“تم پہچان لی جاو”

تحریر : اسریٰ غوری

مشرف دور تھا ایکسپو 2001 کے پرگرامات ہورہے تھے ہم بھی مدعو تھے انہیں میں سے ایک صدر مشرف کے ساتھ ڈنر کا بھی تھا جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے صاحب کے دوستوں کی فیملیز نے دیکھا کہ حجاب اور عبایا میں تو کہنے لگیں کہیں کہیں اتار بھی دیتے ہیں یہاں آپ کو اتنے بڑے فنکشن میں کوئی اور خاتون حجاب میں نظر آرہی ہے ؟؟
میں پہلے تو چونکی کہ یہ انہوں نے کہا کیا پھر مسکرا کر انہیں کہا میرا حجاب میرا فخر اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں جسے شرمندگی لگے وہ میرے ساتھ نہ بیٹھے ۔۔ ان کی بات کے بعد جب میں نے غور کیا تو واقعی سینکڑوں کے اس فیملی ڈنر میں ایک بھی حجابی نہیں تھی مگر میں الحمدللہ اس کو بھی اپنے لیے باعث فخر ہی سمجھتی رہی اور بہت اعتماد کیساتھ شریک رہی ۔
کچھ ہی دیر بعد صاحب کے ایک دوست بیگم میرے پاس آئیں باتیں کرتے ہوئے اچانک دیکھا کہ مشرف بلکل قریب ہی خواتین کے درمیان کھڑے نظر آئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کھنچتی ہوئی بولی آو زرا انکی غلط پالیسیز پر ان سے سوالات کرتے ہیں میرا جواب سنے بغیر ہی وہ چلتی گئی اور مشرف کے سامنے جاکھڑی ہوئی میں نے دیکھا وہی مشرف جو ہر آنے والی خاتون سے ہاتھ ملا رہا تھا اور خواتین بلکل ساتھ ساتھ لگ کر تصوریریں بنا رہیں تھیں اس نے جوں ہی دیکھا ایک حجاب والی خاتون اسکے سامنے ہے ایک دم اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب کیے اور جاپانیوں کے سٹائل میں دوبار جھکا اور سلام کیا ساتھ کھڑی خواتین بھی حیرت زدہ ہوئیں میری ساتھ جو خاتون تھیں وہ مشرف سے سوالات کرنے لگیں اور میں اپنے رب کے دیے ہوئے اس اعزاز کے ساتھ شکر ادا کرتی رہی کہ میرے پیارے اللہ ربی کی یہ آیت کتنی پیاری اور سچی کہ تم پہچان لی جاو اور پھر تم سے کوئی وہ امید ہی نا رکھے گا جو دوسروں سے رکھی جاتی ہیں ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: