نے انسان کے دینی جذنے کی گرمی کو سرد کر دیا ہے۔ عالمی یوم حجاب4ستمبر کو منانے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ مغربی معاشرہ مسلم معاشروں میں بڑھتی ہوئی دینی بیداری اور شعور کو دیکھ کرپہلے ہی خوفزدہ تھا اوریہ خوف 11ستمبر کے بعد دو گنا ہو گیا ۔ یہ انکا خوف ہی ہے کہ وہ جبراً مسلم خواتین کو پردہ کے استعمال سے دور رکھنا چاہتے ہیں اسی اثناء میں2 ستمبر 2003میں فرانس میں ہیڈ سکارف پر پابندی کا قانون منظورکیا گیا جسکی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی لہذا لندن کے میئر لونگ سٹون نے 12جولائی کو علامہ یوسف القرضاوی کے زیر صدارت ،امتِ مسلمہ کے سرکردہ علماء اور تحاریکِ اسلامی کے سربراہان کو بلا کر، ایک کانفرنس کا انقعاد کیا۔ جس میں 4ستمبر کو عالمی یومِ حجاب منانے کا اعلان کیاگیا۔ اسی طرح یومِ حجاب کو منانے میں ایک اور سانحہ محرک ہے کہ یکم جولائی 2009کو مروہ شرمینی کو جرمنی میں حجاب پہننے کے جرم میں بھری عدالت میں شہید کر دینے کاالمناک واقع پیش آیالیکن جرمن حکومت کی جانب ہے اس معاملے پر کوئی ایکشن نہ لیاگیا۔جس سے مسلمانوں کے جذبات کو شدید دھچکا لگا اوروہ اپنے آپ کو ترقی یافتہ ممالک میں انتہائی غیر محفوظ تصور کرنے لگے۔آج ملک بھر میں خواتین ،یومِ حجاب کومروا شرمینی کے ساتھ اظہارِ ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی کے طور پر مناتی ہیں ۔جسکے بعد تمام یورپی اور اسلامی تنظیموں نے فیصلہ کیا کہ ہر سال 4ستمبر کو انٹرنیشنل حجاب ڈے منایا جائیگا۔اس دن مسلم خواتین اس بات کا بھی اعادہ کرتی ہیں کہ حجاب اسلام کا عطا کردہ معیار، عزت و عصمت اور بنیادی حق ہے۔یہ کوئی پابندی یا جبر کی علامت نہیں بلکہ حکمِ خداوندی ہے اور حجاب کا پسماندگی اور دہشت گری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ یہ فخر اور وقارکی علامت ہے۔ موجودہ دور میں عالمی استعماری قوتوں نے امت مسلمہ پر تہذیبی یلغار کرتے ہوئے اسلامی شعار کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ فرانس، ہالینڈ اور ڈنمارک میں حجاب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ترکی جیسے ملک میں بھی یہ ایک گز ٹکڑا خطرناک علامت بنا ہوا ہے۔ با حجاب طالبات پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم خواتین کے اس بنیادی حق کو مد نظر رکھتے ہوئے انکے اس حق کے تحفظ اور حفاظت کیلئے اقدامات کئے جائیں۔اب وقت آگیا ہے کہ جس دین سے وابستگی کو ہم اپنی پہچان سمجھتے ہیں اسکا حق ادا کرتے ہوئے اسکی صحیح تعلیمات اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کو دکھانے میں اپنامثبت کردار اداکریں اور عام آدمی کو اسلامی قوانین سے واقف کروائیں۔ آزادی و حریت نسواں، آزادی رائے اور جمہوریت مغرب کی اقدار اور بنیادیں ہیں تو مسلمان عورتوں کو حجاب سے منع کرنا آخر انسانی حق کو چھیننا نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟؟ کیا کسی انسان کو زبردستی اس کی مرضی کے خلاف لباس پہنے پر مجبور کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔۔۔ ؟؟ آئین سازی کے ذریعہ سے مسلمان خواتین سے یہ حق چھینے والے کیا مہذب دنیا کے ٹھیکدار کہلانے کے قابل ہیں؟؟صرف پردہ کی وجہ سے عورت کو معاشرے سے دور رکھنے یا عورت کو قید کرنے کی نشانی سمجھنا بھی مغرب کی لاعلمی ہی قرار دیا جا سکتا ہے، علاوہ ازیں مسلمان ممالک میں اسلام کے زریں اصول غیر مسلموں کو اپنی مذہبی رسومات اور لباس کی مکمل آزادی کیساتھ حکومتِ وقت کو ان کی حفاظت کا پابند کرتا ہے۔ مغرب میں عورت کی عزت وقارکا جو معیار و پیمانہ ہے وہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے یکسر مختلف ہے۔ اس وقت پاکستانی معاشرہ کس طر ف جارہا ہے اور کیاسوچ رہاہے؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن مجھے ان دانشوروں پر ترس آتا ہے جو پاکستانی ثقافت کو ہندوستانی ثقافت سے نتھی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بے شک پاکستان چونسٹھ سال پہلے وجود میں آیا ہے لیکن میرا وطن سندھی، پختون، پنجابی، سرائیکی، بلوچی ثقافتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ اور مجموعہ ہے،جس میں ننگے سر، کھلے بال، بغیر دوپٹہ خاتون، نیم برہنہ بدن کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ یہ پہلو انتہائی غور طلب ہے کہ ایک طرف فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں مسلمان روایات اور شعائر کو آئین سازی کے ذریعے مسخ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ہمارے ہاں معاشرے میں مغربی اور ہندو روایات و کلچر کو کھلے عام میڈیا کے مختلف ذرائع سے سمویا جارہا ہے، جو قومیں دوسروں کی روایات، رہن سہن اور ثقافت کو اپنانے کی کوشش کرتی ہیں و ہ کوے کی طرح اپنی چال(اپنی شناخت اور پہچان) بھول جاتی ہیں.

1 Comment
  1. 22 January, 2015
    سید امجد حسین بخاری

    محترمہ آپ کی تحریر بہت خوبصورت ہے ، مگر کیا اسلام نے جو مقام عورت کو بخشا ہے موجودہ دور کی عورت اس مقام کو کھو نہیں رہی؟
    کیا لبرل اور فاسشٹ عورت کو تشہیر کا ذریعہ بنانے کے حامی بن کر اس کو وہ مقام دے پائیں گے؟

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: