ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور !!

تحریر: اسریٰ غوری

حرم کی چھت پر کھڑے عشاء کی اذان کیساتھ نیچے طواف کا ایسا پر نور منظر کہ جیسے سماعتوں میں بھی نور ہی نور اور بصارتیں عاشقان خدا کی دیوانگی اور ورفتگی پر حیرت زدہ اور مبہوت ۔۔۔۔۔ایسی خوبصورت اذان کی آواز دلوں میں اترتی چلی جائے ۔۔۔۔
“اچانک ہی لبوں سے دل کی خواہش سراپا دعا بن گئی ۔۔۔۔۔” یارب میرے بھی شہزادوں کو ایسی ہی خوبصورت اذانیں دینے والا بنائے گا “
جب  حج کی سعادت حاصل کر کے خوبصورت یادیں ساتھ لیے واپس لوٹی تو سب ہی اپنے اپنے لیے تحائف کیساتھ دعاوں کا بھی پوچھتے رہے ۔۔۔

جب( سات سالہ) ارسل اور( پانچ سالہ) ارقم کی باری آئی تو میں نے کہا آپ دونوں کے لیے تو بہت ہی خاص دعا مانگ کر آئی ہیں ماما ۔۔ دونوں ہی بڑے تجسس میں کہ  ایسا کیا مانگا ؟
پھر میں نے بتایا کہ وہاں کی اذان اور وہ طواف کا وہ منظر ایسا پرنور تھا کہ میں نے آپ دونوں کے لیے یہی دعا مانگی کہ اللہ پاک آپ دونوں کو بھی ایسی  ہی خوبصورت آواز میں اپنی طرف بلانے والا بنائے ۔۔ دونوں نے ہی غور سے سنی اور خوش بھی اور حیران بھی یہ کیسی دعا مانگی ہے ماما نے ۔۔۔
کئی دنوں سے ارسل عصر کے وقت مدرسے سے آکر غائب ہوجاتا پھر مغرب کے بعد ہی آتا میں پریشان ہونے لگی کہ یہ کہاں جانے لگا ہے۔
خیر ایک دن اردلی کو پیچھے بھیجا کہ دیکھو ذرا کہ یہ کہاں جاتا ہے وہ بھی مغرب تک غائب اور مغرب پر دونوں ساتھ آئے۔ پوچھنے پر پتایا کہ باجی یہ محلے کی مسجد میں چلا جاتا ہے عصر کی نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے اس لیے تاکہ مغرب کی اذان یہ دے سکے اور پھر مغرب پڑھ کر آتا ہے ۔

ایک لمحے کو مجھے محسوس ہوا کہ گویا میں وہیں  ہوں حرم کی چھت پر اور آنکھیں بند کیے بس ایک ہی دعا کیے جارہی ہوں ۔۔۔۔ میں نے ارسل کو محبت سے بھینچ لیا اور کہا مجھے کیوں نہیں بتایا کہ اذان دینے جاتے ہو میں بھی سنتی نا اپنے شہزادے کی اذان اب کل مجھے بتا کر جانا وہ بھی بہت خوش ہوا اس پذیرائی اور محبت ملنے پر دوسرے دن وہ مدرسے سے جلدی آگیا تاکہ عصر کی بھی اذان وہی دے سکے اور آتے ہی آوازیں لگائیں ماما ماما سنیں اب آپ سنیے گا میں اذان دینے مسجد جارہا ہوں ۔۔۔
میں نے ڈھیر سارا پیار کیا بہت ساری دعائیں کی اسے بھیج دیا اور خود اس روم میں کھڑکی کیساتھ جا کھڑی ہوئی جہاں اذان کی آواز بلکل کلئیر آتی تھی اس نے سائیکل پکڑی اور مسجد دوڑ گیا کچھ ہی دیر میں ایک بہت ہی پیاری آواز جیسے دل میں اتر رہی تھی سات سال کا ارسل اپنی معصوم سی آواز میں پورا کھو کراذان دے رہا تھا میرے آنسو جاری تھے اللہ سے بس یہی دعا کرتی رہی کہ اللہ پاک اسے ہمیشہ ایسے ہی اپنا اور اپنے درکا عاشق بنایئے گا اپنی راہ کا مجاہد بنایئے گا۔
عصر کی نماز پڑھ کے وہ دوڑتا ہوا آیا چہرے پر ایک خوشی اور چمک آتے ہی سوال :
کیسی تھی اذان ماما ؟
میں نے اپنے ساتھ لگایا ماتھے پر پیار کیا اور کہا :
اتنی پیاری اتنی پیاری کہ ماما نے آج تک اتنی پیاری آواز نہیں سنی ۔۔اور یہ حقیقت تھی ایک سات سال کے بچے کی آواز جو بلکل اس میں گم ہوجائے ایسی پاکیزہ آواز تھی جو میں نے کبھی نہیں سنی تھی ۔
وہ مجھ سے پیار وصول کر کے پھر مغرب کی اذان کے لیے دوڑ گیا ۔۔۔
کئی روز یہی سلسہ چلتا وہ مجھے بتا کر جاتا میں کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوتی اور اسکی اذان سنتی اور دعائیں کرتی ۔۔۔
ابھی اس کچھ ہی دن ہوئے تھے اس روٹین میں کہ ایک دن وہ آیا تو بلکل مرجھایا ہوا اذان بھی اس کی نہیں تھی ۔
میں نے پریشانی سے اسکا چہرہ ہاتھ میں تھاما اور پیار سے پوچھا کیا میرے شہزادے کو ؟ اور آج آپ نے آذان بھی نہیں دی کیوں ؟
ٹوٹے ٹوٹے لہجے میں بتانے لگا کہ ماما وہ “بڑے قاری “صاحب آگئے مسجد میں انہوں نے مائک اوپر کردیا اور کہا کہ تمہارا قد ابھی چھوٹا ہے تو تم اذان نہین دے سکتے ۔۔۔
میں نے سمجھایا کوئی بات نہیں بابا بات کرلینگے مگر وہ مرجھایا ہی رہا ۔۔
مگر دوسرے دن بھی وہ اسی طرح جلدی پہنچا اور آج اسی کی معصوم آواز تھی میں نے شکر ادا کیا کہ آج وہ خوش ہوگا ۔۔واپس آیا تو بہت خوش ماما میں نے قاری صاحب کے جانے سے پہلے ہی ایک چھوٹا اسٹول رکھ کر اذان دے دی ۔۔۔
اسکی اذان سے محبت بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔ اور جہاں پہلے پوری مسجد میں اتنا چھوٹا بچہ وہی ایک ہوتا جو فجر بھی باجماعت پڑھتا اب محلے کے اور بھی بچے مسجد بھی جانے لگے اور اذان دینے کی بھی کوشش کرنے لگے ارسل اس پر زرا جز بز کرتا کہ اس کے علاوہ کوئی بچہ اذان کیوں دے پھر میں نےاسے کو سمجھایا دیکھو ایک وقت کی اذان آپ دے دو اور دوسرے وقت کی اپنے دوست کو دینے دیا کرو اس طرح وہ بھی اگر مسجد آنے لگے گا تو آپ کو بھی ثواب ملے گا اسے یہ بات سمجھ آگئی تھی اور اب محلے کے اکثر بچے مسجد شوق سے جانے لگے تھے ۔۔
کچھ دن ایسے گزرے پھر ایک دن آیا تو وہی چہرہ اترا ہوا کہ اب بڑے قاری صاحب نے کہا کہ اب کوئی بچہ اذان نہیں دے گا اور صرف موذن صاحب ہی اذان دینگے ۔۔۔
چھوٹا سا دل بہت ہی دلبرداشتہ میں نے اس کے بابا سے کہا آپ جاکر بات کریں بچے کو اذان سے مسجد سے جو محبت ہوگئی ہے اسے اس سے دور نہ کریں ایسا رویہ اسے مسجد سے بھی دور کردے گا ۔۔۔ وہ بھی گئے “بڑے قاری ” صاحب سے بھی بات کی مگر ایک دو مرتبہ کے بعد پھر وہی رویہ اور پھر سختی سے روکا جانے لگا ۔۔۔
اور اسکا نتیجہ وہی ہوا جس کا مجھے خوف تھا کہ وہ بچہ جو اپنے کھیل کا وقت بھی اذان کی محبت میں مسجد میں گزارتا تھا وہ اب مشکل سے صرف نماز ادا کرنے کے لیے جاتا ۔۔۔۔اور میں اسے بہت سمجھاتی بھی مگر معصوم دل کو جو ٹھیس پہنچی اسے دیکھ دیکھ کر اور “بڑے قاری ” صاحبوں کے رویوں پر کڑھتی جو ہماری نئی نسل کو دین کے نام پر کیسے دور کر رہے ہیں اور ہمیں اس کا شعور تک نہیں ۔۔۔ ہمارا المیہ یہ ہیکہ ہم نے اپنا دین ان کے حوالے کردیا جنہیں خود بھی اس کی سمجھ نہیں ایک بار کہیں ایک سروے پڑھا تھا جس میں لکھا تھا کہ پورے پاکستان میں موجود مسجدوں میں جو خطیب صاحبان ہیں ان میں سے نوے فیصد کو سورۃ فاتحہ کا ترجمہ بھی نہیں معلوم خود سوچیے کبھی آپ نے کسی ادارے میں ملازمت کا اشتہار دیکھا ہے جہاں لکھا ہوتا ہے ان ان زبانوں پر عبور ہونا اور یہ اور یہ کوالیفیکیشن لازمی ہے اور ہم اسی فکر میں اپنے بچے کو پلے گروپ سے ایسی زبانوں کا ماہر بنانے کی تگ و دو کرتے نظر آتے ہین کہ کہیں وہ اس دوڑ میں پیچھے نا رہ جائے ۔۔۔
مگر دین کن کے حوالے ؟؟؟
جن کا دین ان کی دستاروں ، ان کی پگھڑیوں ، اور انکے جبوں تک قید ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

کیا خوب کہہ گئے علامہ

جنوں میرا پیشہ میرا طاق نسیاں اور
کہتا درویش ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور


اب آپ ہی سوچیں جن مسجدوں میں کبھی بچوں کو شارٹ پہن کر آنے پر(جبکہ ستر مکمل ہو ) کسی کو مسجد سے باہر کردیں تو کبھی سب سے پہلے اگلی صفوں کے شوق میں آنے والے بچوں کو ہاتھ پکڑ کر آخری صفوں میں کھڑا کردیں اور کبھی سر پر ٹوپی  نا ہونے کی وجہ سے بھری مسجد میں تذلیل کردیں تو خود ہی سوچیں کہ جب نئی نسل کو مسجدوں میں جگہ نہیں مل سکے گی اور وہ پھر کنسرٹس اور میوزک میں پناہ تلاش کرےگی پھر ہم کہتے ہیں کہ مسجدوں صرف بزرگ ہی نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ تو یہ ہمارے  ہی سوچنے کی بات ہےکہ ایسا کیوں ہے ؟؟؟؟

ہم نے کیوں مسجدوں میں جانا اتنا مشکل بنادیا ؟؟؟

خدارا اپنی نسلوں کے دین کی بھی ایسی ہی حفاظت کیجیے جیسے آپ ان کی دنیا کی فکر کرتے ہیں انہیں ان مسجدوں سے دور نہیں کیجیے  !!

!!انہیں مسجدوں سے محبت کرنا سکھایئے  اذان اور امامت کا شوق پیدا کیجیے اور یہ تب ہی ہوگا جب آپ انہیں یہ مواقع فراہم کرینگے  انہیں دور دھکیلنے سے نہیں ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: